مائیک کا بے دریغ استعمال:نیکی برباد، گناہ لازم ـ مولانا محمود احمد خاں دریابادی

الحمدللہ رمضان کی مقدس ساعتیں بس آیا ہی چاہتی ہیں، عبادت،تلاوت، نماز، روزہ، تراویح، تسابیح، زکوۃ، فطرہ اور خیرات کا مہینہ ؛ اسی کے ساتھ سحری افطار کے بازاروں، عید کی شاپنگ، کپڑے، جوتے، میوے، مصالحے، سوئیں اور شیرینی خریدنے کے لئے مسلمان مردوں اور عورتوں کا زبردست ازدحام، جس کی وجہ ٹریفک کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، بیماروں اور کمزورں کے لئے زبردست مشکلات پیش آتی ہیں، ساتھ ہی ہمارے نوجوانوں کی بائیک پر رات بھر کی مٹرگشتی اور غلط جگہ گاڑیاں پارک کرنے عادت کی وجہ سے بھی عوام الناس پریشان ہوتے ہیں، پریشان ہونے والوں کی بہت بڑی تعداد بلکہ اکثریت خود مسلمانوں کی ہوتی ہے ـ

 

رمضان سے قبل ان ہی سب مسائل پر غور کرنے کے لئے بروز جمعرات  ۳۱ مارچ ۲۰۲۲ کو ممبئی کے پولیس کمشنر مسٹر سنجے پاڈے نے شہر کے مقتدر علماء اور خواص کی میٹنگ بلائی، جس میں دیگر اعلی پولیس افسران بھی موجود تھے، کمشنر صاحب نے ابتدا ہی میں تمام علما اور خواص کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے شب برات سے قبل کی میٹنگ میں ممبئی پولیس کی طرف سے جو درخواست کی تھی کہ مقدس راتوں میں مسلم نوجوانوں پر کنٹرول رکھیں، سڑکوں پر بائیک دوڑ کے مقابلے، ایک بائیک پر تین چار افراد کا سوار ہوکر ریسنگ کرنا، لوکل اسٹیشنوں پر مسلم نوجوانوں کے ہنگامے، بلاوجہ کی نعرے بازی، قبرستانوں پر دھینگا مستی جیسے معاملات بڑی جو ہرسال بڑی تعداد میں رپورٹ ہوتے تھے، اس سال آپ حضرات کی کوششوں کی وجہ سے پورے شہر میں اس طرح کا ایک بھی معاملہ سامنے نہیں آیا، قبرستانوں میں بھی پورے ڈسپلن کے ساتھ مسلمانوں نے زیارت کی ـ انھوں نے کہا کہ میں تقریبا ۳۲ سال سے ممبئی پولیس کے مختلف عہدوں پر رہا ہوں اس سال جس طرح ممبئی میں شب برات پورے تقدس، احترام اور ضابطوں کی رعایت کے ساتھ منائی گئی ہے میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا ـ

 

کمشنر صاحب نے رمضان کا ذکر کرتے ہوئے بھی علما سے پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ ایسا ہی تعاون کرنے کی اپیل کی، انھوں نے کہا کہ ہم ہر طرح سے آپ کے ساتھ ہیں، ہم ہر جگہ موجود بھی رہیں گے مگر ہم اپنی طرف سے آپ حضرات پر کوئی پابندی بالکل نہیں لگارہے ہیں، بس آپ حضرات اپنے طور پر یہ نظر رکھیں کہ کہیں بھی ایسا کوئی کام نہ ہو جس کی وجہ سے کسی دوسرے کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے، ہمیں پوری امید ہے کہ جس طرح شب برات میں آپ  حضرات کے تعاون کی وجہ سے پولیس کو کہیں سے بھی کوئی شکایت نہیں آئی رمضان کا مقدس مہینہ بھی مکمل امن وامان سے گزرے گا ـ

 

دوران گفتگو انھوں نے سرسری طور پر یہ بات بھی بتائی کہ ان کے پاس دو روز قبل دوسرے لوگ بھی آئے تھے جو رمضان میں مسلمانوں کی بعض چیزوں پر روک لگانے کی بات کررہے تھے، کمشنر صاحب کا کہنا تھا کہ میں نے ان سے صاف اور دوٹوک انداز میں کہہ دیا کہ ممبئی پولیس کو آپ کے مشوروں کی ضرورت نہیں، پولیس کمزور نہیں ہے، کب کہاں کیا کرنا ہے خوب جانتی ہے، آپ حضرات اپنی حد میں رہیں ورنہ…

