میانمار کے بدھسٹ اور مسلمان ایک ہوگئے؟ ـ ایم ودود ساجد

گزشتہ روز میانمار (برما) کی راجدھانی ینگون (رنگون) سے کم وبیش 8 گھنٹے کی مسافت پر واقع منڈلا شہر میں برمی فوجیوں نے ایک سات سالہ مسلمان بچی خن میو چٹ کو گولی ماکر ہلاک کردیا۔منڈلا میں 187 ہزار 785 مسلمان آباد ہیں ـ

میرے لئے یہ خبر بہت تکلیف دہ تھی۔ میری تکلیف کے ایک سے زائد اسباب تھے۔لیکن سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ آنگ سانگ سوچی کی منتخب حکومت میں بھی برمی مسلمانوں کو سکون نہیں تھا اور اب فوجی بغاوت کے نتیجے میں ایک سال کےلیے آنے والی جُنٹا (فوجی حکومت ) میں بھی انہیں راحت نہیں ملی۔

تفصیلات کے مطابق منڈلا شہر میں برمی فوجی سرچ آپریشن میں مصروف تھے۔ انہیں ہتھیاروں اور اُن فوج مخالف مظاہرین کی تلاش تھی جو سوچی کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد سڑکوں پر مظاہرے کر رہے ہیں ۔ ان مظاہرین پر فوج طاقت کا استعمال کر رہی ہے اور اب تک تین سو لوگ ہلاک اور تین ہزار گرفتار ہوچکے ہیں ۔

خِن میو چٹ کی بڑی بہن مے تھو سمیہ نے سی این این کو بتایا کہ یہ فوجی تلاش کرتے کرتے ان کے گھر تک بھی پہنچ گئے۔ وہ دروازہ توڑ کر اندر گھس گئے اور میرے والد سے پوچھا کہ گھر میں کوئی اور (باہری شخص ) تو نہیں ہے۔ میرے والد نے کہا کہ کوئی نہیں ہے۔وہ یہ کہہ کر گھر میں چھان بین کرنے لگے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو ۔ یہ دیکھ کر میری چھوٹی بہن دوڑ کر میرے والد کی گود میں جاکر بیٹھ گئی ۔ وہ میرے والد کے سینے سے لپٹ ہی رہی تھی کہ ایک فوجی نے گولی چلادی۔ میری بہن کی ایک چیخ نکلی۔

خن میو کے والد یو ماؤنگ کو ہاشم بائی نے "میانمار مسلم میڈیا” کو بتایا کہ میری بیٹی نے کراہتے ہوئے کہا : بابا بہت درد ہورہا ہے۔ ہم اسے ہسپتال لے کر بھاگے۔ اس نے آدھے گھنٹے میں ہی دم توڑ دیا۔ اُدھر پولیس نے میرے 19 سالہ بیٹے کو پہلے زدوکوب کیا اور پھر گرفتار کرکے لے گئی ۔

خن میو چٹ کی غمزدہ ماں نے بتایا کہ فوجی لاشوں تک کو نہیں چھوڑتے اور چھین کر لے جاتے ہیں ۔لہذا ہم اس کی لاش کو چھپائے پھرتے رہے ۔ یہاں تک کہ قبرستان میں بھی کافی دیر تک ہم نے اس کا جنازہ گاڑی میں ڈالے رکھا کیونکہ وہاں بھی لوگ جمع تھے ۔ جب لوگ چلے گئے تو ہم نے نماز جنازہ پڑھی اور بچی کی میت کو دفناکر قبر میں سیمنٹ بھردیا۔

میں برمی فوجیوں کے اس سلوک کی وجہ سمجھ نہیں سکا۔میں دوسری مصروفیات کے ساتھ ساتھ اس سلسلے کی تفصیلات کا بھی مطالعہ کرتا رہا۔ میں نے سی این این کی صحافی ہیلن ریگن’ پاؤلا ہنکاکس اور سلائی ٹی زیڈ کی رپورٹس بھی پڑھ ڈالیں۔ آخر کار مجھے "کرسچین سائنس مانیٹر” کی اسٹاف رپورٹر این اسکاٹ ٹائسن کی ایک تازه رپورٹ مل گئی ۔

