م۔ افضل: صحافت ، سیاست اور سفارت کا مرکب معصوم مرادآبادی

 

ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی شخص زندگی کے مختلف اور متضاد میدانوں میں اپنی قسمت آزمائے اور ہرمیدان سے سرخروہوکر گزرے۔ مگر ہمارے درمیان ایک ایسا شخص بھی ہے جس نے صحافت، سیاست اور سفارت جیسے مختلف اور کئی معنو ں میں متضاد میدانوں میں قسمت آزمائی اور ہرمیدان سے کامیاب اور کامران ہوکر گزرا۔ یہ شخصیت ہے سابق ممبرپارلیمنٹ اور سفارت کار جناب م۔ افضل کی۔حالانکہ انھوں نے ایک اسکول ٹیچر کے طورپر اپنا کیریر شروع کیا تھا، لیکن قسمت انھیں صحافت کی پرخار وادی میں لے گئی۔ ان کے کلاس فیلو شاہدصدیقی نے انھیں ہفت روزہ’نئی دنیا‘ میں بطوراخبارنویس کام کرنے کا موقع فراہم کیا اور اس طرح انھوں نے صحافت کی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ یہ وہ دور تھا جب اردو اخبارات میں فیلڈ رپورٹنگ کا کوئی تصور نہیں تھا اور بیشتر خبریں میز پر ہی وجود میں آتی تھیں، لیکن م۔افضل نے اس روایت کوتوڑا اور’نئی دنیا‘ کے لیے اوریجنل رپورٹنگ شروع کی۔ اس دوران انھوں نے کئی سرکردہ سیاست دانوں کے انٹرویو بھی لیے اور اردو صحافت کی دنیا میں اپنامقام بنایا۔پھر ’نئی دنیا‘ کو خیرباد کہہ کر 1983میں خود اپنا ہفتہ وار ’اخبارنو‘ نکالا، جس نے جلد ہی صحافت کی دنیا میں اپنی پہچان بنالی۔ یہی وہ دور تھا جب میری ان سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے مجھے ’اخبارنو‘ میں کام کرنے کی پیشکش کی۔ مگر یہ پیشکش بطور صحافی نہیں بلکہ اخبار کی سرخیاں لکھنے اور لے آؤٹ ڈیزائننگ کے لیے تھی کیونکہ اس وقت یہی میری پہچان تھی۔اس کی تفصیل بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔
میں ایک روز سوئیوالان سے تراہا بہرام خاں کی طرف جانے والی سڑک پر کسی سوچ میں مگن خراماں خراماں جارہا تھا کہ اچانک ایک ٹووہیلر میرے پیچھے آکر رکا اور آواز آئی ”اخبار میں کام کروگے؟“ میں نے پیچھے مڑکر دیکھا تو یہ م۔افضل تھے، جنھیں میں نے کبھی غالب اکیڈمی میں اپنی خطاطی کلاس میں دیکھا تھا۔ وہ کبھی کبھی کتابت اور خطاطی کا کوئی کام کرانے استاذی خلیق ٹونکی کے پاس آتے تھے۔اخبار میں کام کرنے کی پیشکش میرے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں تھی کیونکہ اس سے پہلے میں نے اخبار میں کام کرنا تو کجا کبھی اخبارکے دفتر کا منہ تک نہیں دیکھا تھا۔ مگرافضل صاحب نے مجھے اتنی محبت سے پکارا تھا کہ میں انکار نہیں کرسکا اور ان کی اسکوٹر پہ بیٹھ کر ’اخبارنو‘ کے دفتر پہنچ گیا، جو ان دنوں ترکمان گیٹ کے قریب ایک گلی میں واقع تھا۔چھوٹے سے دفتر میں اخباری ضرورت کی تمام چیزیں موجود تھیں۔ مجھ سے کہا گیا کہ ”آج سے آپ ہی اخبار کی سرخیاں لکھیں گے اور اس کا ’لے آؤٹ‘بھی بنائیں گے۔ یہ کام میرے لیے بالکل نیا تھا کیونکہ اس سے پہلے میں نے صرف رسائل وجرائد میں بطور خوش نویس کام کیا تھا۔ افضل صاحب نے میری رہنمائی کی اور مجھے بتایا کہ کس طرح اخبار کا لے آؤٹ ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کمپیوٹر ایجاد نہیں ہوا تھا اور سب کام لکڑی کے قلم اور برش سے ہی کرنا پڑتا تھا۔
افضل صاحب کے لیے یہ بڑا چیلنج بھر ا زمانہ تھا۔ وسائل ان کے پاس تھے نہیں اور وہ بڑی بے سروسامانی کے عالم میں اخبار نکال رہے تھے۔ کچھ پیشہ ورانہ رقابتیں بھی ان کے پاؤں کی زنجیربنی ہوئی تھیں، جن کا وہ بڑی ہمت سے مقابلہ کررہے تھے۔ ان کے پرانے دوست نہیں چاہتے تھے کہ وہ صحافت کی دنیا میں اپنی کوئی آزادانہ شناخت بنائیں۔مگر ان کے دل ودماغ میں جو کچھ سمایا ہوا تھا، وہ اسے عملی جامہ پہنانے کی جدوجہد میں رات دن مصروف تھے۔ ان کا پورا دن اخبار کے لیے مواد اور وسائل کی فراہمی کی بھاگ دوڑ میں گزرتا تھا۔ وہ اکثر شام کے بعد اپنی اسکوٹر پہ تھکے ماندے دفتر پہنچتے اور اس کے بعد ہمارا کام شروع ہوتا تھا۔ دفتر میں رات گئے تک رکنا عام بات تھی۔ کبھی کبھی رات کے دو بھی بج جاتے تو افضل صاحب اس خاکسار کو اپنی اسکوٹر پر بٹھاکر کوچہ چیلان میں واقع اس بلڈنگ تک پہنچاتے تھے،جہاں ایک چھوٹے سے کمرے میں میرا قیام تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں محنت کرنے کا ہنر افضل صاحب سے ہی سیکھا۔انھوں نے اپنے اخبار کو جمانے کے لیے انتھک جدوجہد کی۔