دارالعلوم ندوۃ العلما کے سینئراستاذ اور ممتاز اہلِ قلم مولانا نذرالحفیظ ندوی کا انتقال

لکھنؤ(قندیل ڈیسک)دارالعلوم ندوۃ العلما کے سینئر استاذ اور عربی و اردو کے ممتاز ادیب و اہل قلم مولانا نذرالحفیظ ندوی کا لکھنؤ میں انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر تقریباً بیاسی سال تھی۔ مولانا ندوی کی پیدایش ۱۹۳۹ میں بہار کے ضلع مدھوبنی کے ململ نامی گاؤں میں ہوئی،ابتدائی تعلیم و حفظ قرآن کی تکمیل اپنے والد قاری عبدالحفیظؒ کے پاس کرنے کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلما میں داخل ہوئے اور شروع سے فضیلت تک کی تعلیم یہیں حاصل کی،۱۹۶۴ میں فضیلت کے بعد ندوے میں ہی استاذ ہوگئے،۱۹۷۵ میں مزید تعلیم کے حصول کے لیے مصر گئے،جہاں عین شمس یونیورسٹی سے بی ایڈ اور ۱۹۸۲ میں جامعہ ازہر سے عربی تنقید میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ قاہرہ سے واپسی کے بعد پھر ندوے میں استاذ مقرر ہوئے اور تا حیات یہ خدمت انجام دیتے رہے،ندوہ کے شعبۂ عربی زبان و ادب کے سربراہ بھی ہوئے۔ اس کے علاوہ انھوں نے قلم و قرطاس سے بھی مضبوط تعلق رکھا اور جہاں مصر میں قیام کے دوران ریڈیو سے وابستہ رہ کر صحافتی سرگرمیاں انجام دیں،وہیں ندوہ میں بھی عربی و اردو زبانوں میں مسلسل لکھتے رہے،پندرہ روزہ تعمیر حیات کے مدیر مسئول بھی رہے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھیں جن میں سے ’’مغربی میڈیا اور اس کے اثرات‘‘ کو پوری دنیا میں خاص شہرت حاصل ہوئی اور اس کے عربی،انگریزی اور ملیالم زبانوں میں ترجمے ہوئے۔ اس کے علاوہ ان کی’’الزمخشری کاتبا و شاعرا‘‘ اور ’’ابوالحسن علي الندوي کاتبا و مفکرا‘‘ بھی اہم کتابیں ہیں۔ ان کا اسلوب تحریر سادہ و سلیس تھا،ان کا مطالعہ وسیع اور طرزِ بیان دل آویز تھا۔ ان کے انتقال سے ندوہ ہی نہیں پوری علمی دنیا کا بڑا خسارہ ہوا ہے۔مولانا کا انتقال لکھنؤ میں ہوا ہے اور وہیں ڈالی گنج میں بعد نماز عشا تدفین عمل میں آئے گی۔