مثالی استاد کامران غنی صبا-مکرم حسین

اپنے ہر دلعزیز استاد کامران غنی صبا سر کی پوسٹ کو دیکھ کر خوشی تو بے انتہا ہوئی کہ ہمارے عزت مآب سر کی جوائنینگ بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر ہوگئی۔ لیکن غم بھی بہت ستا رہا ہے کہ اب چک نصیر اسکول اور بالخصوص علاقے کے بچے کو آپ کی کمی ہمیشہ کھلے گی۔ آپ کے جانے سے طلباء وطالبات کے مستقبل پر بھی اس کا اثر پڑے گا، سرکاری اسکول کے نظام سے تو ہم اور آپ پہلے سے بخوبی واقف ہیں۔ اب تو پھر بچوں کا وہی روزانہ کا معمول صبح گھر سے بیگ لے کر آنا، حاضری درج کروا کر، استاد سے پانی پینے کے بہانے کلاس سے باہر، پھر باغیچہ یا آم کے پیڑوں کی شاخوں سے لٹکنا، چہل قدمی کرنا اور بھی دوسری دیگر شرارتی حرکتوں میں ملوث ہونا۔ اور چھٹی ہوتے ہی بیگ لے کر واپس گھر۔
کون استاد اس بات کی فکر کرتا ہے کہ اس کے بچے نہیں آئے تو ان کے گھر جائے اور نہیں آنے کا سبب پوچھے، اور دیگر الگ – الگ جگہوں پر بھی جہاں بچوں کے شرارت کے اڈے رہتے ہیں جائے اور وہاں جاکر بچوں کو لائے، ان سب وجہوں سے بچوں کے دل میں پیار کے ساتھ ساتھ آپ کا ڈر، خوف اور رعب بھی تھا، یہاں تک کہ بچے دیکھتے رہتے تھے کہ کامران سر تو نہیں آ رہے ہیں اور گلی ڈنڈے کھیلنا، کنچے کھیلنا، اور بھی دیگر شرارتیں جیسے کرکٹ کے میدان میں تو ہر جگہ ایک – ایک بچہ اپنی باری سے سر کی نگرانی میں رہتا کہ کہیں سر تو نہیں آ رہے ہیں اور سر بھی ایسے کہ ایک دو بچوں کے ساتھ نہیں بلکہ پورے ایک چھاپا دستے کے ساتھ پوری پلاننگ کے تحت جاتے۔ وہ کبھی بچوں کو پیار سے سمجھاتے، کبھی سرزنش کرتے، کبھی گارجین سے شکایت کی دھمکی دیتے اور کبھی بطور سزا اپنے روم پر رکھ کر گھنٹوں اسکول کا کام کرواتے.
ہمیں یاد ہے جب سر کی آمد چک نصیر اسکول میں ہوئی تو شام کا وقت تھا چھٹی ہوئی ہی تھی ہم سارے دوست روز کی طرح شور و غل کرتے ہوئے کلاس سے باہر آ رہے تھے، تبھی ہم لوگوں کی نظر آفس کے سامنے رکھی کرسی پر گئی. سامنے اجنبی کی طرح بیٹھے ایک شخص جو ہم لوگوں کو بہت غور سے دیکھ رہے تھے کو دیکھ کر ہم لوگوں نے سوچا کہ ہونگے کوئی لیکن اگلے دن میں جیسے ہی اسکول آیا انہیں اپنی کلاس میں پایا، سر کا پہلا دن تھا، بیٹھے تھے کرسی پر ہم لوگوں کا وہی روز کا معمول اور چونکہ ہم درجہ ہفتم کے طالب علم تھے تو ہم لوگ اسکول میں سینئر تھے تو اپنوں سے چھوٹوں پر حاوی رہتے تھے اور انہیں ڈرا کر رکھتے تھے۔ اسی ضمن میں روزانہ جب بغل والے کلاس (ساتویں درجہ) کی لڑکے باؤنڈری وال سے کراس کرتے تو ہم لوگ اسے اپنے کھڑکی کے پلے سے ڈھکیل کر نیچے گراتے، ہم لوگوں میں تو وہی ڈیلی کے معمول میں ویسا کرنا شامل تھا تو ویسا ہی کیا بھی، ہمیں کیا معلوم کہ یہ سر دوسرے اساتذہ کرام سے الگ ہیں پھر کیا تھا سر نے ہمارے کان کو پہلے پکڑا اور پھر ہمارے ہنسنے پر کان کو زور سے کھینچا۔ اس طرح میں وہ پہلا طالب علم بنا جس نئے سر کے ہاتھوں پہلی بار سزا پائی.