 

آخر میں ایک اہم معاملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کمشنر صاحب نے کہا کہ کچھ علاقوں سے ( ممبئی کے ایک علاقے کا نام بھی لیا ) مائیک کے بے جا استعمال کی شکایت آرہی ہے، انھوں نے کہا کہ ہم وہاں بھی کسی طرح کی مداخلت نہیں کرنا چاہتے آپ حضرات ذمہ دار افراد ہیں وہاں کے لوگوں سے رابطہ کرکے معاملے کا کوئی ایسا حل نکالیں کہ مقامی افراد کو شکایت کا موقع نہ ملے ـ

کمشنر صاحب کے ساتھ ہونے والی یہ میٹنگ بہت مثبت رہی، انشااللہ اس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے،مگر آخر میں انھوں نے مائیک والا معاملہ جو اٹھایا اس پر ہم لوگوں کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، مسجدوں میں مائیک کے استعمال، مائیک پر اذان وغیرہ پر کوئی پابندی نہیں ہے، مگر ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ ہمارے یہاں مائیک کا بے جا، غیر ضروری، بے دریغ اور بے دردانہ استعمال نہیں ہورہا ہے ؟ اذان کے علاوہ بھی بچوں کے پروگرام، علماء کی تقاریر، نعت اور تلاوت، قبل اذان، بعد اذان اور  نماز بعد کے طول طویل معمولات مائیک پر پوری آواز سے نشر ہوتے ہیں، بعض جگہ مائیک مسجدوں کے آس پاس کی گلیوں میں ہی نہیں بلکہ دور دراز تک لگائے جاتے ہیں، اگر آس پاس کئی مسجدیں ہیں تو ہر مسجد کے مائیک پوری قوت سے چلتے ہیں، کان میں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، رمضان کی راتوں میں بعض جگہ پوری رات مائیک چلتے ہیں، محلے کے چھوٹے چھوٹے بچے تلاوت، نعت اور نعرے بازی کی مشق کرتے رہتے ہیں، ایسے میں بیماروں خصوصا دل کے مریضوں کی کیا حالت ہوتی ہوگی بخوبی سمجھا جاسکتا ہے، مسلمان تو پھر بھی مسجد کے احترام میں کچھ کہہ نہیں پاتے مگر غیر مسلم برادران وطن اس صورت حال کو کیسے برداشت کرپائیں گے ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے ـ

 

ہونا تو یہ چاہیے تھا  کہ لوگ ہمارے اعمال، اخلاق اور کردار کو دیکھ کر اسلام کے قریب آتے مگر ہماری اس طرح کی حرکتوں کی وجہ سے ہمارے برادران وطن جن کا ذہن فرقہ پرستوں نے پہلے ہی خراب کررکھا ہے وہ مزید بدظن ہوتے جارہے ہیں،یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ شریعت میں ہر وہ حرکت جس سے خلق خدا کو تکلیف پہونچے قطعی حرام اور ناجائز ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم جو کام شریعت اور ثواب سمجھ کر کررہے ہیں وہی ہمارے لئے عذاب کا سبب بن جائے، اسی کو کہتے ہیں نیکی برباد گناہ لازم  !

ضرورت ہے کہ ہر علاقے اور ہر محلے میں ایسے سمجھ دار نوجوان آگے آئیں اور از خود اپنے یہاں کی مساجد کے ذمہ داروں کو سمجھا بجھا کر وہاں  ہونے والے مائیک کے غیر ضروری استعمال کو روکنے پر راضی کریں، ورنہ خدا نخواستہ شہر کی انتظامیہ کی طرف سے سختی ہونے لگی تو اس کی زد میں شہر کی تمام مسجدیں بھی آجائیں گی ـ

ایک بار پھر یہ وضاحت کرنی ضروری ہے کہ مائیک پر نماز اور اذان پر کوئی پابندی نہیں ہے، بس اس کے بے استعمال کو روکنا چاہیے، یہ ہم سب لوگوں کی اخلاقی اور شرعی ذمے داری بھی ہے ـ

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*