مری دھڑکنوں کو ہوا ہے یہ اب کیا-انس احمد

تو حاضر نہیں ہے جھلک ہی ہے تیری
یہ ساون کی شامیں کہ پلکیں ہیں تیری

شفق ہر طرف آج ہے کیوں فلک پر
شفق ہے فلک پر یا مہندی ہے تیری

وہ سورج کا چھپنا درختوں کا ہلنا
وہ مٹی کی بو ہے کہ خوشبو ہے تیری

یہ امبر ہے نیلا یا آنکھیں ہیں گہری
یہ کالی گھٹا ہے یا زلفیں ہیں تیری

فضا نے ہے بخشا سکوں بے دلی کو
یہ بادِ صبا ہے یا سانسیں ہیں تیری

مری دھڑکنوں کو ہوا ہے یہ اب کیا
سبھی کچھ ہے حاصل طلب کیوں ہے تیری

انس اس کو اپنے جگر سے نکالو
کہ اس کو ضرورت کہاں اب ہے تیری

  • Anees
    15 جون, 2021 at 18:05

    ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ شاعری اس سے بھی حسین آپ کا چہرہ مبارک جو چاند کی طرح روشن ہے دہلی یونیورسٹی کے بلند عمارتیں اور ہرے، بھرے شجر آج اس قابل مشہور او معروف شاعر کی شاعری کوسن کر تلملا اٹهےان درختوں کی شاخیں ٹوٹ کر ان کے قدموں کو چومنے کو بیتاب ہیں لیکن اس شاعر کی عظمتوں کے چراغ ابھی بھی فلک پر چمکنے والے ستاروں کی مانند ٹمٹماتے ہوۓ مگر یہ نوجوان ہندوستان کا نیا چراغ اپنی محفوظ سرزمین کی زینت کو اور خوبرو بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اور اردو ادب کو اس کا وقار دلانے کی پر زور جدوجہد کر رہا ہے اللہ تعالی اس کے علم میں اضافہ کرے
    اللہ اس کو وہ مقام عتا فرما کہ جب بھی اپنی زبان مبارک سے کوئی کلمہ نکالے تتلیاں اسکے لبوں کو چومیں اور فرشتے اسکی پاکیزگی کے قصیدے پڑھنے لگے جگنو اسکا طواف کرنے لگے بادل ابر رحمت بن کر اس کے سر مبارک پر برسنے لگے
    آمین

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*