ملت کو ڈگری یافتہ نہیں صلاحیت مند افراد کی ضرورت:مفتی محمد سہراب ندوی

 

شیخپورہ کے بازید پور میں منعقد اجلاس سے علماء کاخطاب

اس وقت تعلیم کے میدان میں ڈگری پانے کی دوڑچل رہی ہے، معیاری تعلیم اورمعیاری صلاحیت کے حصول کا رجحان کم سے کم ہوتاجارہاہے،جب کہ تعلیمی ترقی کی بنیاد معیاری تعلیم اورمعیاری صلاحیت ہے، صرف ڈگری نہیں ،تعلیم کی ڈگری تو تعلیمی اخراجات کی رسید ہوتی ہے، اس لئے ملت کے فکرمنداحباب کی ذمہ داری ہے کہ قوم کو اس فکری انحطاط سے نکالیں، نئی نسل میں معیاری تعلیم اورمعیاری صلاحیت کے حصول کے جذبہ کو فروغ دیں، اپنے وسائل اوراپنی صلاحیتوں کو کام میں لاکر معیاری تعلیمی ادارے کے قیام کا حوصلہ کریں،اورذہین اورمحنتی طلبہ کو آگے بڑھانے کی فکر کریں، ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے نائب ناظم مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی صاحب نے مورخہ ۶؍فروری کو بازیدپور شیخ پورہ کی جامع مسجد میں ترغیب تعلیم وتحفظ اردو کی مناسبت سے منعقد اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہاکہ اس وقت امارت شرعیہ کے زیراہتمام پورے بہار میں ملت کے اندر تعلیمی انقلاب لانے کی تحریک جاری ہے، آج کا یہ اجلاس اسی تحریک کا ایک حصہ ہے، ہمیں یہ بات جاننی چاہئے کہ ملک کے عظیم مفکر،عالم ربانی مفکراسلام حضرت مولاناسید محمد ولی رحمانی مدظلہ نے ملت کے موجودہ حالات اورمستقبل کی ترقی کے منصوبہ کوسامنے رکھتے ہوئے پوری حوصلہ مندی کے ساتھ اس تحریک کو چلانے اوراس کو عملی طورپر آگے بڑھانے کا حکم دیاہے جوقائم مقام ناظم جناب مولانا محمدشبلی القاسمی صاحب کی سرکردگی میں شروع ہوچکاہے، اس تحریک کے ذریعہ ہرمسلمان بچے کو دین کی بنیادی تعلیم سے بہرور کرنے اورمعیاری عصری تعلیم کے میدان میں قوم کے نونہالوں کو آگے بڑھانے کا عزم کیاگیاہے، اس لئے امارت شرعیہ کی دعوت ہے کہ جو بھی مسلمان جہاں دینی تعلیم کاچراغ جلاسکتاہو جلائے، اپنے نونہالوں کومعیاری عصری تعلیم کے میدان میں آگے بڑھائے ،باصلاحیت افرادہی قوم کو ترقی وسربلندی سے ہمکنار کرسکتے ہیں، ایک رحمانی 30نے آج قوم کو سینکڑوں بلند معیار تعلیم یافتگان کا تحفہ دیاہے،اگر چوطرفہ فکر شروع ہوجائے توایک دہائی میں بڑا انقلاب رونما ہوسکتاہے،ضرورت ہے کہ ہم جاگیں،حالات کے اشاروں کو سمجھیں اور روشن مستقبل کی تعمیر کے لئے اٹھ کھڑے ہوں، موصوف نے اس موقع پر اردو زبان کی اہمیت اوراس زبان میں لکھنے پڑھنے کی صلاحیت پیداکرنے پر زور دیا،اورکہاکہ جو قوم اپنے سرمایہ کی حفاظت سے غافل ہوجاتی ہے وہ اپنے سرمایہ کو محفوظ نہیں رکھ پاتی، اس مشاورتی اجلاس کو قاضی شریعت بہارشریف اورشیخ پورہ جناب مولانا منصورقاسمی اورمولانا ابوالکلام رحمانی نے بھی خطاب کیا، حاضرین نے اس تحریک کی کامیابی کے سلسلہ میں اپنے ضروری مشورے دیئے، شیخ پورہ کے مختلف بلاکوں سے نمائندہ حضرات نے شرکت کی، اس تحریک کو عملی طورپر جاری رکھنے کے لئے بلاک کی سطح پر کمیٹیاں بنائی گئیں۔شیخ پورہ صدر بلاک کے لئے معظم احمد رحمانی،حافظ محمد سلطان، ماسٹر شہاب الدین،نہال احمد،ممتاز احمد،فروغ احمد،محمدشارق۔چوارہ بلاک کے لئے قاری ابوالکلام رحمانی،شبیراحمد،جمیل احمد،حافظ توقیر۔اریری بلاک کے لئے محمد مہتاب عالم،قاری نورالحسن ،محمد رستم، حافظ انعام الحق، ماسٹر مقیم۔شیخوپور سرائے بلاک کے لئے حافظ محفوظ الرحمن، ماسٹر شمیم احمد۔بربگہا بلاک کے لئے ماسٹر محفوظ ،ماسٹر شوکت علی، ماسٹر سرفراز،شاہد پرویز۔ جب کہ ضلع کی سطح پر جناب منصورصاحب کو کنوینر اور معظم علی رحمانی اورمہدی حسن کو نائب کنوینر نامزد کیاگیا۔ضلع آفس کے لئے جامعہ محمودمحلہ سکونت شیخ پورہ میں ایک وسیع کمرہ مختص کیاگیا۔آج کے اجلاس میں افتتاحی گفتگو مولانا مزمل حسین قاسمی نے کی۔اجلاس کی تیاری میں مولاناظہیرالحسن شمسی ،مولاناعمیر،مولاناذوالفقار صاحب امام جامع مسجد بازیدپور ودیگر مقامی ذمہ داران ونوجوانان نے خصوصی حصہ لیا۔