مولانا شاہین جمالی: ہر فن میں صاحبِ یدِ طولیٰ کہیں جسے! ـ لقمان عثمانی

 

(پہلی قسط)

”ربِ کائنات کے منصوبۂ تخلیق اور اسی کے بنائے ہوئے قانونِ فطرت کے مطابق نیست سے ہست اور عدم سے وجود کی طرف منتقل ہونے والا ہر شخص شروع شروع میں صرف اپنے ”شخص“ کے پیکر میں جلوہ گر ہوتا ہے اور جہانِ رنگ و بو میں قدم رکھنے کے بعد اپنی شخصیت کی تعمیر و تشکیل کے مراحل طے کرتا ہوا منزلِ حیات کی جانب افتاں و خیزاں، رواں دواں آگے بڑھتا اور نشو و نما پاتا ہوا پروان چڑھتا رہتا ہے ـ پھر اپنے خاندان، ماں باپ کی تعلیم و تربیت اور گرد و پیش کے اثرات کے زیرِ سایہ نشیب سے فراز اور پستی سے بلندی کی سمت محوِ سفر رہتے ہوئے علم و عمل، فکر و نظر، ذہنی رفتار،حسنِ گفتار اور اعلی کردار کے سانچے میں ڈھلتا ہے اور اپنی شخصیت کے رنگ و نور بکھیرنے لگتا ہے ـ اس شخصیت سازی میں اسکی پوشیدہ فطری صلاحیتیں آغوشِ مادر و پدر کے نقوشِ معتبر اور لائق و فائق معلمین و اساتذہ کی نگاہِ شفقت و حسنِ نظر کے دلکش امتزاج کے ساتھ نمودار ہوتی ہیں اور وہی آغازِ وجود کا معمولی شخص اپنے مآثر اور کارناموں کی بدولت ایک غیر معمولی اور عظیم شخصیت قرار پاتا ہے ـ“ یہ الفاظ ہیں اس عظیم علمی و ادبی شخصیت کے جس نے ربِ کائنات کے اسی منصوبۂ تخلیق اور قانونِ فطرت کے مطابق خود اپنی شخصیت کی بھی تعمیر کی تھی اور ذرے سے آفتاب بن کر دنیا بھر میں مقبولیتِ عامہ حاصل کرکے اپنی علمیت کا لوہا منوایا تھا؛ اس عظیم شخصیت کو دنیا مولانا محفوظ الرحمن شاہی جمالی چترویدی (شیخ الحدیث مدرسہ امداد الاسلام صدر بازار میرٹھ)کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے ـ
جن بعض مختلف الجہات شخصیتوں کو قریب سے دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا ان میں حضرت مولانا محفوظ الرحمن شاہین جمالی (1947- 2021) کا نام بھی سرِ فہرست ہے ـ مولانا شاہین جمالی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے جن کو اللہ تعالی نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا: وہ میدانِ صحافت کے شہسوار بھی تھے اور فنِ خطابت کے گوہرِ آبدار بھی، فقہ و فتاوی کے رمز شناس بھی تھے اور حدیث و تفسیر کے بحرِ عمیق کے غواص بھی، وہ شاعر و نثر نگار بھی تھے اور صاحبِ بلند افکار بھی، وہ محدث بھی تھے مفسر بھی اور کئی کتابوں کے مصنف و مؤلف بھی؛ غرضیکہ ان کی زندگی کی کئی حیثیتیں تھیں اور ہر حیثیت سے وہ بلندی کے اوجِ فلک پر جلوہ افروز تھے، انکی شخصیت کی نکھار میں کئی حوالے کارفرما تھے اور ہر حوالے کے ساتھ وہ انصاف کرنے میں کامیاب رہے، خصوصا تمام ادیان کی مذہبی کتابوں کے تقابلی مطالعے میں انکو امتیازی مقام حاصل تھا؛ گویا مولانا کی ہفت رنگ شخصیت:
”میں وہ ہوں عقل و نقل کا دریا کہیں جسے
ہر فن میں صاحبِ یدِ طولیٰ کہیں جسے“
کی تصویرِ مجسم اور حقیقی مصداق تھی ـ
مولانا شاہین جمالی نے 10 جنوری 1947ء کو بہار کے مشرقی چمپارن میں آنکھیں کھولیں اور ابتدائی تعلیم مدرسہ امداد الغربا بلوا نیپال میں حاصل کی، وہیں ان کے ایک استاذ مولانا جمال احمد خستہ رحمہ اللہ (شاگردِ رشید علامہ انور شاہ کشمیری) تھے جن کی طرف نسبت کرتے ہوئے مولانا شاہین نے اپنے نام کے آگے جمالی کو بطورِ تخلص اختیار کیا ـ
