مودی بنیادپرستوں کومطمئن کرنے کے لیے الفاظ سے کھیل رہے ہیں:گلوبل ٹائمز

بیجنگ:لداخ کی وادی گلوان میں پرتشدد تصادم کے بعد ، چین کا سرکاری میڈیا بھارت پر الزامات لگانے پرتلا ہوا ہے۔ اس بار گلوبل ٹائمز نے لکھاہے کہ مودی کے کے بیان سے چین کو مورد الزام ٹھہرانے کی اخلاقی بنیادختم ہوگئی۔ یہ بیان تناؤکوکم کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔کل جماعتی میٹنگ میں مودی نے ایک بیان دیا تھا کہ نہ تو کوئی ہماری سرحد میں داخل ہوا اور نہ ہی کسی نے ہماری چوکی پرقبضہ کیا۔ ا س بیان کواپوزیشن چین کی تائیداوراس کوکلین چٹ کے مترادف بتارہاہے۔اس کے ساتھ ہی گلوبل ٹائمز نے 40 چینی فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں کہاہے کہ مودی سرکار اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے ایسی بات کر رہی ہے۔ چین نے بھی نہیں چاہتاکہ تنازعہ اوربڑھے ۔اس لیے چین اپنی طرف سے ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتارہاہے۔چین میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد 20 سے کم ہے۔ اگر ہم نمبر بتاتے ہیں تو ہندوستان ایک بار پھر دباؤمیں آجائے گا۔ہندوستان کے اندر قوم پرستی کا احساس تیزی سے بڑھا ہے اور چین کے خلاف تیزی سے احتجاج بڑھ گیاہے۔بھارت کو گھر میں پیدا ہونے والی قوم پرستی کومطمئن کرناچاہیے۔ہندوستانی حکومت کی طرف سے کسی بھی طرح کی کارروائی کے لیے تیاررہنے پراس نے کہاہے کہ مودی اپنے ملک کے قوم پرستوں اور بنیاد پرستوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مودی اپنے ملک کے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے الفاظ کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ در حقیقت ، وہ اپنی فوج کوایک اور تنازعہ کی اجازت نہیں دے سکتے۔ چین کی قابلیت نہ صرف فوجی معاملات میں بھارت سے بہترہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کا زیادہ اثرہے۔اس موقع پر ، ہندوستان میں قوم پرستی عام ہے۔ ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر پاکستان اور دوسرے ہمسایہ ممالک کا معاملہ ہوتا تو بھارت دباؤ میں کچھ اقدامات کرلیتا ، لیکن جب چین کی بات آتی ہے تو سب کچھ بدل جاتا ہے۔گلوبل ٹائمز نے ہندوستانی ماہر معاشیات سوامی ناتھن ایئر کا بیان بھی شائع کیاہے کہ چین فوجی اورمعاشی میدان میں بھارت سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اگر تصادم ایک بار پھر ہوا تو ہندوستان کو 1962 کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ نقصان ہوگا۔بھارت کے اندر سے بھی بہت ساری آوازیں آئی ہیں ، جومودی سے پوچھ رہے ہیں کہ وہ سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی غلطیوں کو چینی محاذپر نہ دہرائیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*