ملی ہسپتال-ضرورت،اہمیت اور افادیت-مسعود جاوید

مسلمانان عالم اور بالخصوص مسلمانان ہند تازیانہ کے بغیر حرکت میں نہیں آتے۔ لیکن میرا یہ جملہ بھی اس بار بے سود ثابت ہوا۔
عموماً میں عزلت پسندی اور ghetto living کی مخالفت کرتا ہوں لیکن کبھی کبھی حالات کی سنگینی اس کے حق میں سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں شہریت ترمیمی ایکٹ ( بعد میں ایوانوں میں پاس ہونے کے بعد بل) اور این آر سی کے خلاف مظاہرے اور احتجاج میں جامعہ کے گیٹ پر دھرنا کرنے والوں پر پولیس کی بربریت کے نتیجے میں جب طلبا و طالبات زخمی ہوئے تو فوری طور پر جامعہ سے متصل ہولی فیملی ہسپتال میں ان زخمیوں کو علاج کے لئے داخل کرانے کی کوشش کی گئی۔ اس ہاسپٹل نےبعض کو ایڈمٹ کیا اور بعد میں دوسروں کو ایڈمٹ کرنے سے انکارکردیا۔ واضح ہو کہ یہ ہاسپیٹل جامعہ کی زمین پر قائم ہے اور جامعہ کیمپس اور ہاسپیٹل کے درمیان صرف ایک دیوار حد فاصل ہے۔ ١٩٥٣ میں کیتھولک مشنری کے ذریعے قائم کردہ 345 بیڈ کا یہ ملٹی اسپشیلٹی ہاسپیٹل جامعہ کی زمین پر لیز پر ہے۔ جامعہ کی توسیع کے بعد میڈیکل کالج ایم بی بی ایس کورس شروع کرنے کے لئے اسے حاصل کرنے کی عدالتی کارروائی کی گئی مقدمے کا فیصلہ غالباً جامعہ کے حق میں آیا لیکن ابھی تک خالی نہیں کیا گیاـ وائس چانسلر کی seriousness پر قانونی چارہ جوئی موقوف ہوتا ہے۔
ہولی فیملی ہاسپیٹل ہی اوکھلا ( جامعہ نگر ، بٹلہ ہاؤس، جوگا بائی، ذاکر نگر، غفور نگر، اوکھلا گاؤں، نور نگر، اوکھلا وہار، جوہری فارم، ابوالفضل انکلیو، شاہین باغ وغیرہ) کے عوام کی مناسب چارج پر طبی ضروریات اور معالجے کا مناسب مرکز تھا تاہم اب یہ بھی مشنری ہسپتال نہیں پرائیویٹ فرم کی طرح کام کرتا ہے۔
ہولی فیملی ہاسپیٹل کے عدم احسان مندی اور انسانی جذبات سے عاری رویہ کی وجہ سے بہر حال علاقہ کے مسلمانوں میں غم و غصہ ہے۔ تاہم متبادل کیا ہے ؟ مسلمانوں (جماعت اسلامی)کے ذریعے قائم کیا گیا الشفا ہاسپیٹل ایسے کئی معاملات میں ملی و انسانی خدمت کے لئے کام آیا۔ ابھی چند روز ہوئے میرے دوست ولی بھائی (پروفیسر ولی اختر صاحب) جو مرکزی حکومت کے تحت دہلی یونیورسٹی میں ملازم تھے انہیں دہلی کے سات ہسپتالوں نے ایڈمٹ لینے سے انکار کیا تو بالآخر الشفا ہسپتال میں داخل کیے گئے جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔
کیا میں یہ سمجھوں کہ یہ واقعات تازیانے کا کام کریں گے اور مسلمان ہر بڑے شہر میں ملٹی اسپیشلٹی ملی ہسپتال اور چھوٹے شہروں میں معیاری نرسنگ ہوم قائم کریں گے ؟
