’میوہ‘ ملنے کے بعدبی جے پی میوہ لال پر خاموش،بدعنوانی پرلالویادوکاطنز

رانچی:آرجے ڈی کے صدر لالو یادو نے بہار کے وزیر تعلیم کے بدعنوانی کے الزامات پر نتیش کمار اور بی جے پی کی قیادت پرسخت حملہ کیا ہے۔ لالو یادو نے ٹویٹ کیا ہے کہ جب تیجسوی کابینہ کی پہلی میٹنگ میں 10 لاکھ افراد کو ملازمت دینے جارہے تھے ، نتیش نے بدعنوانی کے الزام میں وزیر بنا دیا ہے۔ سابق آئی پی ایس امیتابھ داس نے بہارپولیس کوخط لکھ کرمیوہ لال کی اہلیہ کی موت کی تحقیقات کامطالبہ کیاہے۔بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے لالو یادو نے کہاہے کہ کل تک بی جے پی لیڈران میوہ لال کی تلاش کررہے تھے ، لیکن آج وہ میوہ ملنے پرخاموشی اختیار کررہے ہیں۔بتادیں کہ نتیش کمار نے جے ڈی یولیڈرمیوہ لال کووزیرتعلیم بنایا ہے لیکن میوہ لال کی تقرری تنازعے کی زد میں ہے۔ دراصل میوہ لال پرزرعی یونیورسٹی ، بھاگل پورکاوی سی ہوتے ہوئے اسسٹنٹ پروفیسرز کی تقرری میں دھاندلی کا الزام ہے۔نتیش کمارصرف بدعنوانی کادعویٰ کرتے رہے ہیں اور اسی کابہانہ بناکرانھوں نے آرجے ڈی کوچھوڑکربی جے پی کادامن تھاماتھا۔سوال اسی پرہے کہ بدعنوانی کے ملزم جس پر خودکورٹ میں کیس چل رہاہے،انھیں وزیربناناصرف بدعنوانی پرجملہ تونہیں ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ جدیونے مظفرپور شیلٹر کیس کی ملزمہ کوبھی ٹکٹ دیاتھا۔