Home نقدوتبصرہ مولانا عبدالحمید رحمانی اور چونتیس سالہ رفاقت-آفتاب احمد منیریؔ

مولانا عبدالحمید رحمانی اور چونتیس سالہ رفاقت-آفتاب احمد منیریؔ

by قندیل
مصنف:  ابو صادق عاشق علی اثری ؔ
سن اشاعت:  2023  
ناشر:   الدار الاثریہ شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی
بقیۃ السلف حضرت مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کی عبقری شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ آپ کا شمار اکیسویں صدی کے ممتاز اہل حدیث علما میں ہوتا ہے۔ فقیہ عصر شیخ عبدالعزیز ابن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ کے شاگردِ رشید اور علامہ احسان الٰہی ظہیررحمہ اللہ کے ہم درس رہے مولانا عبدالحمید رحمانی کی شناخت ایک ایسے غیور سلفی عالم دین کی ہے جس نے عظمتِ کتاب و سنت کی خاطر تمام دنیوی مصلحتوں کو قربان کر دیا۔ اپنے علم وفضل اور قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت عرب و عجم میں شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے والے شیخ عبدالحمید رحمانی کی دینی و علمی خدمات بے شمار ہیں۔ آپ کی ان عظیم دینی خدمات میں ”ابوالکلام آزاداسلامک او یکننگ سنٹر“ نئی دہلی کا قیام سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج اس چھتنار درخت کی پچیسیوں شاخیں تشنگانِ علوم دینیہ کو سیراب کر رہی ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب ”مولانا عبدالحمید رحمانی اور چونتیس سالہ رفاقت“ اس سنٹر کے اعلیٰ تعلیمی ادارہ جامعہ اسلامیہ سنابل کے استاذِ حدیث اور جنرل سکریٹری مولانا ابو صادق عاشق علی اثریؔ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب کا بنیادی وصف یہ ہے کہ یہ انتہائی دلکش پیرایے میں ایک ایسی بلند قامت شخصیت کا احوالِ واقعی بیان کرتی ہے، جس کے کارنامے بانی ”علی گڑھ مسلم یونیورسٹی“ سرسید کی یاد دلاتے ہیں۔ یہ کتاب بیس ابواب پر مشتمل ہے۔ ان میں شیخ محمد ابوالقاسم فاروقی کی تاثراتی گفتگو بھی شامل ہے۔ اپنی اس تحریر میں انھوں نے بانی درس گاہ (جامعہ اسلامیہ سنابل) شیخ عبدالحمید رحمانی کے فضائل و مناقب بیان کرنے کے ساتھ ہی مصنف سے ان کے دیرینہ مراسم کو بھی موضوع گفتگو بنایا ہے۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں:
”مولانا اثریؔ اپنی گونا گوں صلا حیتوں، محنت اور جدو جہدکی بدولت مولانا رحمانی کے دست راست،معاون اوردمساز بنے، نہ جانے کتنے نشیب و فراز آئے، پیچیدہ مسائل پیدا ہوئے، آپ نے مولانا رحمانی کا ساتھ نہ چھوڑا۔ ان کی انتظامی اور تدریسی صلاحیتوں کی قدردانی بھی رحمانی صاحب نے خوب خوب کی“ ۔(ص:۱۱)
  مولانا عاشق علی اثریؔ کی اس علمی کاوش کو اس لحاظ سے سند اعتبار حاصل ہے کہ یہ کتاب نہ صرف مولانا عبدالحمید رحمانی کے سماجی اور ملّی کارناموں سے روشناس کراتی ہے بلکہ ان کی ذاتی زندگی اور ان کی شخصیت کے داخلی پہلوؤں کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ مثلاً ملت اسلامیہ ہند کے اس عظیم فرزند کو ”ابوالکلام آزاداسلامک اویکننگ سینٹر“ جیسا ممتاز ادارہ قائم کرنے نیز اس کی تعمیر و ترقی کی خاطر کن خاردار وادیوں سے گزرنا پڑا، بانئی درس گاہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے اور کس طرح انھیں علمی و تعمیری کاموں پر ابھارتے تھے۔ علاوہ ازیں دعوت و تبلیغ کے شعبے میں ان کی غیر معمولی خدمات کا مختصر احوال اس پر اثر انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
