Home تجزیہ ملت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کی ضرورت – محمد علم اللہ

ملت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کی ضرورت – محمد علم اللہ

by قندیل

عام انتخابات 2024کے نتائج نے ملک میں امن و سلامتی کی فضا بحال کردی ہے، لیکن ابھی کام پورا نہیں ہوا ہے، میری یہ تحریر اسی پس منظر میں ہے۔ اگر اس کامیابی کے حقائق کا پتالگایا جائے تو اندازہ ہوگا کہ اس کامیابی کے پیچھے سماجی کارکنان، قوم کے ہمدرد، مخلص علمااور ائمہ کرام اور دیگر افراد کی خاموش جد و جہد ہے، ان سب کی مساعی کو سراہا جانا چاہیے، انھوں نے باہمی ارتباط سے وہ کام کر دکھایا، جو بڑی بڑی تنظیمیں بھی نہ کرسکیں۔میں نے حالیہ کئی تحریروں میں قارئین کو توجہ دلائی تھی کہ انتخابات میں ہمارا ووٹ منتشر نہ ہو۔ گرچہ عام انتخابات ختم ہوئے لیکن اب ضمنی انتخابات کئی ریاستوں میں ہونے والے ہیں اس پر توجہ مرکوز کریں۔ ہمت نہ ہار کر تندہی سے کام کریں اور ملت کی ترقی کے لیے کچھ امور پر توجہ دیں۔

اس کے لیے طویل مدتی پلان فوراً شروع کرنا ہو گا۔ ملت کی باگ ڈور خود اپنے ہاتھ میں لینی ہو گی، فلاحی، ترقیاتی کام کر کے اپنے انتخابی حلقہ میں مسلمانوں کا بھروسہ جیتنا ہوگا، تا کہ آئندہ الیکشن کے وقت عوام ان کی رائے پر اعتماد کرسکیں۔ جن خواتین و حضرات نے میرے حالیہ مضامین پڑھے ہیں ان سے میری گذارشہے کہ وہ اپنے انتخابی حلقے پر توجہ مرکوز کریں اور اپنی طرح کے 10-8 دیگر بے لوث افراد کی شناخت کر کے انھیں اپنے ساتھ شامل کر لیں، اپنے گھروں میں سے کسی بیرونی کمرے کو میٹنگ روم بنا لیں ایک میز کرسی کمپیوٹر انٹرنٹ کا انتظام کر کے مردم شماری کے رجسٹرار جنرل کی ویب سائٹ censusofindia.gov.in پر جا کر اپنے انتخابی حلقہ میں کل آبادی، مسلم آبادی اور اس کا تناسب اور ہر گاو?ں اور محلہ کے اعداد و شمار معلوم کر لیں اس کا پرنٹ آو?ٹ دیوار پر لگا ئیںاور ایک نقل بطورریکارڈ فائل میں رکھیں۔

خاص طور پر اگر آپ کا انتخابی حلقہ شڈ یولڈ کاسٹ کے لیے ریزرو ہے جبکہ وہاں مسلمانوں کی تصدیق شدہ فیصد درج فہرست ذات کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے تو پورا کیس تیار کرنا ہوگا اور مہم چلانی ہوگی کہ آپ کے انتخابی حلقہ کو ریز رویشن سے آزاد کیا جائے۔ قرب و جوار میں قدیم عمارتوں اور اوقاف کا پتہ لگائیں، ان کے متولیان سے ملیں، ان کے مصارف کا حکمت عملی سے جائزہ لیں، مسلم آبادی کے تناسب سے اردو میڈیم اسکول ہیں کہ نہیں، ان کی کیفیت کیا ہے؟ مناسب تعلیم کا نظم ہے کہ نہیں؟! مساجد میں دینیات اور مکتب کا انتظام ہے کہ نہیں؟! قریبی حلقے میں مدرسے ہیں کہ نہیں، اگر ہیں، ان کی تعداد کتنی ہے، مجموعی تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیں۔حکومت کی طرف سے حاصل ہونے والی مراعات کا بھی معائنہ کر لیں، ان کی فلاحی اسکیموں سے باخبر رہیں۔ ذیل میں مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور کی ویب سائٹ minorityaffairs.gov.in پر اقلیتوں کے لیے متعدد اسکیموں کا تفصیلی ذکر ہے:

کو چنگ پروگرام، ملٹی سکٹورل ڈولپمنٹ پلان اسکالرشپ اسکیم فری کو چنگ اینڈ الائڈ اسکیم گرانٹ ان ایڈ اسکیم ڈولپمنٹ اینڈ فائنانس کارپوریشن، نئی روشنی برائے خواتین، ہنر مندی کے فروغ کے لیے سیکھو اور کماو اسکیم یو پی ایس سی اور صوبائی پبلک سروس کمیشن اور اسٹاف سلکشن کمیشن کے ذریعہ منعقد امتحانوں میں کامیاب امید واروں کے لیے امدادی اسکیم ہائر تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی مزید ٹریننگ کے لیے نالندہ اسکیم اور مائینارٹی سائبر گرام۔ دوئم، مرکزی ایچ آرڈی منسٹری کی ویب سائٹ mhrd.gov.in/schemes_home پر ان اسکیموں کو بغور پڑھیں: سرو شکشا ابھیان مدارس میں کمپیوٹر و سائنس وغیرہ پڑھانے کی معقول امدادی اسکیم راشٹریہ مادھیمک شکشا ابھیان، لڑکیوں کے لیے سکنڈری تعلیمی اسکیم قومی اسکالرشپ اسکیم علاقائی زبانوں کی پڑھائی کے لیے ٹیچرس اسکیم، تعلیم بالغان اسکیم لڑکیوں کے لیے ہوٹل اسکیم ماڈل اسکول اسکیم سکنڈری تعلیم کو پیشہ ورانہ بنانے کی اسکیم ’ساکثر بھارت اسکیم‘ صوبائی ریسورس مرکز، جن شکشن سنستھان رضا کارانہ تنظیموں کے لیے امدادی اسکیم اور اساتذہ کی ٹرینگ کے لیے مرکزی اسکیم۔ سوئم، مرکزی ہوم منسٹری کی ویب سائٹ mha.nic.in/scheme پر تین اسکیموں کا مطالعہ کریں: دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کے لیے امدادی اسکیم کبیر پورسکار اور قومی یکجہتی کے لیے رضا کار نہ تنظیموں کی امداد ای اسکیم۔

