ایم ایل سی کی فہرست جاری ہوتے ہی مانجھی ناراض

پٹنہ:بہارمیں گورنرکوٹے سے نامزدایم ایل سی کی 12 نشستوں کے ناموں کے ساتھ ہی این ڈی اے میں اختلاف شروع ہے۔ایم ایل سی کے طور پر 12 چہروں کی نامزدگی کے بعدجتین رام مانجھی کے زیرقیادت پارٹی نے سوالات اٹھائے ہیں ، جبکہ نتیش کمار کی اپنی پارٹی کے ترجمان نے بھی ان کی ہی پارٹی کے خلاف محاذ کھڑا کیا ہے۔ایم ایل سی کے نام کی فہرست جاری ہونے کے بعد جیتن رام مانجھی بہت ناراض ہیں۔ ایک بیان دیتے ہوئے ان کی پارٹی کے ترجمان ڈاکٹر دانش رضوان نے کہاہے کہ ساتھیوں سے پوچھے بغیر یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے ہمارے کارکنوں میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ دانش نے کہاہے کہ سب کی نگاہ مانجھی جی پر ہے اور جلد ہی کچھ بڑا فیصلہ لیا جائے گا ۔اس کے علاوہ کم مدت کے لیے کونسل بھیجنے جانے پرمکیش سہنی بھی ناراض ہیں۔دودن پہلے انھوں نے گورنرسے بھی ملاقات کی تھی ۔اس سے نیاسیاسی طوفان آسکتاہے ۔دوسری جانب جے ڈی یو کے ترجمان راجیو رنجن نے بھی اپنی ہی پارٹی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔انہوں نے کہاہے کہ پارٹی نے مجھ پرظلم کیاہے۔ پارٹی میں وفاداری ، عقیدت اور میرٹ کی سیاست کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ سی ایم نتیش کمار کو نشانہ بناتے ہوئے راجیو رنجن نے کہاہے کہ نتیش کمار معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ چلتے تھے ، لیکن آج صرف ایک خاص ذات کونظراندازکیاگیاہے۔ ایم ایل سی منوئن کے ساتھ پارٹی اپنے کارکنوں کوکیاپیغام دینا چاہتی ہے یہ واضح ہوگیاہے۔راجیورنجن نے کہاہے کہ پارٹی میں کارکنوں کی گنجائش ہونی چاہیے۔ پارٹی کا فیصلہ تکلیف دہ ہے اور مجھے افسوس ہے کہ پارٹی نے میرے حق میں فیصلہ نہیں کیا ہے۔بدھ کے روز گورنر کے کوٹے کے ساتھ ہی ، بہار میں قانون ساز کونسل جانے والے 12 چہروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں سب سے اہم نام اوپیندر کشواہا ہے ، جب کہ اس کوٹے سے نتیش حکومت کے دو وزراء اشوک چودھری اور جنک رام بھی قانون ساز کونسل کو بھیجے گئے ہیں۔