مبارک پور نامہ(2)ـ ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

 

RLSY.College, Bettiah(Muz.)

مبارک پور کا جغرافیہ :
بہار کے ضلع سہرسہ کے بلاک سلکھوا کا ایک مشہور گاؤں ہے۔ کوپریا سے سمری بختیارپور جانے والی ریلوے لائن سے مشرق کی جانب یہ بستی آباد ہے۔اس کے شمال میں گھوڑ دوڑ اور پورینی ہے ، جنوب میں سلکھوا اور مشرق میں سربیلا ہے ۔ اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ مبارک پور سے بالکل لگی ہوئی کوئی بستی نہیں ہے ۔ جن مواضعات کا اوپر ذکر ہوا ہے وہ شمال و جنوب کی سمت میں ہیں جہاں مبارک پور سے جانے کے لیے ہرے بھرے کھیتوں کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ پندرہ بیس سال قبل یہاں سے اسٹیشن یا دوسری بستیوں میں جانے کے لیے پیدل ، سائیکل یا سیلاب کے زمانے میں چھوٹی کشتیوں کا ذریعہ ہوتا تھا اور مال برداری کے لیے عموماً گھوڑوں کو کام میں لایا جاتا تھا،خدا نخواستہ اگر کوئی زیادہ بیمار پڑجائے اور اسے ہسپتال لے جانے کی ضرورت آن پڑے تو چار کاندھوں پر ایک کھٹیا (چارپائی)اور کھٹیا پر مریض ہوتا ، یہی اس وقت کی ایمولینس تھی،لیکن آج حالات یکسر بدل چکے ہیں، ایک گاؤں کو دوسرے گاؤں سے جوڑنے کے لیے پختہ سڑکیں بن چکی ہیں اورسواری کے لیے آٹو رکشہ وغیرہ بآسانی دستیاب ہیں۔ یہ تفصیل صرف مبارک پور کی ہے ، اس کے دوسرےمحلے گھسک پور اور گوٹ ٹولی(گوالوں کا ٹولہ)اس میں شامل نہیں ہے ، اسی گوٹ ٹولی میں ایک ڈاکخانہ بھی ہے ، پچیس سال پہلے لچھمی نام کے اس کے پوسٹ مین ہواکرتے تھے جو اردو زبان سے واقف تھے۔اس وقت عموماً روٹیاں کھپڑی (مٹی کے برتن ) میں اور گوشت و مچھلی تِلائی (مٹی کی ہانڈی)میں پکائی جاتی تھیں۔ اس وقت پوری بستی میں تین چار کیرانے کی دکانیں تھیں اور بس ، دیگر ضروریات کے لیے عموماً لوگ سلکھوا کے بجائے سمری بختیار پور ہی کا رخ کرتے اس لیے کہ وہ بڑا بازار تھا ۔گاؤں میں دو ماہر ین ِ فن خیاط بھی تھے ۔ ایک حافظ مشتاق احمد صاحب اور دوسرےعبد الشکور صاحب کے لڑکے ارشد بھائی ۔ہومیوپیتھ کے ایک ڈاکٹر محمد ابراہیم مرحوم تھے جن کے دروازے ہی پہ ان کا مطب بھی تھا اور ایک آدھے داکٹر ” نیتا”صاحب بھی تھے اور تیسرے مدرسہ کے ایک فاضل استاذ ماسٹر محمد طاہر مرحوم بھی جز وقتی ڈاکٹری (ہومیوپیتھ) کر لیا کرتے تھے۔
یہاں کی خاص فصل دھان ہے۔ یہاں مچھلیوں کی بھی بڑی فراوانی ہوا کرتی تھی، بہت سستی، ہر روز اور ہر جگہ ملا کرتیں۔
23 ستمبر 1993کو بغرض تعلیم میں وہاں پہنچا اوربڑے بھائی صاحب سید قاری منظر الحسن صاحب چند ماہ پہلے ہی سے مدرسہ اسلامیہ محمودیہ کے استاذِ حفظ و قرات مقرر ہوچکے تھے ۔ جب میں نے اس بستی میں قدم رکھا تو ایک نئے جہان کا مشاہدہ کیا ، سیلاب کا زمانہ تھا ، تاحدِ نگاہ ہر طرف پانی ہی پانی۔ ہر گھر کے صحن و دروازے اور تمام راستے جل تھل، مسجد کی دہلیز کی قدم بوسی کرتا سیلاب کا پانی۔اسی مسجد کی جانبِ مشرق ایک گہرا کنڈاور مدرسہ کی جانب ِ مغرب ایک تالاب۔ بلکہ مدرسے کے جنوب میں بھی ایک پوکھر ، پورا گاؤں ہرے بھرے کھیتوں سے گھرا ہوا ہے لیکن سیلاب کے زمانے میں یہی سبزہ زار سمندر کا سماں پیش کرتےاور ایسا محسوس ہوتا گویا پوری بستی کسی جزیرے میں آباد ہے۔مشرق محلے کو مغرب محلے سے جوڑنے والا جو راستہ اور پل ہوتا وہ سیلاب کے ریلے کی تاب نہ لاکر اپنے ہاتھ کھڑے کردیتا اور گزرتے راہگیروں کا اچھا خاصا تماشا بنتا اورتماشہ بینوں کے لیے تفریح کا ایک اچھا ذریعہ ہاتھ لگ جاتا ۔