مرکزی وقف کا ونسل کی ویب سائٹ centralwakfcouncil.org پر تین اسکیم دی ہوئی ہیں: آئی ٹی آئی، پیشہ ورانہ تعلیمی مرکز یا وکیشنل ایجوکیشن سنٹر اور کتابوں کی فراہمی یا بک بینک و لائبریری – مرکزی وقف کا ونسل کی دیگر ویب سائٹ wamsi.nic.in پر جا کر اپنے حلقہ کی تمام وقف املاک کی مکمل معلومات حاصل کر لیں، اس کے بھی پرنٹ آو?ٹ لے کر دیوار و فائل میں لگائیں۔ ہر وقف جائداد میں خود جائیں، معلوم کریں متولی کون ہیں ان سے معلومات حاصل کریں، جائداد کی تصویر اُتاریں، وقف بیع نامہ کی نقل حاصل کریں اور اپنی ایک الگ فائل کھول کر اس میں لگائیں۔ اندازہ لگائیں کہ بیع نامہ کے اغراض و مقاصد کے مطابق وقف جائداد کا مکمل استعمال ہو رہا ہے کہ نہیں اور جتنی آمدنی ہونی چاہیے اتنی ہو رہی ہے کہ نہیں۔ اسی طرح جائداد پر کہیںکوئی نا جائز قبضہ تو نہیںہے، کیا ا سب کا مناسب انتظام اور حساب و کتاب رکھا جا رہا ہے، کیا عدالت میں کوئی مقدمہ چل رہا ہے، اس کی پیروی صحیح طور پر ہو رہی ہے کہ نہیں، جائداد کا کرایہ موجودہ بازاری ریٹ پر آ رہا ہے کہ نہیں۔ اقلیتوں کے لیے وزیر اعظم کے 15 نکاتی پروگرام minorityaffairs.gov.in/pm15point کے ہر نکتہ کو بغور پڑھیں اور جائزہ لیں کہ آپ کے انتخابی حلقہ میں ان میں سے ہر نکتہ کا کتنا نفاذ ہوا۔ جن مدعوں پر نفاذ میں کمی رہی ہے ان کے متعلق حق اطلاع قانون کے تحت معلومات کی جائے اور پھر افسران سے گفت و شنید کی جائے۔

ان سب اسکیموں کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے ان کے پرنٹ آو?ٹ لیے جائیں انھیں الگ الگ فائلوں میں رکھا جائے ان کی نقلیں اپنے دفتر میں دیوار پر چسپاں کی جائیں، مختلف گاو?ں اور محلوں میں ان لوگوں کی شناخت کی جائے جنھیں ان اسکیموں سے فائدہ پہونچنا چاہئے درخواست کے فارم ڈاو?ن لوڈ کر کے انھیں بھر نے میں ان کی مدد کی جائے اور ضروری دستاویز منسلک کرنے میں ان کی رہنمائی کی جائے ان مکمل فارموں کی نقل دفتر میں فائل میں رکھی جائے پھر انھیں اسپیڈ پوسٹ یا رجسٹرڈ پوسٹ سے متعلقہ افسر کو بھیجا جائے اور وہاں اس درخواست پر کیا کا روائی ہو رہی ہے اس پر نظر رکھی جائے۔ اسی طرح کی فلاحی اسکیموں کو صوبائی ویب سائٹ سے بھی ڈاون لوڈ کیا جائے اور ان پر بھی یہی سب کا روائی کی جائے۔ اگر صوبائی سطح کے کوئی خاص مسائل ہوں تو ان کی مکمل تحقیق کی جائے ان سے متعلق تصدیق شدہ اعداد و شمار حاصل کیے جائیں اور ان سے متعلق صوبائی حکومت کو خطوط لکھے جائیں اور حکام سے ملاقات کر کے مسائل کے حل کے لیے ان پر زور ڈالا جائے۔ آپ کے حلقہ میں قبرستانوں کی کیا حالت ہے؟ اگر ان کے گرد چہار دیواری نہیں ہے تو اس کے لیے ایوان حکومت میں تگ ودو کی جائے۔ یوپی اور بہار میں تو حکومت نے یہ کام کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، تمام ضلع کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی ذکر ہے وہاں تو ذرا سی توجہ کرنے سے یہ کام غالباً بہ آسانی ہو سکتا ہے۔ آپ اپنے ذریعہ کی گئی تمام کا روائی کی اطلاع وقتاً فوقتاً میڈیا کو دیتے رہیں اور یہ امر یقینی بنائیں کہ اس طرح اور دیگر ذرائع سے ساری معلومات آپ کے انتخابی حلقہ میں ملت کے افراد تک پہنچتی ر ہیں۔

You may also like