Home تجزیہ نظام قضا اور امارت شرعیہ -شمیم اکرم رحمانی

نظام قضا اور امارت شرعیہ -شمیم اکرم رحمانی

by قندیل

 

خالق کائنات نے نظام عالم کے استحکام کے لئے انسانی سرشت میں مقابلے کا مادہ رکھا ہے لیکن ساتھ ہی حقوق و اختیارات کی تحدید بھی فرمادی ہے تاکہ کائنات میں توازن اور امن برقرار رہے لیکن انسان بسااوقات اپنے حقوق و اختیارات سے بے پرواہ ہوجاتا ہے یا مختلف قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اور جو چیز اسے پسند ہوتی ہے یا جس چیز کو وہ اپنی چیز سمجھ بیٹھتا ہے اسے حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار رہتا ہے حالانکہ وہ چیز فی الواقع اس کی نہیں ہوتی ہے اب اگر کوئی دوسرا شخص بھی اسی چیز کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو فطری طور پر نزاع کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جہاں پہونچ کر بجز اس کے کوئی اور چارہ نہیں رہتا ہے کہ کوئی تیسرا صاحب اختیار شخص معاملے کو حل کرے اور جو چیز جس کی ہے ایسے اصول کی روشنی وہ چیز اسے دلائے جو براہ راست خالق کائنات کے طے کردہ ہوں یا ان برگزیدہ ہستیوں کے طے کردہ ہوں جنہیں خالق کائنات نے طے کرنے کا اختیار دیا ہو، تاکہ اس صاحب اختیار شخص کے فیصلے کے سامنے فریقین (خواہ وہ کسی بھی حیثیت کے ہوں) سرتسلیم خم کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہ کریں ، اسلام کی نگاہ میں یہی تیسرا صاحب اختیار شخص جج، منصف اور قاضی ہے جس کے عمل کا نتیجہ در اصل قضا، عدل اور انصاف کہلاتا ہے –

قضا اور نظام قضا اسلامی معاشرے کے لئے جزولاینفک کی حیثیت رکھتا ہے, جس سے انکار کی گنجائش نہیں ہے، قرآن مجید کی آیات اور متعدد روایات اس حقیقت کی نشاندہی کے لیے کافی ہیں ، آیات و روایات کی روشنی میں کیا جانے والا غور و فکر اس نتیجے تک پہونچا دیتا ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی کی پہلی سانس بھی نظام قضا کی ضرورت سے علیحدہ نہیں ہے، مولانا عبد الصمد رحمانی رحمۃ اللہ علیہ نے مدت رضاعت سے متعلق ایک مشہور آیت کی تشریح کرتے ہوئے اس حقیقت کی وضاحت کی ہے، انہوں نے ایک جگہ لکھا ہے

"اس قانون کے مقتضیات میں جہاں اور بہت سے امور ہیں۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ حق رضاعت ماں کو حاصل ہے، چاہے وہ مطلقہ ہو یا غیر مطلقہ ۔ اب اگر اس حق کی راہ میں کسی وجہ سے باپ حائل ہو جائے اور ماں کے اس حق سے انکار کر دے تو مخاصمت کی بنیاد پڑ جائے گی اور قضاء کا داعیہ پیدا ہو جاۓ گا۔ جس کی اصلاح حال کے لئے محکمہ قضاء کی طرف رجوع کرنا ناگزیر ہو جائے گا”
(آداب قضا ص 15)

یہ کوئی من گھڑت اور فرضی قضیہ نہیں ہے جس کا وجود اس دنیا میں نہیں ہوسکتا ہے یا نہیں ہوا ہے بلکہ یہ وہ فرضی قضیہ ہے جو مختلف اوقات میں مختلف جگہوں پر معاشرے میں حقیقت کا روپ لیتا رہتا ہے ، روایات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ عہد رسالت میں بھی بالکل ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا جس کا فیصلہ کرتے ہوئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے رضاعت کو ماں کا حق قرار دیا اور ماں کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں ارشاد فرمایا کہ "تو ہی اس کی حقدار ہے جب تک کہ تو نکاح نہ کرلے”
( ابوداؤد)

