ملت کی دو قیمتی شخصیات سے محرومی ـ عبد المتین منیری

مولانا مفتی امانت علی صاحب نے مولانا معزا لدین مرحوم کے تذکرے میں اپنا کلیجہ سامنے لاکر رکھ دیا ہے، مولانا کی زندگی میں تو ہم ان کی ذات سے واقف نہ ہوسکے ، اب یہ انہی پر کیا منحصر، ہمارا تو بہتوں کے ساتھ یہی معاملہ ہے، علم وکتاب گروپ میں تھے تب بھی ان کی قدر قیمت کا احساس نہ ہوسکا، لیکن جب اچانک ہمارے درمیان سے اٹھ گئے تو محسوس ہوا کہ کتنے قیمتی گہرپارے سے امت محروم ہوگئی۔
یہ وہ لوگ ہے جن کے بارے میں حضرت عیسی علیہ السلام کا مشہور قول ہے، (ہماری قدر وقیمت پہچانو، ہم کان کی نمک ہیں، جس سے آپ کے کھانوں کا مزہ ہے) ، مولانا معز الدین صاحب ہوں یا مولانا امین عثمانی صاحب، دونوں اچانک اس طرح ہمارے درمیان سے رخصت ہوگئے، جب موجود تھے تو ان کی قیمت کا احساس نہیں ہوتا تھا، لیکن جب خاموشی سے رخت سفر باندھا تو محسوس ہوا کہ کتنی بڑی نعمت ہم سے چھن گئی۔
کتنی بڑی پریشانی کی بات ہے، امت کو فکری غذا پہنچانے والے اور روزانہ زندگی میں درپیش مسائل میں حلال و حرام کی تحقیق میں جٹے ہوئے دو ادارے ادارہ مباحث فقیہ اور اسلامی فقہ اکیڈمی کے دو ستون اچانک اس طرح گر گئے کہ ان قمیتی اداروں کے مستقبل کے سلسلے میں فکر مندی لاحق ہوگئی۔ یہ دونوں ادارے ایک طرح سے شخصیت ساز ادارے ہیں، ان اداروں کو خون جگر دینے والی ایسی شخصیات کی ضرورت ہوتی ہے جو شہرت اور ناموری سے بلند ہوکر یکسوئی سے کام کریں، ان کے یہاں اپنے مشن سے زیادہ ہزاروں اور لاکھوں کے مجمعے کی واہ واہ کی قدر وقمیت پر کاہ کے برابر نہیں ہوتی ، بلکہ یہ اس بات پر پھولے نہیں سماتے کہ ان کا کوئی تعارف نہیں ہوا تو کیا ہوا، ان کے لگائے ہوئے پودے پھل پھول دے رہے ہیں، اور فضا کو اپنی خوشبو سے خوش گوار بنارہے ہیں۔
حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نور اللہ مرقدہ ہمارے بزرگ تھے، اور ہم جیسے خوردوں کی گستاخیاں بھی ہنسی خوشی برداشت کرلیتے تھے، کہنے لگے کہ آپ کے شوافع حضرات اکیڈمی کے پروگرام میں شریک نہیں ہوتے، تو ہم نے ان سے کہا کہ ہمارے احباب کی آپ سے شکایت ہے کہ ان کانفرنسوں میں مقالہ نگار بڑی محنت کرکے مقالات تیار کرکے لاتے ہیں، گھنٹوں ان پر طویل بحثیں ہوتی ہیں، لیکن اچانک کسی مدرسے کا مفتی کسی متن کی عبارت پیش کردیتا ہے، اور اس پر سب کی زبانیں خاموش ہوجاتی ہیں،پھر کوئی زبان نہیں کھولتا، آخر کسی متن کے ایک جملے پر بحث ختم کرنا ہی ہے تو اتنی ساری محنت اور تگ ودو کا کیا حاصل؟
کہنے لگے تم ہمیشہ منفی پہلو دیکھتے ہو، تعمیری پہلو نہیں دیکھا کرتے، کیا آپ کو نظر نہیں آرہا ہے کہ ہمارے یہ مفتی حضرات جو کبھی دوچار درسی کتابوں سے آگے نہیں دیکھا کرتے تھے، آج ایک بحث کے لئے سیکڑوں کتابیں دیکھ کر آتے ہیں، جس کے طفیل ان میں کتابوں سے لگاؤ بڑھتا جارہا ہے، وہ پڑھنے اور محنت کرنے لگے ہیں، اتنا سب پہلے کہاں تھا؟ ابھی اکیڈمی کی ابتدا ہے، انتظار کیجئے،کہ اس کے طفیل کتنے کتنے محققیں اور باحثین پیدا ہوتے ہیں۔
ہم نے قاضی صاحب سے شکایت کی کہ آپ کی ساری زندگی فیصلے سنانے اور انتظامی امور میں صرف ہوگئی، آئندہ نسلوں میں زندہ رہنے کے لئے آپ کی جتنی بڑی شخصیت ہے اتنا علمی ورثہ نہیں ہے، مسلم پرسنل لا کے لئے لکھی ہوئے چند رسائل ہیں، وہ بھی امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ کی جانب منسوب ہیں۔ چند سال بعد جب مجلہ فقہ اسلامی کے سترہ نمبر ان کی زندگی ہی میں نکلے تو کہنے لگے، دیکھئے اللہ نے اکیڈمی کے کام میں کتنی برکت دی ہے، جدید فقہی مسائل پر انسائکلوپیڈیا کے برابر مواد چند برسوں میں سامنے آگیا۔ جب قاضی صاحب بارگاہ ایزدی میں پہنچے تو مطئمن تھے کہ جس طرح انہوں نے زندگی میں حلال وحرام کے مسائل میں عمر بھر رہنمائی کا فریضہ انجام دیا، ان کی آنکھیں بند ہونے کے بعد بھی قیامت تک یہ سوتا جاری رہے گا، دنیا اس سے سیراب ہوتی رہے گی۔
