ماب لنچنگز:آپ اپنا دفاع کیوں نہیں کرتے؟ ـ شکیل رشید

یہ اچانک ماب لنچنگ کے واقعات میں تیزی کیوں آ گئی ہے؟ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کوئی چار وارداتیں ہو چکی ہیں ۔ نوجوان باسط علی کو درخت سے باندھ کر، وہ بھی پولیس کے سامنے بری طرح سے مارا پیٹا گیا اور اسپتال لے جانے تک اس کی موت ہو گئی ۔ الزام چوری کا تھا وہ بھی جھوٹا ۔ یہ بریلی کا واقعہ ہے ۔ دوسرا واقعہ دہلی کے اطراف میں ایک کیب ڈرائیور محمد آفتاب کے ساتھ پیش آیا ۔ دو افراد نے لفٹ لی اور کہا کہ جے شری رام کا نعرہ لگاو، نعرہ نہ لگانے پر محمد آفتاب کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا ۔ تیسرا واقعہ پانی پت کا ہے جہاں سہارنپور سے کام کی تلاش میں گیے اخلاق سلمانی کا دایاں ہاتھ کاٹ ڈالا گیا، صرف اس لیے کہ ہاتھ پر سات سو چھیاسی لکھا ہوا تھا ۔ اور ایک واقعہ یوپی کی راجدھانی لکھنئو سے قریب کے ضلع سیتا پور کا ہے جہاں ایک بزرگ مولانا نصیرالدین کو گھر کے اندر گھس کر بری طرح سے مارا پیٹا اور دھمکایا گیا ۔یہ واقعات تو وہ ہیں جو سامنے آئے ہیں، نہ سامنے آنے والے واقعات کا کوئی اندازہ نہیں ہے ۔

اتر پردیش اور بہار میں اس طرح کے واقعات اب روز ہو رہے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو زیادہ درست ہوگا کہ ملک بھر میں ایسے واقعات میں ان دنوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ آخر کیوں بند ہونے کے بعد ماب لنچنگ کے واقعات پھر سے، وہ بھی تیزی سے، شروع ہوئے ہیں؟ کیا بہار کے اسمبلی انتخابات کی وجہ سے کہ مسلمانوں کو خوفزدہ اور دہشت زدہ کرکے ووٹ ڈالنے سے ہی روک دیا جائے، یا یہ مآب لنچنگ کے واقعات یہ پیغام دینے کے لیے ہیں کہ چاہے جتنے مظاہرے اور احتجاج کرلو مار پیٹ اور لنچنگ ہی تمہاری قسمت ہے کیونکہ تمہاری شہریت مشکوک ہے اور ملک کے حاشئے میں بھی تمہاری جگہ نہیں ہے یا ان واقعات سے یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ ملک ہندو راشٹر کی راہ پر چل پڑا ہے اب یہاں اقلیت کسی کھیت کی مولی نہیں ہیں، بےحیشیت ہیں، جب جس کی مرضی انہیں مارے یا کاٹے !! یہ سوال اس لیے دریافت کیے جارہے ہیں کہ تمام تر نفرت اور تشدد کے باوجود مرکزی سرکار کا دعویٰ یہی ہے کہ یہ ایک جمہوری سیکولر ملک ہے ۔ سب جانتے ہیں کہ یہ دعویٰ جھوٹا ہے ۔

اگر دعویٰ سچ ہوتا تو اب تک مآب لنچنگ کے خلاف مرکزی سرکار قانون بنا چکی ہوتی ۔ سپریم کورٹ نے توبہت پہلے کہہ دیا ہے کہ ان واقعات کو روکا جائے، قانون بنایا جائے ۔ چند ریاستوں میں قانون بنا بھی ہے مگر لولا لنگڑا ۔اس طرح کی وارداتوں کو روکنے کے لیے سخت مرکزی قانون کی ضرورت ہے ۔ لیکن کسے پڑی ہے قانون بنانے یا قانون بنوانے کے لیے آواز اٹھانے کی ! مارے تو مسلمان یا دلت جا رہے ہیں، کیا ضرورت ہے ان کی حفاظت کی ! پھر یہ نریندر مودی کی سرکار، یہ کہاں سے قانون بنا سکتی ہے، یہ تو مآب لنچنگ کرنے والوں کی پشت پناہ ہے ۔ ثبوت کے طور پر جئنت سنہا کی مثال لے لیں، یہ بی جے پی کے ہزاری باغ سے رکن پارلیمنٹ ہیں، ان دنوں فائنانس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے جئر پرسن ہیں، پہلے مرکزی وزیر تھے، یہ وہی جئنت سنہا ہیں جنہوں نے لنچنگ کے چار ملزمین کو اس وقت ہار پھول پہنایا تھا جب وہ ضمانت پر باہر آئے تھے ۔ ایسے اور واقعات ہیں مثلاً دادری کے محمد اخلاق کے قاتلوں کی پزیرائی، ایک قاتل کی موت پر اس کی ارتھی پر ترنگے کا لپیٹنا اور بی جے پی کے سیاستدانوں کا شریک ہونا ۔ تو بی جے پی تو کچھ نہیں کرنے والی، وزیراعظم مودی کچھ نہیں بولنے والے، دوسری سیاسی پارٹیوں بشمول کانگریس کو کوئی پروا نہیں ۔یہ کانگریس ہے جو آج تک فساد مخالف قانون نہیں بنا سکی ہے، بنانا ہی نہیں چاہتی ۔ تو کیا کیا جائے ۔ میرے خیال میں سب سے بہتر صورت دفاع ہے، قانون یہ حق دیتا ہے ۔ کوئی مارنے آئے تو، اسے ماریں نہیں ہاں اپنا دفاع ہر صورت میں کریں ۔ اب ڈر کر بیٹھنے سے کام نہیں چلے گا، اب سامنے آنا ہوگا، دفاع کرنا ہوگا، دیکھئے گا کہ بہت سارے برادران وطن، دلت اور پچھڑے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے ۔ ایک بات مزید، ملی تنظیموں کومتحد ہو کر ان کے خلاف جو لنچنگ کے قصوروار ہیں قانونی جنگ لڑنا ہوگی، وہ بھی مضبوطی کے ساتھ ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)