یہ عمومی مشاہدہ ہے کہ ہمارے یہاں دینی حلقوں میں بعض شخصیات کے حوالے سے جو کتابیں لکھی جاتی ہیں ان میں حقیقت کم، غلوآمیز باتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ سوانحی کتب تحریر کرنے والے ہر مصنف کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی جماعت کے امیر کی شخصیت نیزاس کے کارناموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے۔ لیکن اس کتاب کی انفرادیت یہ ہے کہ مصنف نے قلم کی حرمت کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے شیخ عبدالحمید رحمانی کی بشری کوتاہیوں کو بھی پوری ایمان داری کے ساتھ بیان کیا ہے۔
یوں تو کتاب کے تمام ابواب پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن مصنف کی جو تحریریں دل کو چھو گئیں ان کے عناوین حسب ذیل ہیں:
مولانا عبدالحمید رحمانی سے میری ابتدائی شناسائی
 مولانا رحمہ اللہ سے میری پہلی ملاقات
 سنٹر میں میری آزمائشیں
 مولانا رحمانی کی ناراضگی کی بعض مثالیں اور ان پر میرا(مصنف کا) طرز عمل
مولانا رحمانی کا احقر (مصنف) پر اعتماد وغیرہ
یہ کتاب چوں کہ مولانا عبدالحمید رحمانی اور مصنف کی چونتیس سالہ رفاقت کی سچی داستان پیش کرتی ہے، لہٰذا اس کی مدد سے ایک انقلابی شخصیت کی داستانِ عزیمت،اس کے علم و فضل، ملّی و جماعتی کاموں میں پیش آنے والی آزمائشوں اور ان آزمائشوں پر صبر کرنے والے ایک عظیم موحد کی زندگی کو دریافت کیا جا سکتا ہے۔
درج ذیل سطور میں مذکورہ ابواب کا مختصر جائزہ پیش کیا جاتاہے۔مولانا رحمانی سے اپنی ابتدائی شناسائی کا احوال قلم بند کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
”مولانا رحمانی کی تحریکی شخصیت نے ۳۰/اگست ۱۹۷۱ کو ایڈ ہاک کمیٹی (جمعیت اہل حدیث ہند) میں ناظم عمومی کا عہدہ اور ترجمان کی ادارت سنبھالنے کے بعد سے اب تک جمعیت کے مردہ جسم میں جو روح پھونکی تھی اس سے جماعت کے عوام و خواص، علما وطلبہ بھی واقف اور بیدار ہوچکے تھے اور سب کی زبانوں پر مولانا رحمانی کی خدمات کا ذکر جمیل جاری تھا۔ ان سے میں بھی متاثر تھا اور اپنے آبا و اجداد کی پرانی ڈگر سے نکل کر کتاب و سنت کی اصل راہ پانے کی وجہ سے جماعت و جمعیت کی ترقی میں بھی شاداں اور فرحاں تھا۔“  (ص:۵ ۲)
  مصنف کے بیان کے مطابق شیخ عبدالحمید رحمانی سے ان کی پہلی ملاقات مئوناتھ بھنجن (یوپی) میں ان کے دوست عبد القدوس اثریؔ کے دولت خانے پر ہوئی۔ یہ ملاقات مستقبل کے دیرینہ تعلقات کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ بقول مصنف:
”اسی مجلس میں مولانا سے ناچیز کا مختصر تعارف ہوا۔ اس کے بعد سے میں برابر مولانا کی جماعتی، سیاسی اور قومی و ملی خدمات اور کارکردگیوں سے واقفیت حاصل کر کے شاد کام ہوتا رہا۔“  (ص:۶۲)