جس طرح زندگی کی پہلی سانس نظام قضا کی ضرورت سے الگ نہیں ہے اسی طرح زندگی کی کوئی سانس نظام قضا کی ضرورت سے الگ نہیں ہے، بلکہ آغوش لحد میں جانے سے پہلے کا ہر لمحہ نظام قضا کی ضرورت سے بندھا ہوا ہے، اس لئے کہ خدا کے نظام تکوینی میں دو یا چند انسانوں کے درمیان کسی بھی وقت، کسی بھی گھڑی اور کسی بھی لمحے کوئی مخاصمت کی بنیاد پڑسکتی ہے اور جب بھی مخاصمت کی بنیاد پیداہوگی فطری طور نظام قضا کا داعیہ بھی پیدا ہوگا، اور قاضی شریعت کی ضرورت پیش آئے گی، اسی لئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے قضا کو فریضہ محکمہ قرار دیا ہے جس کے معنی ہی یہ ہیں کہ اسلامی معاشرے میں قضا اور نظام قضا کے نہ ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے، قوت تنفيذ اپنی تمام تر اہمیتوں کے باوجود بلاشبہ ایک اضافی شئ ہے جو زمان و مکان کے اعتبار سے مل بھی سکتی ہے اور کبھی ختم بھی ہوسکتی ہے، خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو مکی زندگی میں قوت تنفيذ حاصل نہ تھی لیکن مدنی زندگی میں حاصل تھی لیکن قضا اور نظام کے قیام سے کسی بھی حال میں راہ فرار اختیار کرنے کی گنجائش نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ کے تمام ادوار میں نظام قضا موجود رہاہے اسلام کے ابتدائی عہد میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی بحیثیت قاضی جھگڑوں کا تصفیہ فرماتے تھے،آپ کے کئے گئے فیصلوں کی تفصیلات نہ صرف مختلف روایات میں موجود ہیں بلکہ اہل علم نے آپ کے فیصلوں کو کتابی شکل میں جمع بھی کیا ہے، میرے سامنے امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کی تالیف”اقضیۃ الرسول” موجود ہے جس میں انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہم ترین فیصلوں کو جمع کردیا ہے جو قضاۃ کے لیے بڑی اہم چیز ہے، روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف بحیثیت قاضی معاملات کے تصفیے کیے بلکہ مختلف علاقوں کے لئے مختلف قضاۃ کرام کو مقرر بھی فرمایا تھا جن میں سے حضرت علی، حضرت معاذ، حضرت ابوموسیٰ، حضرت معقل بن یسار، اور حضرت عتاب بن اسید رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسماء گرامی خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، عہد رسالت کے بعد جب خلفائے راشدین کا عہد آیا تو خلفائے راشدین نے نہ صرف یہ کہ نظام قضا کے استحکام میں کوئی کسر نہیں چھوڑی بلکہ نظام قضا کا معیار اتنا بلند رکھا کہ اقتدار اعلیٰ کو بھی قضائے قاضی کے سامنے سرتسلیم خم کرنا پڑتا تھا خلفائے راشدین نے منشائے نبوی کے مطابق نظام قضا کو اس قدر مستحکم کردیا کہ بعد میں کسی بھی شخص میں اس نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جرات نہیں ہوئی یہی وجہ ہے کہ خلفائے راشدین کے بعد وجود میں آنے والی تمام مسلم سلطنتوں میں نظام قضا پوری توانائی کے ساتھ کھڑا رہا، پھلتا اور پھولتا رہا، وطن عزیز میں مغلیہ سلطنت کے آخری دور کے قضاۃ میں قاضی شہاب الدین، قاضی محب اللہ بہاری، قاضی مبارک، قاضی صدرالدین خان آزردہ، قاضی قطب الدین اور قاضی ثناءاللہ پانی پتی رحہم اللہ کے نام بہت مشہور اور اہمیت کے حامل ہیں،

