مودی حکومت غریبوں اورکسانوں سے سستی بجلی کا حق چھینا چاہتی ہے:اویسی

نئی دہلی :مرکزکے تین نئے زرعی قوانین کے ساتھ ہی ، کسان بجلی کے قوانین میں مجوزہ ترمیم کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کسانوں کو خوف ہے کہ مجوزہ ترمیم سے بجلی پر ملنے والی سبسڈی ختم ہوجائے گی۔ اپوزیشن بجلی ایکٹ میں ترمیم کی بھی مخالفت کر رہی ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے الزام لگایا ہے کہ حکومت کسانوں سے بجلی کے حق کو چھوٹی شرح پرچھینناچاہتی ہے۔ اویسی نے منگل کو اپنے ٹویٹ میں لکھاہے کہ حقیقت اس حکومت کے کہنے کے خلاف ہے۔ بجلی بل کے ذریعے کراس سبسڈی ختم کرنے کی تجویزہے۔ بہت ساری ریاستیں کسانوں کو مفت بجلی دے رہی ہیں ، یہ بل اس میں تبدیلی لاناچاہتاہے۔ اور چاہتا ہے کہ کسان بجلی کے لیے زیادہ قیمت اداکریں۔انھوں نے اگلے ٹویٹ میں کہاہے کہ فی الحال غریب خاندان رعایتی نرخوں پر ادائیگی کر رہے ہیں اور اس کی قیمت صنعتی / تجارتی صارفین سے وصول کی جارہی ہے۔ اب بی جے پی کسانوں ، غریب افراد اور دیگر گھریلو صارفین کوبھی کمرشیل چاہتی ہے ۔دراصل کسان پریشان ہیں کہ بجلی کے قانون میں ترمیم کرکے بجلی کی سبسڈی کے موجودہ نظام کو تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔حکومت نے کہاہے کہ اس ترمیم کے بارے میں کاشتکاروں کو پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔بجلی کے وزیر آر کے سنگھ نے کہاہے کہ بجلی سے متعلق ترمیمی بل سے کسانوں کا خوف بے بنیاد ہے۔ بل میں کسانوں کو دی جانے والی بجلی سبسڈی کے موجودہ نظام کو تبدیل کرنے کا کوئی بندوبست یاتجویزنہیں ہے۔ اس طرح کی بجلی کی سبسڈی ملتی رہے گی۔