مجھے یاد ہے کہ ایک دن ان کے گردے میں پتھری کا شدید درد اٹھا۔ اخبار کی کاپی پریس جانی تھی اور صفحہ اوّل کا مضمون تیار نہیں تھا۔ افضل صاحب نے شدید درد کی حالت میں بائیں ہاتھ سے اپنی کمر پکڑی اور دائیں ہاتھ سے مضمون مکمل کیا۔ اس کے بعد وہ کراہتے ہوئے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ افضل صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ جس کام میں لگ جاتے ہیں، اسے انجام تک پہنچاکر ہی دم لیتے ہیں۔ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور لوگوں کے کام آنا انھیں سب سے زیادہ پسند ہے۔ان کے مزاج میں تنگی اور طبیعت میں بخل نہیں ہے۔ اسی لیے وہ حسد کی بیماری سے دور ہیں اور دوسروں کی صلاحیتوں کا اعتراف کھلے دل سے کرتے ہیں ۔
مجھے یاد ہے کہ میری زندگی کا پہلا اخباری مضمون ’اخبارنو‘ میں ہی شائع ہوا تھا،جسے پڑھ کر افضل صاحب نے کہا تھا کہ’’تم تو اچھا خاصا لکھ لیتے ہو۔“میں نے اسی دوران 1984میں رامپور جاکر ’اخبارنو‘ کے لیے اعظم خاں کا انٹرویو لیا تھا۔ یہ دہلی کے کسی اخبار میں شائع ہونے والا ان کا پہلا انٹرویو تھا۔ افضل صاحب کی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے دفتر میں کام کرنے والے کسی کارکن کی صلاحیتوں کو دباتے نہیں تھے بلکہ اسے پروان چڑھنے کا موقع دیتے تھے۔اگر وہ میرا مضمون اخبار میں شائع نہیں کرتے تو میرا حوصلہ نہیں بڑھتا اور آج شاید مجھے بطورصحافی کوئی جانتا بھی نہیں، کیونکہ ’اخبارنو‘ میں شائع شدہ بعض مضامین کی بنیاد پر ہی مجھے ’نئی دنیا‘ میں دوگنی تنخواہ پر بطور نامہ نگار ملازمت ملی۔
افضل صاحب نے ’اخبارنو‘ کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے بعد سیاست کی طرف جست لگائی۔ سیاست دانوں سے ان کے وسیع تعلقات تھے اور خاص طورپر وہ مسلم لیڈران کے بہت قریب تھے۔ان میں عارف محمدخاں کے علاوہ جامع مسجد کے شاہی امام عبداللہ بخاری مرحوم اور ان کے بیٹے نائب امام سید احمدبخاری سے ان کو تعلق خاطر تھا اور وہی راجیہ سبھا میں ان کی نامزدگی میں معاون ثابت ہوئے۔ راجیہ سبھا کے ایک سرگرم ممبر کے طورپرانھوں نے اپنی گہری چھاپ چھوڑی اور اس عرصے کو مسلم مسائل اور اردو اخبارات کی فلاح وبہبود کے لیے وقف کردیا۔ انھوں نے ایوان بالا کے رکن کے طورپر اپنی کارکردگی کے جو نقوش چھوڑے وہ کم ہی لوگ چھوڑ پاتے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے سفارت کاری کے میدان میں قدم رکھا۔ وہ ترکمانستان سمیت کئی ملکوں کے سفیر بنائے گئے اور اس میدان میں بھی انھوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ان کے اندر ایک خاص قسم کی بردباری اور معاملات کو زیادہ بہتر طورپر سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوئی۔
افضل صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے صحافت، سیاست اور سفارت کے میدان میں کامیابی کی منزلیں طے کرنے کے باوجود ان لوگوں کو کبھی فراموش نہیں کیا، جو ان کی زندگی کو بنانے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ اپنے پرانے دوستوں اور خیرخواہوں سے اسی انداز میں ملتے جلتے رہے۔ان کی پیدائش ایک انتہائی غریب گھرانے میں ہوئی تھی، جہاں تعلیم کا بھی کوئی چلن نہیں تھا۔ان کی پرورش کوچہ چیلان کے ایک حکیم جی کے ہاں ہوئی جنھوں نے انھیں گود لے کر پالاتھا ۔افضل صاحب نے ایک موقع پر بتایا تھا کہ ان کی زندگی میں لفظ’احمد‘ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ان کے والد کا نام محمد’احمد‘ہے۔ ان کے محسنوں میں مولانا سید’احمد‘بخاری اور مرحوم ’احمد‘پٹیل کے نام شامل ہیں۔ احمدبخاری نے انھیں راجیہ سبھا تک پہنچنے میں مددکی جبکہ احمدپٹیل انھیں سفیر بنانے میں مددگار ثابت ہوئے۔ یہ دراصل احسان مندی کا ایک ایسا جذبہ ہے جو آج کل کم ہی لوگوں میں پایا جاتا ہے۔کیونکہ کامیابی کی منزلیں طے کرنے کے بعد سب سے پہلے لوگ ان ہی لوگوں کوفراموش کردیتے ہیں جو ان کی زندگی بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ افضل صاحب اپنے محسنوں کو بھی ایسے ہی یاد رکھتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے بچپن اور لڑکپن کے دوستوں کو۔ خدا انھیں صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھے۔