لیکن ایک دور وہ بھی آیا جب اپنوں کی دسیسہ کاریوں اور غیروں کی سازشوں کے نتیجے میں دنیا کے ساتھ ساتھ وطن عزیز سے بھی مسلمانوں کی سلطنت ختم ہوگئ، اور انگریزوں نے زمام اقتدار اپنے ہاتھوں میں لیا، یہ دور عام مسلمانوں کے لئے کس قدر کربناک ہوگا اسے الفاظ کے پیرہن میں نہیں ڈھالاجاسکتا ہے، ملک پر قابض ہونے کے بعد انگریزوں نے جستہ جستہ ہی سہی لیکن نظام قضا کو ختم کردینا ضروری سمجھا اور مختلف بہانے سے نظام قضا کو ختم کردیا حالانکہ مغلیہ سلطنت کے فرماں روا نے جب نے مجبور ہوکر ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاہدہ کیا تھا تو نظام قضا کے بارے میں یہ اطمینان کرلیا تھا "محکمہ قضا ” کو باقی رکھاجائے گا اور کمپنی پر ضروری ہوگا کہ وہ مسلم قضاۃ کی تقرری کرے (جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم حکمرانوں کے نزدیک نظام قضا کی کتنی اہمیت تھی) لیکن انگریزیزوں نے غلط دلائل کا سہارا لے کر وعدہ شکنی کی، اور رفتہ رفتہ نظام قضا کا ملک سے خاتمہ کردیا البتہ اسلامی قانون کے اس حصے کو عدالتوں میں باقی رکھا جسے پرسنل لاء کہاجاتاہے لیکن پرسنل لا کے مطابق فیصلے کرنےکے لیے بھی مسلم قضاۃ کی ضرورت نہیں محسوس کی گئی جس کی وجہ سے مسلم پرسنل لاء کےنام پر عدالتوں سے ایسے عجیب و غریب فیصلے ہوئے جنہیں اسلام کی طرف منسوب کرنا بھی غلط ہے-

نظام قضا کے خاتمے کے بعد مختلف زمانوں میں علماء کرام اور مشائج عظام نے نظام قضا کے احیاء کی کوششیں کیں لیکن سب سے منظم اور مضبوط کوشش مولانا ابوالمحاس محمد سجاد رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ہوئی، انہوں نے سنہ 1921 ء میں نہ صرف امارت شرعیہ کے بے نظیر نظام کے قیام سے دنیا کو متاثر کیا بلکہ امارت شرعیہ کے تحت دارالقضا کا نظام بھی قائم کیا جس کے نتیجے میں سینکڑوں سال بعد مسلمانوں کو یہ حسین موقع فراہم ہوا کہ وہ کم از کم اپنے باہمی اور نجی معاملات دارالقضا میں قاضی شریعت کے سامنے پیش کرسکیں، اور شرعی تصفیے حاصل کرسکیں، آج "امارت شرعیہ ” یہاں تک کہ "مسلم پرسنل لاء بورڈ” کے تحت بھی جتنے دارالقضا چل رہے وہ سب دراصل حضرت مولانا ابوالمحاس محمد سجاد کی سوجھ بوجھ، اخلاص، اور جد جہد کی ثمرات ہیں:

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہرمدعی کے واسطے دارورسن کہاں

