مکیش سہنی اور مانجھی کا الزام،لالو جیل سے این ڈی اے حکومت گرانے کی کوشش کر رہے ہیں

پٹنہ:آر جے ڈی سپریمو اور بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو پر ریاست کی نئی تشکیل دی گئی این ڈی اے حکومت کو گرانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ بی جے پی رہنما سشیل مودی کے بعد اب وی آئی پی صدر مکیش سہنی اور ہندوستانی عوام مورچہ کے سربراہ جیتن رام مانجھی نے بھی لالو پر الزام لگایا ہے کہ وہ حکومت کو گرانے کے لئے ایم ایل اے کو فون کرکے لالچ دے رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ یہ دونوں بہار کی این ڈی اے حکومت میں شامل ہیں۔ بہار کے سابق چیف منسٹر جیتن رام مانجھی نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ لالو یادو نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ میں نے بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ لالو نے میرے ایم ایل اے کو بھی لالچ دی تھی۔ مانجھی نے اس پورے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ’ہم‘ سربراہ نے کہا کہ لالو یادو رانچی جیل میں بیٹھ کر سیاست کررہے ہیں۔ یہ ایک غلط روایت ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سارے واقعے کی چھان بین کی جائے۔ مانجھی نے سشیل مودی کے الزامات کو سو فیصدصحیح قرار دیا اور کہا کہ مجھے پروٹیم اسپیکر بننے سے پہلے اور بعد میں مختلف پیشکشیں موصول ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کوگرانے کے بدلے میں وزیر اعلی سے لے کر دیگر وزارتی عہدوں تک کی لالچ دی گئی۔ مانجھی نے کہا کہ لالو کی اس طرح کی سیاست کرنے کی عادت ہے ، لیکن ان کے جال میں پھنسنے والا کوئی نہیں ہے۔وکاس شیل انسان پارٹی کے صدر مکیش سہنی اور بہار حکومت میں محکمہ برائے جانوروں کی پرورش اور ماہی گیری کے وزیر نے بتایا کہ انہیں بھی لالو کے فون کالز موصول ہوئے تھے اور مجھے جو جواب دیا تھا دے دیا۔ سہنی نے اس بارے میں زیادہ بات نہیں کی۔ تاہم یہ ضرورکہا کہ لالو کی پارٹی کی پیٹھ میں خنجر بھونکنے کی عادت ہے اور یہ کام حال ہی میں میرے ساتھ کیا گیا تھا۔