مودی حکومت ’سنٹرل وسٹا‘منصوبے سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں،کورٹ میں درخواست ڈالنے والوں کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا

نئی دہلی:مرکزنے دہلی ہائی کورٹ کو بتایاہے کہ عالمی وباکے بڑھتے ہوئے کیسزکے درمیان یہاں سنٹرل وسٹاکی تعمیرپرروکنے کی درخواست سرکاری منصوبے میں خلل ڈالنے کے لیے داخل کی گئی ہے۔مرکزنے الزام لگایاہے کہ درخواست داخل کرنے کاارادہ اس حقیقت سے واضح ہے کہ درخواست گزاروں نے اسی منصوبے پرسوال اٹھایا ہے جبکہ دہلی میٹرو سمیت متعدد دیگرایجنسیاں قومی دارالحکومت میں کام کررہی ہیں۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جسسمیت سنگھ کی بنچ نے کہاہے کہ چونکہ مرکز کا حلف نامہ ابھی ریکارڈپرنہیں ہے ، اس کیس کی سماعت 12 مئی کو ہوگی۔عدالت نے درخواست گزارانیا ملہوترا اور سہیل ہاشمی کی جلد سماعت کے لیے بھی درخواست منظور کرلی۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ ضروری سرگرمی نہیں ہے لہٰذا اس وبا کے بعد اس کو روک دیاجاسکتا ہے۔مرکزی حکومت نے 10 مئی کو دائر حلف نامے میں کہا ہے کہ دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی ایم اے)نے موجودہ کرفیو کے دوران تعمیراتی سرگرمیوں کی اجازت دی ہے اور مزدور تعمیراتی جگہ پر قیام پذیر ہیں۔مرکز نے کہاہے کہ مزدور 19 اپریل کو کرفیو نافذ کرنے سے پہلے ہی اس کام میں مصروف تھے۔سوشل میڈیاپرسرکارکوگھیراجارہاہے کہ جب پوری دنیاسے بھارت مددلے رہاہے توایسے میں بیس ہزارکروڑصرف کرناغیراخلاقی اورغیرانسانی ہے۔جب لوگوں کوویکسین نہیں مل رہی ہے،سلینڈرنہیں مل رہے ہیں،سرکارفیل ہے توصرف سنٹرل وسٹاپروجیکٹ پررقم خرچ کرناغیرانسانی ہوگا۔