میری شاعری-پروفیسر بدرالدین الحافظ

کہاجاتا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے ، بس یہی مقولہ میری شا عری کے آغاز پر صادق آتاہے،کیوں کہ جب میں اگست۱۹۵۶؁ء میں استاد اسلامیات کی حیثیت سے جامعہ کے مدرسہ ابتدائی میں وارد ہوا ، تو یہاں بچوں کا تعلیمی اور رہائشی ماحول میرے لئے بالکل نیا اور انوکھا تھا ۔ اساتذہ اور بچوں کے درمیان نہایت مہذب اور مشفقانہ گفتگو کا انداز چوبیس گھنٹہ کی زندگی پابندی وقت کے ساتھ انجام دینا ۔نماز باجماعت کی ادائیگی ، صفائی ستھرائی اور مقرر ہ لباس کا اہتمام وغیرہ ہنسی خوشی زندگی کی ایک عادت سمجھ کر انجام دیئے جاتے تھے ۔ اسی طرح صبح کلاس کی تعلیم شروع ہونے سے قبل پندرہ منٹ کا ترانہ (مارننگ ا سمبلی)بھی تعلیم کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا، اس میں چہارم سے ششم بعد میں جب ساتویں آٹھویں بھی مدرسہ ابتدائی میں آگئیں ، تو ان کلاسوں کے طلباء باری باری حصہ لیتے تھے ۔ اس پروگرام میں تلاوت کلام پاک کے عنوان سے کسی ایک اخلاقی یا تعلیمی موضوع سے متعلق آیت کی مختصر تشریح ، ایک حدیث کا ترجمہ ، چند اخباری خبریں اور ترانہ پڑھا جاتا تھا ۔لیکن ۱۶؍جولائی کو نیا سال شروع ہونے پر اور ۱۱؍جنوری کو سردی کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد جو ترانہ ہوتا تھا ، اس میں خاص طور پر مدرسہ کے شاعر اساتذہ سے درخواست کی جاتی تھی کہ وہ اپنا کلام سنائیں اور شاعر استاد اپنا کوئی کلام سناتے ۔ جب میں آیا تو اس زمانے میں یہاں دو استاد شاعر تھے ۔ ایک سیدمنیرالحسن منیرؔ اور دوسرے عنایت اللہ منظرؔ اعظمی ۔ میں نے جب ان کی نظمیں سنیں، تومجھے بھی شوق پیدا ہو کہ اس طرح اسکولی ماحول سے متعلق بچوں کی زبان میں لکھنے کی کوشش کروں ۔ اس لئے کہ دوسرے شعراء کا کلام ترنم ّکے ساتھ پڑھنے کا تو مجھے تجربہ تھا، اب خود کہنے کا میدان ہاتھ آیا ، تو میں نے جنوری کے لئے مندرجہ ذیل نظم لکھ کر سنائی اور پسند کی گئی ، تو میری ہمت افزائی ہوئی ؎
صبح تو آگئی پھر نئے سال کی