فی الحال صرف امارت شرعیہ کے تحت بہار اڑیسہ، جھار کھند اور مغربی بنگال میں کل 32 مقامات پر دارالقضا قائم ہیں جہاں مسلمانوں کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ اپنے معاملات دارالقضا میں پیش کریں اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداداپنے معاملات کو دارالقضا سے حل کراتی بھی ہے اسی لئے سوسال کے عرصے میں لاکھوں معاملات امارت شرعیہ کے تحت چلنے والے دارالقضا میں دائر اور حل ہوچکے ہیں، بہار اڑیسہ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں بورڈ کے تحت تقریباً 86 دارالقضا کام کررہے ہیں، دارالقضا کا نظام خواہ امارت شرعیہ کے تحت چل رہا ہو یا بورڈ کے تحت، یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اس نظام کی وجہ نہ صرف ملت کے افراد کے مسائل حل ہورہے ہیں بلکہ ملک کی خدمت بھی ہورہی ہے، ملک کی عدالتوں میں موجود مقدمات کے بوجھ سے کون ناواقف ہے؟ اگر کوئی ادارہ اپنے مخصوص دائرہ کار میں عدالتوں سے مقدمات کے بوجھ کو کم کرے تو بلاشبہ یہ ملک کی بڑی خدمت ہے، جس کی ستائش ہونی چاہیے لیکن اس پر افسوس یا حیرت کے اظہار کے علاوہ اور کیاجاسکتا ہے کہ وطن عزیز میں رہ رہ کر یہ غلط شوشے چھوڑے جاتے ہیں کہ دارالقضاء ایک متوازی عدالت ہے، جس کے ذریعے لوگوں پر فیصلے تھوپ دییے جاتے ہیں؛حالاں کہ متوازی عدالت کی بات کرنے والے اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ دارالقضاؤں کو پولس اور فوج کی کوئی طاقت میسر نہیں ہے کہ اس کے ذریعے فیصلے پر زبردستی عمل درآمد کرایا جائے اور نہ آج تک دارالقضا کی طرف سے کسی فیصلے پر عمل درآمد کے لئے دباؤ ڈالے جانے کی کوئی خبر ہے، اس کے علاوہ اس بات پرسپریم کورٹ کی مہرلگ چکی ہے کہ دارالقضاء ہرگز متوازئ عدالت نہیں ہے ،مجھے یاد پڑتا ہے کہ 2005میں وشوکرما مدان نے دارالقضا اوردارالافتاء پرروک لگانے کی غرض سے مفاد عامہ کی جو اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی تھی اس پر 7جولائی 2014کوجسٹس سی کے پرساد اور جسٹس پی سی گھوس کی دورکنی بنچ نے ان دونوں اداروں کے وجود کواوران کے کام کاج کو جائز قراردیا تھا لیکن دقت یہ ہے کہ عصبیتیں حقائق کے جائزے کے لیے وقت نہیں چھوڑتی ہیں:

اے تعصب زدہ دنیا ترے کردار پہ خاک
بغض کی گرد میں لپٹے ہوئے معیار پہ خاک

احمد خیال

لوگ کچھ بھی کہیں لیکن سچ سچ اور جھوٹ جھوٹ ہے، لہذا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پروپگنڈوں اور شوشوں پر بہت زیادہ توجہ دییے بغیر احساس ذمہ داری کے ساتھ اپناکام کریں، معاشرے میں حقوق کی ادائیگی کا مزاج بنائیں، لڑائی اور جھگڑوں سے خود بچانے کی ہرممکن کوشش کریں، لیکن اگر جھگڑے ہوجائیں تو اپنے معاملات کو دارالقضا میں لے کر جائیں خاص طور پر وہ معاملات جن کا تعلق پرسنل لاء سے ہے انہیں دارالقضا سے حل کرائیں اور قاضی کے فیصلے کے سامنے اپنے سروں کو جھکا دیں ، شریعت کے حکم کے آگے اپنے سروں کو جھکا دینا دنیا کی نگاہ میں کچھ بھی ہو لیکن اللہ کے دربار میں سرخروئی حاصل کرنے سب بڑا ذریعہ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سماج کے بااثر افراد، صحافت سے جڑے ہوئے لوگ، اور سماجی خدمت گاروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اپنی سطح پر دارالقضا کی افادیت سے لوگوں کو روشناس کرائیں کہ ابھی بہت زیادہ ذہن سازی کی ضرورت ہے،اچھی بات یہ ہے کہ موجودہ امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب اس حوالے سے خوب فکر مند ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ مزید دارالقضا قائم ہوں، دارالقضاء کی عمارتوں اور کام کا ایک پورا خاکہ اور لائحۂ عمل ان کے ذہن میں ہے، وسائل کی دستیابی کے بعد انشاءاللہ اس پر عمل ہوگا جس سے توقع ہے دارالقضا کی افادیت مزید بڑھے گی اور معاشرہ مستحکم ہوگا ان شا اللہ۔
ان کی فکرمندی ہی کا نتیجہ ہے کہ صرف رواں سال دس دارالقضا کا قیام عمل میں آچکا ہے جس سے امارت شرعیہ میں کام کے رفتار کا بھی اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔

You may also like

Leave a Comment