ماب لنچنگ کرنے والے ہندوتوا کے مخالف،ہندوستان میں مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں:موہن بھاگوت

نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ لنچنگ کرنے والے ہندوتوا کے مخالف ہیں۔ وہ میوار انسٹی ٹیوٹ،غازی آباد میں سابق وزیر اعظم نرسمہاراؤ کے مشیر رہ چکے خواجہ افتخار احمد کے ذریعے لکھی گئی کتاب’’ذہنی و فکری ہم آہنگی‘’ کی تقریب اجرا سے خطاب کررہے تھے۔ یہ کتاب ایک ساتھ انگریزی،ہندی اور اردو زبانوں میں شائع ہوئی ہے۔انھوں نے موجودہ سیاست کو قومی اتحاد کو ختم کرنے کا ایک ہتھیار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں بسنے والے تمام لوگوں کا ڈی این اے ایک ہے خواہ ان کا مذہب کچھ بھی ہو۔ مسلمانوں کو خوف کے اس چکر میں نہیں پڑنا چاہئے کہ ہندوستان میں اسلام خطرے میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان اس ملک میں نہیں رہ سکتے وہ ہندو نہیں ہوسکتے۔

مسلم راشٹریہ منچ کے زیر اہتمام منعقدہ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ ’ہندو مسلم اتحاد‘ کی اصطلاح بنیادی طورپر گمراہ کن ہے کیونکہ ہندو اور مسلمان الگ نہیں بلکہ ایک ہیں۔ صرف پوجا اور عبادت کے اختلاف کی وجہ سے انھیں الگ الگ نہیں قرار دیا جاسکتا۔
موہن بھاگوت نے کہاکہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو سیاست نہیں کرسکتی ہیں۔ سیاست لوگوں کو متحد نہیں کرسکتی ، سیاست لوگوں کو متحد کرنے کا آلہ نہیں بن سکتی ، لیکن یہ اتحاد کو ختم کرنے کا آلہ کار بن سکتی ہے۔ اتحاد کی بنیاد قوم پرستی اور اسلاف کی قابل فخر قربانیاں ہونی چاہیئیں۔ لنچنگ کے واقعات میں ملوث افراد پر حملہ کرتے ہوئے آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ وہ ایسا کرنے والے ہندوتوا کے خلاف ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہت سے لوگوں کے خلاف لنچنگ کے جھوٹے مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ بھاگوت نے کہا کہ اس ملک کے مسلمانوں کو اس بھرم میں نہیں پڑنا چاہیے کہ ہندوستان میں اسلام کو خطرہ ہے۔
بھاگوت نے کہا کہ ملک میں اتحاد کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ نے اصرار کیا کہ اتحاد کی بنیاد قوم پرستی اور اسلاف کے قابل فخر کارنامے ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندو مسلم تنازعہ کا واحد حل باہمی مکالمہ ہے ، اختلاف نہیں۔ بھاگوت نے کہا کہ ہندو مسلم سب ایک ہیں اور تمام ہندوستانیوں کا ڈی این اے ایک جیسا ہے ۔
آر ایس ایس کے سربراہ نے کہاکہ ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں،لہذا یہاں صرف ہندوؤں یا صرف مسلمانوں کا تسلط نہیں ہوسکتا، یہاں صرف ہندوستانی غلبہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ وہ نہ تو اپنی تنظیم کی شبیہ بہتر کرنے کے لیے اس پروگرام میں شریک ہوئے ہیں اور نہ ہی ووٹ بینک کی سیاست کے لئے۔ سنگھ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ سنگھ نہ تو سیاست میں ہے اور نہ ہی اسے کسی شبیہہ کو برقرار رکھنے کی پرواہ ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ سنگھ ایک ثقافتی تنظیم ہے اور قوم کو بااختیار بنانے اور معاشرے کے تمام لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