مولانا جمالی کی فراغت دارالعلوم دیوبند سے ہوئی اور اسکے بعد مدرسہ اصغریہ دیوبند میں بحیثیتِ استاذ خدمات انجام دینے لگے، اسی دوران بابائے دیوبند مولانا محمد عثمان رحمۃ اللہ علیہ (سابق نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند) نے شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں پندرہ روزہ ”دیوبند ٹائمز“ جاری کیا تھا جس کی ادارت کیلیے 1965ء میں مولانا شاہین جمالی کا نام منتخب کیا گیا اور تقریبا چالیس سالوں تک مولانا اسکی ادارت فرماتے اور اپنے قلمی جوہر دکھاتے رہے، انکی ادارت کے زمانے میں دیوبند ٹائمز میں قارئین کی دلچسپی کے وافر سامان فراہم ہوتے، وہ اداریہ لکھنے کے ساتھ ساتھ ”ریشم کے دھاگے“ کے عنوان سے منظوم مزاحیہ کالم بھی ملا حریری کے نام سے تحریر فرماتے تھے؛ چناں چہ ملا حریری کے ”ریشم کے دھاگے“ کو دیوبند ٹائمز میں وہی مقام حاصل تھا جو ماہنامہ تجلی میں ملا ابن عرب مکی کے مشہورِ زمانہ کالم ”مسجد سے میخانے تک“ کو حاصل ہوا کرتا تھا نیز اسکے علاوہ مولانا شاہین جمالی کی غزلیں اور نظمیں اور علمی و ادبی و فکری مضامین و مقالات بھی ماہنامہ دارالعلوم دیوبند اور دیوبند ٹائمز کے علاوہ ملک بھر کے جرائد و رسائل میں مسلسل شائع ہوتے رہتے تھے خصوصا ان کی غزلیں ایک عرصے تک فراق گورکھپوری کی غزلوں کے ساتھ ایک ہی صفحے پر شائع کیا جاتا رہا ـ مولانا کا ایک مجموعۂ کلام بھی ”شاہیں کا جہاں اور“ کے نام سے منظرِ عام پر آکر قارئین سے خراجِ تحسین وصول کر چکا تھا، اسکے علاوہ اور بھی بہت سی نظمیں اور غزلیں تھیں جس کا مسودہ ترتیب و تنسیق سے پہلے ہی ضائع ہوگیا تھا؛ جس کے بارے میں مولانا نے از خود مجھے بتایا تھا؛ تاہم درجنوں علمی، ادبی، فکری و تاریخی کتابیں ان کے سیال قلم سے معرضِ وجود میں آچکی ہیں جو انکے علم و ادب اور فکر و نظر کا آبشار ہیں؛ جن میں المسك الزكي علي جامع الترمذي، دارالعلوم کی تاریخِ سیاست، کیا اسلام پر اعتراض ہے؟، ہندوستان میں اسلام اور جبری تبدیلیِ مذہب کا الزام، انقلابِ توحید، غیر اسلامی مذاہب کے اسلامی احکام، تین طلاق: علم و تحقیق کے اجاکے میں، مساجد میں عورتوں کی نماز، شاہیں کا جہاں اور، إزالة الخفا عن الذبح للشفا، رضا خانی ترجمۂ قرآن کا تقابلی مطالعہ اور دیوبند کے چند بزرگ اور ہم عصر شامل ہیں نیز آخر الذکر کتاب کو اترپردیش اکیڈمی کی جانب سے ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے جس کا لفظ لفظ ادبی رنگ و آہنگ کا مظہر اور جس کا حرف حرف ادبی شیر و شکر کا نمونہ ہے ـ
مولانا شاہین جمالی لفظوں کے صورت گر تھے؛ چناں چہ مولانا کی شکل و صورت کی منظر کشی کرنے اور ان کے جسمانی ڈھانچے کا قلمی خاکہ پیش کرنے کیلیے مولانا کے ہی اشعار اگر مستعار لے لیے جائیں تب کہیں جاکر انکا قلمی سراپا صحیح معنوں میں ابھر کر سامنے آسکے اور اسکا لفظ لفظ پکار اٹھے کہ ہاں! یہی مولانا شاہین جمالی تھے، یہی مولانا شاہین جمالی کا سراپا تھا:
خوبصورت حسیں قد و قامت
پیکرِ دلکشی و رعنائی
سرخ لب اور عارضِ گلگوں
دوودھیا جسم، آنکھ صہبائی
دستِ قدرت کی خوب تر تخلیق
ایک شاعر کی شہکار غزل
سنگِ مرمر سے یا تراشیدہ
صاف شفاف کوئی تاج محل

(جاری )