ملی اداروں میں نئے انقلاب کی آہٹ ـ خان افسر قاسمی

 

ہر طرف جناب مولانا فیصل ولی رحمانی کا چرچا ہے، کچھ لوگ ان کے مخالف ہیں تو کچھ موافق، وہ مخالفین کی نظر میں بد دین ہیں تو موافقین کے نزدیک فرشتوں کی جماعت کا بھٹکا ہوا فرد ہیں اور المیہ یہ ہے کہ ہماری علماء برادری کچھ اسی طبیعت کی واقع ہوئی ہے کہ پسند آجائے تو اس کی خوبیاں بیان کرنے میں اس مبالغہ آرائی سے کام لیتی ہے کہ صرف صراحتا “نبی” کہنا باقی رہ جاتا ہے؛ ورنہ اوصاف کے اعتبار سے درجہ وہی دیتی ہے، دوسری طرف مخالفین بھی ان سے پیچھے کیوں رہیں، وہ کھل کر “ابو جہل” نہیں بولتے؛ ورنہ جو صفات رذیلہ بیان کرتے ہیں، وہ کم از کم ابلیس کا وفادار ثابت کرنے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔
میں نے چند دنوں سے فیصل ولی صاحب کی ویڈیوز کو دیکھنا شروع کیا ہے، انسان کی گفتگو سے اس کی شخصیت بڑی حد تک واضح ہوجاتی ہے، اگر کھلے دل سے کہا جائے تو امارت شرعیہ جیسے ادارہ کو موزوں ترین شخص ملا ہے، امارت کو کسی بڑے صاحب علم و فضل اور زہد و ورع میں نمونہ اسلاف سے زیادہ دنیا کے روز مرہ بدلتے منظرنامے پر عقابی نگاہ رکھنے والے کسی بالغ نظر “مرد مومن” کی ضرورت تھی، جو وقت کا غلام ہونے کے بجائے اس کا رخ موڑنے کے ہنر سے واقف ہو، ایک طرف اس کے اندر دین کو غیروں میں پیش کرنے کی حکیمانہ صلاحیت ہو تو دوسری طرف وہ دنیا داروں اور اہل سیاست کی چال پر شاہین کی نگاہ رکھنے والا ہو، فیصل ولی رحمانی کو حقیقی معنوں میں ایک روشن خیال اور قدیم و جدید کا حسین سنگم کہا جا سکتا ہے، وہ روایتوں کی زنجیر توڑنے والے قائد ثابت ہوں گے ان شاء اللہ ، نیز ان میں حالات سے مقابلہ کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے، گزشتہ دو تین ماہ میں امارت میں رونما ہونے والے واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ حالات سے سمجھوتہ کرنا ان کی طبیعت میں نہیں، حالات کا مقابلہ سنجیدگی اور منصوبہ بند طریقے سے کرنا جانتے ہیں، انہوں نے دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں میں بڑے بڑے عہدوں پر کام کیا ہے، انہیں دنیا بھر میں بھانت بھانت کے لوگوں سے معاملات کا تجربہ ہے، کسی کی دولت و شہرت، اس کا جاہ و منصب انہیں مرعوب نہیں کرسکتا، انہیں ہر چھوٹے بڑے سے گفتگو کا سلیقہ ہے۔
ہماری تنظیموں میں امور کو پروفیشنل انداز میں انجام دینے کا چلن بالکل نہیں، بس جو روایتی انداز چلا آرہا ہے اسی کی پیروی نسل در نسل ہوتی رہتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ علماء برادری اس سے ناواقف ہے، ہمارے جتنے بھی ملی ادارے ہیں وہاں عہد جدید کے تنظیمی اصول و ضوابط کو صرف اسلئے ٹھکرا دیا جاتا ہے کہ وہ مغربی یا عصری درسگاہوں کی تحقیق کے نتائج ہیں؛ حالاں کہ اصول ” شریعت سے تصادم و عدم تصادم” ہونا چاہئے کہ اگر شریعت سے متصادم نہیں تو قابل عمل ہے، اور اگر متصادم ہو تو ہزار خوبیوں کے باوجود نا قابل قبول؛ چنانچہ اگر تنظیمی امور میں آئی ایس او ( ISO) کے ان اصول کی پیروی کی جائے، جو شریعت سے متصادم نہیں ہیں، تو کیا خرابی ہے؛ بلکہ کام کی کوالیٹی میں ناقابل تصور بہتری کی امید ہے، تو پھر ہمارے ملی ادارے ان پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟ آفس سے لیکر جائے عمل تک میں منصوبوں کی تکمیل کیلئے پروٹوکول وضع کیوں نہیں کئے جاتے؟… اس کی ایک وجہ ہے ملی اداروں میں موجود علماء کی ناواقفیت اور دوسری اہم وجہ ہے روایت سے “اندھا دھند پیار” جو ہمیشہ نقصاندہ ثابت ہوا ہے، ملی اداروں کی تاریخ میں پہلی دفعہ اعلی عہدے پر ایک ایسا شخص فائز ہوا ہے جو دنیا کی ٹاپ کارپوریٹ کمپنیوں میں اعلی عہدوں پر کام کر چکا ہے، ان کے نظم و نسق سے خوب واقف ہے، روایتی طریقوں سے بھی آشنا ہے، ایسے میں امید ہے کہ فیصل ولی رحمانی امارت کے مختلف شعبوں کو ایک نئی جہت دینے میں کامیاب ہوں گے، کام کی کمیت کے ساتھ کیفیت کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائیگی، سیاسی، سماجی، تعلیمی، رفاہی جو بھی کام ہو رہے ہیں وہ دنیا کے جدید اداروں میں اختیار کئے جانے والے پیشہ وارانہ طریقہ پر انجام دئے جائیں گے، امارت کے نظم و نسق میں بہتری لانے کیلئے تنظیمی امور کے تسلیم شدہ اصول و ضوابط کی پیروی کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جس سے کم وقت میں بہتر نتائج کے امکانات دو چند ہوجاتے ہیں، نیز فیصل ولی صاحب کی آمد سے ہماری دوسری ملی تنظیموں کو ایک نئی راہ ملنے کی امید ہے، سچ پوچھیں تو ملی اداروں میں ایک نئے انقلاب کی آہٹ صاف طور پر محسوس ہورہی ہے.
ایسے پروفیشنل لوگ عموما کام کے تئیں انتہائی سنجیدہ ہوتے ہیں، واہ واہی لوٹنے کے بجائے کام پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، ہمیں زندگی کی جدید و قدیم راہوں سے واقف شخص کے تجربات کا فائدہ اٹھانا چاہئے، ان کی ماضی کی زندگی کو کرید کر خوبیوں کو نظر انداز کرنا حماقت ہے، ایسی حماقت پہلے بھی کر چکے ہیں؛ اسلئے بہتر ہے کہ اس “روایت شکن” کے قدم سے قدم ملا کر چلیں، ایسا نہ ہو کہ اگلی نسل آپ کے معاندانہ رویوں پر آپ کو کوسنے لگے، جان لیجئے! اگر اصلاح کی گنجائش رہتے ہوئے اصلاح سے انکار ہوتا ہے، تو اس کا نقصان موجودہ نسل نہیں، آئندہ نسل کو جھیلنا پڑتا ہے، پھر وہ اپنے پیش رو کی پَست ذہنی پر افسوس کا اظہار کرتی ہے، ظاہر ہے ہم جان بوجھ کر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیں گے کہ ہماری اگلی نسل ہمیں کوسنے پر مجبور ہو۔