ٹائسن کی رپورٹ نے جو انکشاف کیا وہ میرے لئے انتہائی متحیر کرنے والا تھا۔ ٹائسن نے سوچی کے حق میں شائع لال پیلے پوسٹروں میں گھرے ہوئے پیٹر کے حوالے سے بتایا کہ اس وقت میانمار میں ہر فرقہ کاندھے سے کاندھا ملاکر فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرہ کر رہا ہے۔ پیٹر دراصل ایک مسلمان ہے۔ٹائسن نے یہ نام اس کے تحفظ کی خاطر استعمال کیا ہے۔ پیٹر کو اس بات کا بہت صدمہ ہے کہ فوجیوں نے اس کے بہت سے بدھشٹ دوستوں کو ہلاک کردیا ہے۔ پیٹر بتاتا ہے کہ برمی فوجی مظاہرہ شروع ہوتے ہی بڑی تیزی سے پہنچ جاتے ہیں اور بلا امتیاز فائرنگ اور مار دھاڑ شروع کردیتے ہیں ۔

ٹائسن نے اپنی تفصیلی اور دو گھنٹے پہلے کی Updated رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہرچند کہ مسلمانوں اور بدھشٹوں کے درمیان دہائیوں پرانی خونی نفرت کی تاریخ ہے لیکن فوجی بغاوت نے انہیں یکجا کردیا ہے’ وہ پوری طرح متحد ہیں اور ایک پلیٹ فارم پر آکر فوج کے خلاف زبردست مظاہرے کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ سوچی جمہوری طور پر منتخب حکمران تھی اور فوج نے اسے بے دخل کرکے گناہ کیا ہے۔ٹائسن بہت سے مسلمان اور بدھسٹ مظاہرین کے حوالے سے لکھتی ہے کہ اب ہم ایک ہیں ۔

ٹائسن نے مزید لکھا کہ بہت سے دانشوروں نے بتایا کہ فوج کے خلاف مظاہروں میں مسلم بدھسٹ اتحاد دراصل بین المذاہب ہم آہنگی کی ان کوششوں کا ثمرہ ہے جو نیم جمہوری حکومت کے آتے ہی مسلمانوں نے شروع کردی تھیں۔ یہ کام ایک ایسے ملک میں بہت مشکل تھا جہاں فوج نے ایک مدت تک روہنگیائی مسلمانوں کو قتل وغارت گری’ آگ زنی’ لوٹ مار اور ان کی خواتین کو اجتماعی عصمت دری کا شکار بنایا۔ اس کے نتیجہ میں 2017 سے اب تک سات لاکھ 30 ہزار روہنگیائی مسلمان بنگلہ دیش بھاگنے پر مجبور ہوئے ۔

ایک عیسائی رضاکار ” اے” نے بتایا کہ آج ملک میں ایک طرف جہاں بدھشٹ اور مسلمان ایک مضبوط سیاسی رشتے میں بندھ رہے ہیں وہیں ملک میں پہلی بار کھلے دل سے اس پر مذاکرات ہورہے ہیں کہ ہندو’ مسلمان’ سکھ اور عیسائی ہونے کا مطلب کیا ہوتا ہے اور یہ کہ وہ سب بھی وطن پرست ہیں ۔ "اے” نے کہا کہ اب بدھسٹ اور مسلمانوں کا اس لیے بھی قریب آنا ضروری ہے کہ فوج نام نہاد نیشنلسٹ بدھسٹوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے مسلمانوں کے خلاف انہیں بھڑکاسکتی ہے۔۔ اس نے بتایا کہ کل تک یہ بڑا آسان تھا کہ یہ مسلمان ہے اور اس نے فلاں بدھسٹ خاتون کی آبرو لوٹی ہے۔۔ بس پھر کیا تھا کہ ہجوم اس پر ٹوٹ پڑتا۔لیکن اب شاید ایسا نہ ہوسکے۔

میں ابھی تک سوچ رہا ہوں کہ کیا میانمار کے اس قصہ میں ہمارے لیے بھی سوچنے سمجھنے کو کچھ ہے؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*