سونے والوں اٹھو اب سویرا ہوا
زندگی کے نئے دیپ روشن کرو

روشنی منتظر ہے تمہارے لئے
کتنی اونچی ہے پرواز انسان کی

چاند پر جا کے ٹھہرا ہے اب آدمی
اپنی دنیا ہے تاریکیوں کا جہاں

اک نظر چاہیے اس جہاں کے لئے
تم میں ذاکرؔ ہیں ،اجملؔ ہیں مختار ؔ ہیں

آنے والے زمانہ کے معمار ہیں
ان کی تاریخ دہراؤ اس شان سے

ساری تعریف ہو پھر تمہارے لئے
اس کے علاوہ اور بہت سی نظمیں لکھیں ،اور پڑھی گئیں ، پسند کی گئیں ۔ اس کے بعد ۱۶؍جولائی کو شروع ہونے والے نئے سال کے لئے بھی کئی نظمیں لکھیں ،اس میں ایک نظم کے چند اشعار پیش ہیں ، جس میں ہندی کے الفاظ بھی شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ؎
نئے سال کی نئی کہانی:
نئی سال کی نئی کہانی تم کو آج سنانی ہے
پیارے بچوںپڑھ لکھ کر ایک دنیا نئی بسانی ہے
کام کرو اور بڑھتے جاؤ ریت یہی ا نسانی ہے
دنیا نئی بسانی ہے
پڑھ لکھ کر وگیانک بن کر تم کو چاند پہ جانا ہے
نئی نرالی راہ پر چل کر سب کو مارگ دِ کھانا ہے
کہہ دو اب تو چاند کی دنیامیں جانے کی ٹھانی ہے
دنیا نئی بسانی ہے
سچائی کی راہ پر چلنا سب کی خدمت کرنا ہے
دین و وطن کا خادم بن کر فرض یہ پورا کرنا ہے
جہاںمیں کچھ کرکے دکھلاؤ جان تو آخر جانی ہے
دنیا نئی بسانی ہے
مدرسہ ابتدائی میں دوسری ا ہم تقریب بچوں کی حکومت کا الیکشن ہوا کرتا تھا ۔ یہ حکومت بالکل ایسا ہی سمجھئے جیسے اسکولوں میں طلباء کی یونین ہوتی ہے ۔ یہاں بچوں کی حکومت نام اس لئے رکھا گیا تھا ، تاکہ بچوں کو ملک کی جمہوری حکومت میں صدر کا انتخاب کرنے ووٹ ڈالنے اور وزرا کی کابینہ بنانے کا تجربہ ہوجائے، اور جمہوری ذہن سازی میں مدد ملے ۔ اس موقعہ پر پڑھنے کے لیے میں نے مندرجہ ذیل نظم لکھی ؎
جمہوریت کا نغمہ سب مل کے گنگناؤ

انصاف کے ترانے دنیا کو تم سناؤ
لو آگیا الیکشن بچو خوشی مناؤ

اچھا سا ایک چن کر اپنا صدر بناؤ
تم کل کے رہنما ہو بھارت کے پاسباں ہو

اس بھارتی چمن کے تم ہی تو باغباں ہو
وہ کام کردکھاؤ ہر شخص شادماں ہو

ایسا نہ ہو کہ غافل یہ عمر رائیگاں ہو
جمہوریت کا نغمہ سب مل کے گنگناؤ !
تم شوکت ِ وطن ہو تم عزتِ جہاں ہو

تم ہی سے ہے یہ رونق تم نورِ بے کراں ہو
ہمت ہے تم پر شیدا طاقت کی تم چٹاں ہو

تہذیب و فن ہے تم سے، تم اس کے آسماں ہو
جمہوریت کا نغمہ سب مل کے گنگناؤ!
یہاں کی اہم تیسری تقریب الوداعی جلسہ ہوا کرتا تھا ۔ یہ دو جلسے تھے ، ایک ساتویں جماعت آٹھویں کے لیے الوداعی تقریب منعقد ہوا کر تی تھی ، اور اس میں شاعر استاد اپنا کلام سناتے اور دوسرا موقعہ ہر دارلاقامہ میں الوداعی دعوت کا ہوتاتھا، اس میں بھی استاد اپنا کلام سناتے ، خاکسار نے ان دونوں مواقع کے لیے بہت سی نظمیں لکھیں اس میں سے چند اشعار پیش خدمت ہے ؎
الوداعی نظم :
زندگی میں سدا آگے بڑھتے رہو

نیک بن کر جہاں میں چمکتے رہو
دل سے دیتے ہیں تم کو دعا ساتھیو

الوادع الوداع الوداع ساتھیو!
شمع محفل بنو یا چراغِ وطن

تم سے زندہ رہے عظمت ِ علم و فن
بدر کی طرح چمکو سدا ساتھیو
الوداع الوداع الوداع ساتھیو
محمود منزل کی سالانہ دعوت کے موقعہ پر :
اے منزل محمود کے تابندہ ستارو

