میری امید [فرید خاں کی ہندی کتاب ’اپنوں کے بیچ اجنبی‘ کا ایک باب]

ترجمہ: پروفیسر محمد سجاد (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

جب جب ظلم بڑھتا ہے، نا انصافی بڑھتی ہے تو میں خواب دیکھتا ہوں کہ میں سرکار کے اعلی ترین عہدہ پر فائز ہو کر سب کچھ درست کر رہا ہوں۔ میں ہر شہری کی صحت کا حق محفوظ کر رہا ہوں۔ میں ہر شہری کے لئے تعلیم اور غذا کا حق محفوظ کر رہا ہوں ۔میں ہر شہری کو مکان دلوا رہا ہوں، جو ان کا حق ہے، اور یہ سب ان کے پیسے سے ہی ہو رہا ہے۔ میں جنگل بچا رہا ہوں۔ میں کسانوں کی خود کشی روک رہا ہوں۔ انہیں کبھی قرض نہ لینا پڑے ایسے حالات بنانے کے لئے کام کر رہا ہوں۔ میں ان تمام امیروں کو گرفتار کر رہا ہوں جو عوام کے روپے (بینکوں سے قرض لے کر) نگل گئے اور جن حکومتوں نے انہیں بچانے کا کام کیا ہے، انہیں بے نقاب کر رہا ہوں۔ میں ان تمام ذمہ دار عہدوں پر فائز لوگوں پر مقدمے چلوا رہا ہوں جنہوں نے عہدے کا غلط استعمال لوگوں کی جان لینے اور دیش کو لوٹنے کھسوٹنے کے لئے کیا۔ میں نے سبھی لڑکیوں، سبھی دلتوں اور سبھی اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت لی ہے۔ میں خواب دیکھتا ہوں کہ سبھی کو با وقار شہریت کا حق حاصل ہو۔
میرے خواب حقیقت پسندی سے بعید ہیں۔ ہاں، گہری مایوسی کی حالت میں ایسا لگتا ضرور ہے کہ میرے خواب حقیقت پسندانہ نہیں ہیں، لیکن نہیں، حقیقت میں ایسا قطعی ممکن ہے۔ اس دیش کی آتما (روح) میں دو خوبیاں مضمر ہیں، جو ہمیشہ مجھ میں امید قائم رکھتی ہیں، ایک ہے ملک کا آئین اور دوسرا اس ملک کی اکثریت۔ یعنی ہندو مذہب اور آبادی۔ میں یہاں براہ راست کہنا چاہتا ہوں کہ جب بھی میں ہندو دھرم یا ہندو آبادی کی بات کرتا ہوں تو اس میں بھاجپا اور اس کے حامیوں کو شمار نہیں کرتا۔ وہ ہندو دھرم اور آبادی کا استعمال اقتدار کی لالچ میں کرتے ہیں۔ میں نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ میں مذہبیت اور فرقہ واریت میں فرق کرتا ہوں۔
میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے کئی برسوں تک چندر پرکاش دویویدی کے ساتھ کام کیا جہاں میرا ہندو دھرم کے جمہوری ڈھانچے سے تعارف ہوا، اسے میں نے محسوس بھی کیا ہے۔ حالاں کہ میں ذات پات پر مبنی امتیازات کا سخت مخالف ہوں، میں نے محسوس کیا ہے کہ آپ شیو ہو کر بھی بھی ہندو ہو سکتے ہیں اور ویشنو ہو کر بھی۔ آپ ویدک ہو کر بھی ہندو ہو سکتے ہیں اور شاکت ہو کر بھی۔ آپ ناستک ہو کر بھی ہندو ہو سکتے ہیں اور تمام چیزوں سے بے نیاز ہو کر بھی۔ مورتی پوجا کر کے بھی آپ ہندو ہو سکتے ہیں اور مورتی پوجا کی مخالفت کر کے بھی۔ تمام ہندو فلسفوں کو خارج کر کے، کوئی نئی بات کہہ کر بھی آپ ہندو ہو سکتے ہیں۔ اس وقت ہندو دھرم شاید دنیا کا واحد ایسا دھرم ہے جو اس قدر دھرم نرپیکچھ ہے۔ یہ ہندو دھرم ہی بھاجپا کی فرقہ پرست سیاست کے لئے چنوتی ہے۔ عہد وسطی میں اسی ہندو دھرم سے متاثر تھے دارا شکوہ اور صوفی سرمد، جنہیں اورنگ زیب نے مروا دیا تھا۔ یہ سلسلہ وہیں رکا نہیں۔ میں کبھی نہیں بھولتا کہ ناتھو رام گوڈسے نے ملک کا بٹوارا کروانے والے جناح کا نہیں، بلکہ رام رام کا ورد کرنے والے سنت گاندھی کا قتل کیا تھا۔ اسی نکتے سے شروع کرنی چاہئے فرقہ واریت اور مذہبیت کے فرق کی بحث!
بھارت کا آئین ہمیں مزاحمت اور اختلاف کا حق دیتا ہے اور وہی ہمارے لئے سب سے بڑی امید ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*