ایم آئی ایم لیڈراخترالایمان کالفظ’ہندوستان‘ پراعتراض

پٹنہ:پیرکوبہاراسمبلی اجلاس کاآغازہوا۔ نومنتخب ممبران اجلاس کے ابتدائی دو دن حلف برداری کے دوران پیرکوممبروں کی حلف برداری کے دوران اس وقت ایک عجیب صورتحال کاسامناہواجب آل انڈیامجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی قانون ساز پارٹی کے لیڈر اختر الایمان نے اس بات اعتراض کیاہے کہ حلف ہندوستان کے چار مختلف زبانوں میں سے لیناہے۔اوراردومیں ہندوستان کے نام پرلیناہے۔ اس پربی جے پی ممبرنے ا نہیں پاکستان جانے کامشورہ دیاہے۔ نومنتخب اراکین اسمبلی کی حلف برداری کے پہلے دن جب باری اے آئی ایم آئی ایم کے رکن اختر الایمان کے حلف لینے کی آئی توانہوں نے پروٹیم اسپیکرپراعتراض کیا۔ اس کے بعد بی جے پی کے ایم ایل اے نیرج کمار ببلو نے بھی انہیں پاکستان جانے کا مشورہ دیا۔ تاہم جب اخترالایمان حلف اٹھانے کے بعدباہر آئے تو انہوں نے اس مسئلے پروضاحت پیش کی۔ اے ایم آئی ایم کے اس ایم ایل اے نے کہا ہے کہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا سے محبت ہے ،پریم ہے بھارت سے،لوہے انڈیاسے۔اس مسئلہ پربیان بازی شروع ہوگئی ہے۔شرپسنداورفرقہ پرست عناصراس کاسہارالے کرلنچنگ کرسکتے ہیں۔ایساسمجھاجاتاہے کہ مجلس نے پھربی جے پی کوایک موضوع دے دیاہے۔تاہم اس معاملے پرسنسکرت میں حلف اٹھانے والے کانگریس کے ممبر شکیل احمد خان نے کہاہے کہ یہ سارا تنازعہ جان بوجھ کر کیاگیا ہے۔ کانگریس کے ایم ایل اے شکیل احمد خان نے کہا ہے کہ اقبال کی ایک مشہور نظم ہے سارے جہاں سے اچھاہندوستان ہماراتواختر الا بھائی کس زبان میں حلف لے رہے تھے۔