اٹھو چمن ہند کو تم اور سنوارو
دنیا میں تباہی کی گھٹا چھائی ہوئی ہے

ہر سمت جہالت کی فضا چھائی ہوئی ہے
دنیا کی بکھرتی ہوئی زلفوں کو سنوارو

اے منزلِ محمود کے تابندے ستارو!
جامعہ کے ایک جلسہ میں جو قوالی کے طرز پر بچوں نے پیش کیا ؎
سرزمین جامعہ میں :
سرزمین جامعہ میں بن کے مثل آفتاب

روشنی پھیلائیں گے ہم جگمگاتے جائیں گے
ہم شرافت اور محبت کو کریں گے سربلند

علم و دانش کی فضا میں گنگناتے جائیں گے
ہم غریبوں کی کریں گے دستگیری صبح و شام

غربت و افلاس دنیا سے مٹاتے جائیں گے
۱۹۷۸؁ ء میں سالانہ اسپورٹس کے جلسہ میں مدرسہ ابتدائی کے تقریباً تمام اساتذہ صاحبان کا مختصر منظوم تعارف تیار کیا گیا ، جسے آٹھویں کے طالب علم سہیل احمد شمسیؔ نے مؤثر انداز میں پیش کیا ۔
اساتذہ کے چند تعارفی اشعار :
نگراں مدرسہ (ہیڈ ماسٹر ) مرحوم آزاد رسول صاحب جن لوگوں نے ان کی زندگی کو قریب سے دیکھا ہے ، وہ بخوبی اس شعر کو سمجھ سکیں گے ۔
کردار میں درویشی انداز فقیرانہ

آزاد ؔ نے پائے ہیں اطوارِ کریمانہ
اردو کے استاد مولانا محمد اخلاق قاسمی ؔ صاحب:
ادب اور زندگی کیا ہے رموزِ بیخودی کیا ہے

اگر چا ہو تو یہ سب سیکھ لو اخلاق صاحب سے
انگریزی کے استاد نیاز احمد صاحب :
ادب شناس محبت شعار جاں پرسوز

یہ ہم نے دیکھے ہیں جوہر، نیاز صاحب میں
ریاضی کے استاد عبدالحمید صاحب :
ہے امروہہ وطن جن کا وضعداری کے پیکر ہیں

وہی عبدالحمید استاد ماہر ہیں ریاضی کے
شاہدہ پروین صاحبہ:
یہ شاہد مشہود ہیں اردو کی سہیلی

بچوں کو سناتی ہیں یہ خسروکی پہیلی
آفس انچارج پریم پرکاش صاحب :
بنسی بجانے والے ذرا ان کو تو دیکھو

پرکاش کے پریم میں مرنی کا ساز ہے
اسی طرز پر میں نے اپنے ہوسٹل حالیؔ منزل کی سالانہ دعوت میں طلباء کے مختصر تعارف لکھے، اور ہر طالب علم نے خود پڑھ کرخراجِ تحسین حاصل کیا ۔
نسیم احمد :
شہر بستی سے آیا اٹھا کر ہاتھ میں بستہ
بسا، پھر جامعہ آکر لگایا میز پر بستہ
نسیم احمد ہوں میں کھاتا ہوں باقر خانیاں خستہ
پسند ہے مجھ کو اصلی گھی وہ مہنگا ہو کہ ہو سستا
غلام ربانی :
وطن سے میں نکل آیا وطن ہوا سونا
ّکلی کلی مرے غم میں اداس رہتی ہے
زمانیہؔ کی فضائیں ہرایک سے کہتی ہیں
کوئی بتاؤ کہاں ہے غلام ربانی
کلیم الدین :
بڑے دربار والے ہیں معین الدین اجمیری
ّمیں اک ادنیٰ سا خادم ہوں کلیم الدین اجمیری
مری نسبت بڑی ہے اور کلیمی شان ہے میری
خدا کردے مری سیرت کو مثل خواجہ اجمیری
احمد رضا:
ہوں بہاری رضا ہے میرا نام
ّپڑھنے لکھنے سے مجھ کو ہے بس کا م
مجھ کو بھاتا نہیں بہت آرام
کیوں کہ ہوں میں گنیت کا پیش امام
علی غازی :
اگرچہ جنگ کی صورت کبھی دیکھی نہیں میں نے
ّنہ جانے نام پھر کیوں رکھ دیا میرا علی غازی
مگر ہاں! ہے وطن میرا کھتولی شاملی کے پاس
جہاں گزرے ہیں دم خم کے بہت سے کام کے غازی
ان مذکورہ بالا عنوانات کے تحت لکھی گئی بہت سی نظموں کے علاوہ خاکسار نے بچوں کی زبان میں ان کی دلچسپیوں سے متعلق کئی نظمیں لکھیں ، جن کے نمونے پیش خدمت ہے ؎
چناجور گرم :
چنا جور گرم بابو میں لایا مزے دار چنا جور گرم
میرے چنے ہین موٹے بھاری