جماعت اسلامی کو اس کی ضرورت اور اہمیت کا احساس شروع سے رہا تفصیلی اعداد وشمار تو نہیں معلوم لیکن بہت پہلے غالباً ١٩٨٠ میں بہار کے شہر گیا میں ملت ہسپتال قائم کیا گیا تھا۔ ملت کی یہ ضرورت پوری کرنے میں جماعت کہاں تک کامیاب ہے اس کا تو علم نہیں تاہم میرا یہ تاثر ہے کہ ملت اسلامیہ ہند کے ہر آئیڈیل پروجیکٹ کو سب سے زیادہ جس نے سبوتاژ کیا وہ ہے ملی تنظیموں کی انانیت اور باہمی رسہ کشی۔ وہ ملی تنظیمیں جو جماعت اسلامی کے بعض نظریات سے اتفاق نہیں رکھتیں انہوں نے ملی ہسپتال کا خاطر خواہ استقبال نہیں کیا چنانچہ مالی وسائل کی قلت نے معیاری کیا غیر معیاری ہسپتال بھی بننے نہیں دیا۔ کیا جماعت اسلامی نے اسے ملت کا مشترک اثاثہ بنانے کی طرف پیش رفت کی تھی؟ کیا جمعیت علما اور امارت شرعیہ وغیرہ نے وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مشن کو خوش آمدید کہا تھا؟
ملی کاز کے مشترک کام کرنے کی راہ میں یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے کہ ہم مشرب ہونے کے باوجود جمعیت علما امارت شرعیہ کے کاموں کو نہیں سراہتی، امارت شرعیہ جمعیت علما سے دوری بنا کر رکھتی ہے، بعض تبلیغی جماعت والے دارالعلوم اور دینی مراکز کے خلاف پس پردہ محاذ کھولے رکھتے ہیں ، جمعیت دارالعلوم پر دباؤ بنا کر تبلیغی جماعت کے خلاف کچھ بیان دلانے کی کوشش کرتی ہے ! لیکن مولانا مودودی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بعض امور میں اختلاف کی وجہ سے جماعت اسلامی کے کاموں کو تعاون نہیں دینا چہ معنی دارد؟ اور اگر ان کو کمپلینٹ نہیں کرنا چاہتے تو خود اس طرح کے پروجیکٹ پر کام شروع کیوں نہیں کرتے؟
آج کے حالات جس میں مذہب کے نام پر تفریق عام ہے، ہر شہر میں ملٹی اسپشیلٹی ہاسپیٹل اور ہر قسم کی طبی سہولیات فراہم کرنے والے نرسنگ ہوم کا قیام ناگزیر ہے۔
بڑی عجیب بات ہے کہ ان دنوں سب سے زیادہ محفوظ اور نفع بخش تجارت اسکول کالج انسٹی ٹیوٹ اور ملٹی اسپشیلٹی ہاسپیٹل اور نرسنگ ہوم ہے پھر مسلم سرمایہ دار ان فیلڈز میں انویسٹمنٹ کیوں نہیں کرناچاہتا ہے ؟ اس فیلڈ کے اکسپرٹ کو چاہیے کہ وہ مختلف علاقوں میں رہنے والوں کی قوت شراء کا اندازہ لگاۓ، feasible study کرے نفع نقصان اور رسک فیکٹر کی نشاندہی کر کے مسلم و غیر سرمایہ کاروں سے رابطہ کرے اور اس مشن کو آگے بڑھانے میں تعاون کریں۔ اس لئے کہ ملی کام کی نوعیت کی ترتیب اس طرح ہوتی ہے۔کسی نے سوچا، کسی نے اس کا خاکہ بنایا کسی نے اس خاکے کو زمین پر اتارنے کے طریقے وضع کیے تو کسی نے مالی وسائل انویسٹمنٹ کے لئے چند ہم خیال صاحب ثروت لوگوں کو جوڑ کر توکل علی اللہ کام شروع کیا۔ پروفیشنل کو ہائر کیا کسی کی معقول چارج یا تنخواہ میں ملت کی دہائی دے کر کٹوتی نہیں کی۔ اب یہ ہسپتال کمرشییل انداز میں چل گیا تو اسی کے %20 ، %30 بیڈ غریبوں کے لیے مختص کر دیا۔ اس قسم کے ملی ہسپتالوں کی اقل مقدار میں افادیت یہ ہوگی کہ یہاں مسلمان ہونے کی وجہ سے کسی کو ایڈمٹ لینے سے انکار نہیں کیا جاۓگا۔
کیا میرے اس خواب کی تعبیر ڈھونڈنے میں اپ معاون بنیں گے؟ اگر آپ اس سے متفق ہیں تو اس کو تحریک بنائیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)