پھر وہ تاریخی دن آپہنچا جب مولانا عبدالحمید رحمانی نے رمضان  ۱۴۰۰ھ (جولائی ۱۹۸۰ء) کو ”ابوالکلام آزاد اسلامک او یکننگ سنٹر“ کی بنیاد رکھی اور اس کے ”معہد التعلیم الاسلامی“ میں تدریسی خدمات انجام دینے کے لیے ابو صادق عاشق علی اثریؔ کو بصد اصرار دہلی بلابھیجا۔ اس طرح اس دیرینہ رفاقت کی ابتدا ہوتی ہے، جس کے زیراثر اس تعلیمی وتربیتی ادارہ کو رفعت اور بلندی حاصل ہوئی۔
واقعات کی پیش کش میں مصنف نے معروضی اسلوب اختیار کرکے ادبی حسن کا معیار قائم رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ کتاب کا سب سے دلچسپ حصہ وہ ہے جس میں مصنف نے ”ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹر“ کے سکریٹری کی حیثیت سے ادارے کے صدر کے ساتھ پیش آئے تلخ وشیریں واقعات کو قلم بند کیا ہے۔ ان واقعات کو مصنف نے کچھ ایسے معتدل انداز میں پیش کیا ہے کہ جس سے بانی درس گاہ شیخ عبد الحمید رحمانی کے شخصی وقار میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی اور منشائے مصنف کی تکمیل بھی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ کتاب کے صفحہ نمبر۵۴ پر درج ہے۔ اس واقعے کی مختصر رو داد یہ ہے کہ مصنف کی کسی غلطی سے ناراض ہو کر صدر ادارہ نے انھیں آفس میں طلب کر لیا۔ اس کے بعد کے احوال خود مصنف کی زبانی ملاحظہ ہوں:
”کچھ دیر کے بعد ملازم میرے پاس آیا کہ صدر صاحب آپ کواپنے آفس میں بلا رہے ہیں۔ میں حاضر ہوا تو مولانا نے فرمایا کہ آپ ادارے میں آگ لگانا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا نہیں تو۔ اس پر مذکورہ پروگرام کا ذکر کر کے پھر اپنے غیظ و غضب کا اظہار کیا۔ میں نے نہایت نرمی سے کہا کہ مولانا غلطی تو ہو گئی۔چوں کہ متعدد بار آپ نے اس عالم دین کی بھر پور تواضع کی تھی اس لیے ہم لوگوں کو دھوکہ ہوا اور اگر آپ بعد میں نبیﷺ کے فرمان ”بئس أخو العشیرۃ“ کی طرح موصوف کی طبیعت و فطرت کی طرف اشارہ فرما دیتے تو ہم لوگ ایسا دھوکہ نہ کھاتے۔ اس پر مولانا یہ کہہ کر خاموش ہو گئے کہ ”آپ تو جواب دیتے ہیں“  ”غفر اللہ لی ولہ و عفا عنی و عنہ‘‘۔ (ص:۴۵)
ایک ایسے پر آشوب وقت میں جب نسل نو اپنے بزرگوں کی گراں قدر علمی خدمات نیز ان کے عملی کارناموں سے غافل ہو کر مادی دنیا کے کھیل تماشوں میں گم ہے، مصنف کی یہ کاوش امیدوں کے چراغ روشن کرتی ہے۔
اس سے قبل کہ یہ مطالعہ اپنے اختتام کو پہنچے ”منظوم کلمات تہنیت“کا ذکر ناگز یر معلوم ہوتا ہے، جنھیں تخلیق کر کے محمد شمیم عرفانی مدنی (جومولانا عاشق علی اثریؔ کے شاگرد ہیں) نے اس سوانحی کتاب کی زینت میں چار چاند لگائے ہیں۔ اس خوبصورت نظم کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
نسیم صبح لیکر جب نویدِ جاں فزا آئی
زبان عجز پر رحمٰن کی حمد و ثنا آئی
لباسِ حسن پہنے گویا کوئی مہ لقا آئی
بہ طرزِ نو ”رفاقت“ پر کتاب دلربا آئی
نگاہ دوربیں میں بس گئے، یوں خلد کے جلوے
کہ گویا ”اُدخلوھا بسلام“ کی ندا آئی
قرآن وسنت کی مقدس فضاؤں میں پروان چڑھے شاعر کے تخیل نے کس قدر عمدہ کلام تخلیق کیا ہے۔ شاید ہی کسی تصنیف کو اس قدر دلنشیں منظوم مبارک باد نصیب ہوئی ہو۔ اس گراں قدر علمی کاوش کے لیے میں مصنف کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

You may also like