ان کو کھاتے ہیں نر ناری
چنو ، منو اور بنواری

سب لیتے ہیں باری باری
چنا جور گرم بابو میں لایا مزے دار چنا جور گرم
میرے چنے بنے ہم رنگ

دیکھ کر ہوجائیں سب دنگ
کھانے چلی ہیں سکھیاں سنگ

سب کے کپڑے ہیں خوش رنگ
چنا جور گرم بابو میں لایا مزے دار چنا جور گرم
—————–
آم :
آم بھی اللہ کا انعام ہے

ہر طرف دنیا میں اس کانام ہے
کوئی لنگڑا ہے ، کوئی گلفام ہے

ہر جگہ ہر آم کا ایک نام ہے
ہے دسہری بس ملیح آباد کا

جیسے شربت سے بھرا ایک جام ہے
اور سفیدہ لکھنؤ کا کیا کہوں

یہ نوابوں کی پسند کا آم ہے
بمبئی کا آم ہے الفانسو

ہر طرف چرچا ہی اس کا عام ہے
آم اور امروہہ کا ہے طوطا پری

دیکھنے میں خوبصورت جام ہے
مغربی یوپی میں چونسے کا مزہ

شہد کا شربت ہے ، یا یہ آم ہے
جون اور جولائی کی برسات میں

ہر طرف جامن ہے یا پھر آم ہے
ہر سبزی پسند ہے :
گاجر پسند ہے ، مجھے مولی پسند ہے

شلجم پسند ہے ، مجھے بھنڈی پسند ہے
آلو پسند ہے ، مجھے گوبھی پسند ہے

کدو نہ مل سکے ، تو پھر توری پسند ہے
سیمیں بھی ہیں پسند مٹر بھی پسند ہے

بیگن بھی پسند ، چقندر پسند ہے
شملہ مرچ پسند چچینڈا پسند ہے

مجھ کو چنے کی دال میں لوکی پسند ہے
ہر سبزی ہر بدن کے لئے سود مند ہے

بس اس لئے تو مجھ کو ہر سبزی پسند ہے
آخر میں عرض ہے کہ مندرجہ بالا منظوم کلام کے چند نمونے اور اس جیسی بعض اور نظمیں میری مدرسہ ابتدائی کی پچیس سالہ زندگی کی یاد گار ہیں ،جن کا پچاس نظموں پر مشتمل مجموعہ میں نے ’’مدرسہ ابتدائی کی نظمیں ‘‘کے عنوان سے ستمبر ۲۰۰۸؁ء میں نئی کتاب پبلیشرز اوکھلا ، نئی دہلی 25سے شائع کیا تھا،اور اب یہ مختصر مضمون میں پیش خدمت ہے ، اس توقع کے ساتھ کہ اسکولوں کے اساتذہ اور طلباء استفادہ کرسکیں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*