تبلیغی جماعت کے خلاف سعودی حکومت کا حالیہ موقف نہایت افسوسناک :مولانا فیصل رحمانی

پٹنہ (پریس ریلیز):تبلیغی جماعت کے خلاف سعودی حکومت کے حالیہ موقف پر اپنی ناراضگی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امیر شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے سعودی حکومت کے اقدام کو افسوس ناک بتایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کو بدعات و خرافات اور دہشت گردی وغیرہ سے جوڑنا بالکل غلط اور حقیقت کے خلاف ہے ۔
انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ کی قائم کردہ دنیا کی غیر متنازع جماعت ہے ، جس نے اپنے حدود میں رہتے ہوئے اصلاح معاشرہ کے بے شمار نایاب کارنامے انجام دیے ہیں ۔ سعودی حکومت کے اس اقدام سے پوری دنیا کے مسلمانوں میں بے چینی اور ناراضگی محسوس کی جا رہی ہے اور چہار جانب مذمت ہورہی ہے۔ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نےسعودی حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور سعودی وزارت برائے اسلامی امور اور دہلی میں واقع سعودی سفارت خانے کو خط لکھ کر اس حکم نامہ پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوںنے اپنے خط میں لکھا ہے کہ تبلیغی جماعت کی اساس اور بنیاد کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ہے ، اور وہ کتاب و سنت کی روشنی میں اللہ اور رسول کی فرماں برداری، مساجد کو آباد کرنے اور مسلمانوں کی اصلاح کی دعوت دیتی ہے۔ امیر شریعت نے کہا کہ ہر ادارہ اور جماعت کے کام کرنے اور تعلیم و تربیت کا خاص انداز اور خاص طریقہ کار ہوتا ہے ، تبلیغی جماعت جو اصلاحی امور انجام دیتی ہے ، اس کا بھی ایک خاص طریقہ کار ہے جس کی اساس و بنیاد سنت رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام کے عمل اور اکابر و اسلاف کے دعوتی و اصلاحی طریقہ کار میں موجود ہے ۔ ان کے طریقۂ کار سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے لیکن اس کو گمراہی اور دہشت گردی جیسے الفاظ سے تعبیر کرنا قطعاً غلط اور خلاف حقیقت ہے۔ اس جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ اکابر علمائے دیوبند کے پروردہ اور خود اہل سنت و الجماعت کے ایک مستند عالم دین تھے ، اور ہمیشہ اس جماعت کے افراد اہل سنت و الجماعت اورسلف صالحین کے عقائد کے پابند اور ان پر عمل پیرا رہے ہیں ۔نہ صرف بر صغیر پاک و ہند بلکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں شرک و بدعات کے خاتمے اور توحید کے صحیح تصور اور سلف صالحین کے عقائد کی نشر واشاعت میں اس جماعت کا بڑا کردار رہا ہے، جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔انھوں نے ہندوستانی حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومتی سطح پر سعودی حکومت کوخط لکھ کر اس سے اس حکم نامہ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرے۔