امین عثمانی صاحب سے ہماری ملاقات کوئی سولہ سترہ سال قبل دارالسلام عمرآباد کے فقہی سمینار میں ہوئی تھی،ابھی ڈاڑھی مختصر سی تھی، اور جسم بھی دبلا پتلا، نحیف ،کہیں محسوس نہیں ہورہا تھا کہ وہ بھی کسی حساب وشمار میں شامل ہیں، اسٹیج پر وہ نظر نہیں آئے، تب معلوم ہوا تھا کہ اکیڈمی کے سکریٹری ہیں، قاضی صاحب بھی چلے گئے، جن کاندھوں پر اکیڈمی کا بوجھ چھوڑ گئے تھے، وہ بھی زندگی کا ساتھ چھوڑ چکا ہے، مولانا خالد سیف اللہ صاحب ہیں جو قاضی صاحب کے علوم کے وارث ہیں، لیکن وہ بھی کیا کریں؟ دنیا کے جھمیلے ہیں ، مسلم پرسنل لابورڈ دیکھیں، حیدرآباد کے دارالقضا میں آنے والے جھگڑوں کو نبٹائیں، اخبارات کے کالم لکھیں، یا سفر واسفار میں رہیں؟ عثمانی صاحب دہلی میں تھے، بہت سا کام فون پر ہوجاتا تھا، اب اکیڈمی سے وابستہ دوسرے اکابر مولانا بدر الحسن قاسمی، مولانا مفتی عتیق بستوی وغیرہ اپنے اپنے فرائض کی انجام دہی میں دہلی سے دور مصروف ہیں، اب قوم کی اس عظیم امانت کو کون بچائے؟
اکیڈمی کے نقش قدم پر ادارۃ مباحث فقہیہ بھی قوم کی امانت ہے، اس سے بھی علم وفقہ ،تحقیق وبحث سے وابستہ ایک بڑا حلقہ جڑا ہوا ہے، مولانا معز الدین صاحب کی حیثیت انجن کی تھی جو انہیں متحرک رکھتا تھا، صلاحیتوں کا کسی میں ہونا اتنا اہم نہیں ہوا کرتا۔ جتنا اسے استعمال میں لانا اور ملت کی فلاح و بہبود کے لئے انہیں استعمال میں لانا ۔
بجلی خود تو موجود رہتی ہے، کوئی اس کا بٹن دبانے والا اور اسکے تاروں کو لگانے والا بھی تو ہو، مولانا امین عثمانی ہوں یا مولانا معز الدین صاحب دنیا کے شور شرابے سے دور دلوں میں پوشیدہ بجلیوں کو استعمال میں لانے اور منظم کرنے میں اپنی زندگی گزار گئے، کیا ہم ان پر صرف کاغذی مرثئے پڑھ کر خوش ہو کر بیٹھ جائیں گے، یا پھر ہماری بھی کچھ ذمہ دار بنتی ہے؟ کہ سوچیں کہ جو دیے جمعیت علماء ہند اور فقہ اکیڈمی کے اکابر نے جلائے تھے ان کی لو بجھنے نہ پائے، کبھی ان کی روشنی مدھم نہ پڑے، کیونکہ ان اداروں نے اپنے وسائل کی کمی کے باوجود چند افراد کے بل بوتے پر قائم ہوجانے کے باوجود علمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا کہ سلطنت خداداد کہے جانے والی حکومتوں کے کئی ایک دانشوران کی گواہی ہے کہ ستر سال میں حکومتوں کے بے پناہ وسائل کے باوجود شخصت سازی اور علم وتحقیق کے اس پائے کے کام نہ ہوسکےـ
کتب بینی اور مطالعہ کے ذوق کی باتیں تو بہت ہوتی ہیں، لیکن ہمارے اہل علم کے علمی ذخیرے میں اضافہ، ان کی فکری صلاحیتوں کو جلا بخشنا، اورعلمائے دین کو رفتار زمانہ کا ساتھ دینے، اور ہر نئی نازلہ میں امت کی رہنمائی کرنے کے لئے جہاں مدرسوں اور دارالعلوموں کی ضرورت رہے گی، ان کے سینوں میں ان علوم کو محفوظ رکھنے، اوران میں روز بروز اضافے کے لئے ان ادارہ مباحث فقیہ اور اسلامی اکیڈمی کی اہمیت کبھی کم نہ ہوگی۔
مولانا امین عثمانی اور مولانا معزالدین صاحب نے اپنی زندگی کا مقصد انہیں ان کے خالق نے ودیعت کیا تھا، اسے اداکرکے اپنے خالق کے پاس لوٹ گئے، انہوں نے اپنے مقصد سے ہم آہنگ جیسی پاکیزہ زندگیاں گذاریں، ان کی زندگی بھی ہمارے لئے سبق آموز تھی، ان کی موت بھی رشک آمیز، انہوں نے بعد میں آنے والوں کو سبق دے دیا ہے کہ جلسے جلوسوں سے جو شہرت ملتی ہے وہ دائمی نہیں ہوا کرتی ، دوام ٹھوس کام اور معیار کو حاصل ہوتا ہے، چہار دیواری میں بند رہ کر بھی اعلی مقاصد کے لئے زندگی صرف کی جائے، تو ان کا نام نہ صرف زندہ رہ سکتا ہے، بلکہ کبھی زندہ جاوید بن جاتا ہے۔ کیا آپ کو مزید بتانے کی ضرورت ہے؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*