اسی طرح دوسرا واقعہ ہم لوگوں کے ساتھ یہ پیش آیا کہ لنچ کا وقت تھا اور ہم لوگ ایک چھت سے دوسرے چھت پر کنکر – پتھر سے ایک دوسرے پر چوٹ کر رہے تھے، تو سر کی نظر دور سے ہی ہم لوگوں پر پڑ گئی۔ پھر کیا تھا آتے ہی پہلے تو اسٹیل کے اسکیل سے سب کے ہاتھوں پر چوٹ کی اور پھر رایٹنگ تو الگ. سر جتنے غصّے میں ہوتے، اس حساب سے رائٹنگ کے لیے صفحات کی تعداد طے ہوتی. ہمیں تو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی کیونکہ ہم تو ڈیلی لکھتے ہی تھے اپنے والد محترم کو چیک کرانے کے لیے روز تین صفحہ جو ہمیں کافی دنوں کے بعد چیک کرانا ہوتا تھا، تاریخ کے مطابق وہ کاپیاں تھیں تو میں تو بہت جلد ہی چیک کرا دیا باقی بچے کو بہت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی ساتھیوں کو تو سر کے کمرہ پر جاکر مکمل کرنا پڑا۔
چونکہ میں تو آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا اس لیے سر کی سرپرستی ہمیں زیادہ دن تک نصیب نہیں ہوئی البتہ اسکول سے باہر بھی سر کی تنبیہ اور نصیحت جاری رہی۔ سر کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ ان کی تنبیہ یا سرزنش کسی طالب علم کو کبھی گراں نہیں گزرتی تھی. یہی وجہ ہے کہ اسکول کا ہر طالب علم آج بھی سر کی دل سے عزت کرتا ہے.
ایک مرتبہ میں اپنے دوست نفیس کے گھر کے سامنے کرکٹ کھیل رہا تھا، تو کسی بات پر میرے منھ سے کوئی نازیبہ اور ناشائستہ بات نکل گئی تبھی سر مغرب کی نماز پڑھنے مسجد جارہے تھے، انہوں نے سن لیا. پھر کیا تھا سر آئے اور ہمارا کان کھینچا اور سمجھایا کھیل کے دوران اور کبھی بھی گالی نہیں بولتے یہ بری بات ہوتی ہے۔
اور بھی اس طرح کے دیگر واقعات ہیں لیکن ایک بہت ہی اہم واقعہ یہ ہے کہ میں جب دسویں جماعت میں تھا تو امتحان کا وقت نزدیک تھا. اردو کی تیاری کیلئے میں سر کے کمرہ پر گیا لیکن سر نے صاف انکار کر دیا یہ کہہ کر کہ ہمارے پاس پہلے ہی دوسرے کاموں کا پریشر رہتا ہے پھر اوپر سے تم لوگوں کا بوجھ ہم سے نہیں ہو پائے گا۔ ہمیں پتہ تھا کہ استاد تو استاد ہوتے ہیں اور آپ جیسے استاد کا ملنا اس دور میں مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ سر تو ایسے ہی ٹینشن دینے میں آگے تھے وہ ایسے ہی کسی بھی چیزوں میں انکار کر دیتے، اس طرح وہ بچوں کو ٹٹولنے کی کوشش کرتے تاکہ اس کے ذوق و شوق کا اندازہ ہو. اس دن بھی شاید سر ہمارے شوق کا امتحان لے رہے تھے اس لیے جب ہم لوگ مسلسل ضد کرتے رہے تو وہ تیار ہوگئے اور نصابی کتاب درخشاں کو اچھی طرح پڑھایا۔ الحمدللہ ہم سارے طالب علم جو اس نصاب کا مطالعہ کر رہے تھے امتیازی نمبرات سے کامیاب ہوئے۔
اس طرح سے ہم تمام طالب علم اور ہمارا علاقہ ہی نہیں علاقے کے لوگوں نے بھی آپ سے بہت خدمت لی اور آپ بھی بلاجھجک کسی بھی کام کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی۔ تدریسی خدمات کے علاوہ آپ نے اپنے دیگر فنون کا بھی مظاہرہ کیا اور الگ – الگ خدمات انجام دیں علاقے کے ہر بڑے،چھوٹے کاموں میں پیش-پیش رہے، آپ نے کبھی ایسا محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ آپ اس گاؤں کے ایک اسکول کے استاد ہیں۔
آپ مختلف کمپیٹیشن کا بھی انعقاد کرتے رہے جس سے علاقے کے بچوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ہمہ جہت نشونما بھی ہوئی۔ آپ عام معلومات کی جانکاری طالب علم کے لیول کے مطابق اس کو دیتے رہے، جس کی ضرورت انہیں ہوتی۔ یہی نہیں آپنے نے معاشی خدمات بھی پیش کیں۔
ہمیں بھی فخر کہ ہمیں آپ کی سرپرستی حاصل ہوئی۔
ان سب بے شمار احسانات کے لئے ہم سب طلباء وطالبات اور علاقے کے لوگ ممنون و مشکور ہیں۔ آپ کے ذریعہ سے جو علم کی شمع اس علاقے کے گھر گھر میں جلائی گئی ہے ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں وہ بجھ نہ جائے۔ اللہ کرے یہ اندیشہ غلط ثابت ہو.
آپ کی قربانیوں کو ہم تمام طالب علم اور اہل علاقہ کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔۔۔۔
آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ وہ آپ کی قربانیوں اور خدمات کا بہتر سے بہتر اجر دے، آپ کو صحت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے اور ہر شعبہ میں مزید ترقی دے۔۔۔آمین

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)