میرے والدِ مرحوم ۔ ایم ودود ساجد

20 سال کا عرصہ بڑا عرصہ ہوتا ہے۔ اس عرصہ میں انسان بہت کچھ بھول جاتا ہے۔گوکہ میری یاد داشت ٹھیک ٹھاک ہے لیکن میں بھی 20 سال پہلے کا کافی کچھ بھول چکا ہوں گا۔۔ لیکن ایک واقعہ ایسا ہے کہ جس کو فراموش کرنا بہت مشکل ہے۔ آج ہی کے دن میرے والد محترم اس دار فانی سے رخصت ہوگئے تھے۔
میں نے اس دنیا کو خیر باد کہنے والی بہت کم شخصیات پر لکھا ہے لیکن اپنے والد کی وفات کے بعد میں ایک لفظ بھی نہ لکھ سکا۔ میرے والد نے جس طرح اپنی اولاد کی پرورش کی تھی اس نے ہم سب کو ان کا دوست بنادیا تھا۔ ان کی وفات کا میری طبیعت پر شدید اثر ہوا تھا۔اس لیے عوامی طور پر ان پر کبھی لکھنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ وہ مجھ سے غیر معمولی محبت کرتے تھے۔
آج میرے چھوٹے بھائی حافظ محفوظ محمد نے باصرار کہا کہ والد صاحب کی وفات کو 20 سال ہوگئے ہیں لہذا میں ضرور کچھ نہ کچھ لکھوں۔ انہوں نے مجھے ایک فوٹو بھی بھیجا جو خود میں نے ہی کوئی 22 سال پہلے خود کار کیمرے سے کھینچا تھا۔اس فوٹو میں میرے والد اور میں ہوں۔
محفوظ میرا بہت احترام کرتے ہیں۔کبھی نام نہیں لیتے‘کبھی کوئی بات اونچی آواز سے نہیں کہتے۔۔ لیکن جب وہ کسی بات کو اصرار کے ساتھ کہتے ہیں تو میں نہیں ٹالتا۔۔ میں اپنی یاد داشتیں جمع کر رہا ہوں’ ہزاروں مضامین میں سے کچھ مضامین کو منتخب کرکے انہیں ترتیب دینے کا کام بھی سست روی کے ساتھ چل رہا ہے۔ احباب کے سونے کے وقت سے پہلے زیر نظر سطور پوسٹ کرنے کا ارادہ ہے۔ اس لیے چند سطور پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔
میرے والد قاری عبدالغفور درویش ؔمظاہری کا تعلق سہارنپور سے 35 کلو میٹر دور نوگانواں سے تھا۔ نوگانواں ندیوں اور پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ یہ گاؤں شاہ قمرالدین کے مزار کے اس علاقہ کے آس پاس آباد ہے جس کا نام آج کل شاکمبری دیوی ہے اورجو اس وقت مغربی یوپی کے ہندؤں کے لئے ’عقیدت‘ کا بڑا مرکز ہے۔ میرے والد کی تربیت ان کے بڑے بھائی اور جید عالم دین حافظ بشیرالدین صاحب نے کی تھی۔ ہم نے انہیں نہیں دیکھا۔ وہ بہت سخت مزاج تھے اور حصول تعلیم کی خاطر وہ میرے والد پر بلا کی سختی کرتے تھے۔۔ لیکن میرے والد صاحب نے ہم پر یہ سختی صرف قرآن پاک حفظ کرانے پر ہی استعمال کی۔۔ زندگی کے تمام گوشوں کی تربیت انہوں نے انتہائی ادبی انداز میں ایک دوست بن کر کی۔
مجھے یاد ہے کہ جب میری بڑی ہمشیرہ کا ایک پارہ ختم ہوتا تھا تو وہ مختلف پھلوں اور مٹھائیوں پر مشتمل ’شیرینی‘ بچوں میں تقسیم کرتے تھے۔لیکن جب میرا پارہ ختم ہوتا تھا تو بتاشے منگاتے تھے۔ میری عمر یہی کوئی 8-9 برس تھی۔لہذا میں اپنی زبان اور اپنے انداز میں کبھی کبھی پوچھتا تھا کہ اس ’دوئی‘ کا سبب کیا ہے؟ تو کہتے تھے کہ تمہاری ہمشیرہ کا رتبہ بھی تم سے زیادہ ہے اور ان کی ذمہ داری بھی تم سے زیادہ ہے۔ایسے میں اگر وہ حفظ کر رہی ہیں تو یہ غیر معمولی بات ہے۔
میرے والد سے وابستہ ذاتی یاد داشتیں بہت زیادہ ہیں۔ان کا ذکر پھر کبھی۔۔ وہ ایک جیدعالم دین‘ بہترین حافظ اور عمدہ قاری تھے۔انہیں فارسی‘عربی‘ اردو اور پنجابی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔۔ وہ ان چاروں زبانوں میں حمد ونعت لکھا کرتے تھے۔ہمیں دکھ ہے کہ ہم ان کے کلام کے ذخیرہ کو محفوظ نہ رکھ سکے۔۔ وہ مثنوی مولانا روم اور دیوان حافظ شیرازی کے بھی تقریباً حافظ تھے۔گلستاں اور بوستاں تو انہیں از بر یاد تھی۔انہوں نے ہماری دینی اور اخلاقی تربیت قرآن و حدیث کی زبان میں کی اور ہر موقعہ پر یا تو قرآن کی کوئی آیت پڑھی یا کوئی حدیث سنائی۔اسی طرح وہ مختلف مواقع پر مثنوی اور گلستاں کے حوالے بھی پیش کرتے تھے۔۔ والدہ کبھی کسی بے ادبی کی شکایت کرتیں تو بس اتنا کہتے کہ: بے ادب محروم گشت از فضل رب
میرے والد ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن جب اپنی ازدواجی زندگی شروع کی تو ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ میری والدہ کا تعلق قصبہ بہٹ کے متمول گھرانہ سے تھا۔لہذا شروع میں ہی والدہ سے کہہ دیا تھا کہ بہترین زندگی وہ ہے جو صبر وقناعت میں گزاردی جائے۔لہذا میرے پاس جو کچھ ہے اسی پر اکتفا کرنا اور اپنے گھر والوں کے سامنے کبھی دست سوال دراز نہ کرنا۔ مجھے فخر ہے کہ میری والدہ اس عہد پر قائم رہیں۔انہوں نے کبھی دست سوال دراز نہیں کیا اور جب میرے ہائی اسکول کے پرائیویٹ امتحانات کی فیس جمع کرنے کا وقت آیا تو شوق سے پڑوسی ملک سے منگائی گئی اپنے سر کی سب سے پسندیدہ چادر فروخت کرکے مجھے فیس کے پیسے دیے۔ الحمد لله میری والدہ بقید حیات ہیں۔ احباب سے ان کی برقراری صحت کیلئے دعا کی درخواست ہے۔
میرے والد کی پوری زندگی شہریوں کے درمیان اتحاد بین المسلمین کی کوششوں اور اقرباء کے درمیان صلہ رحمی کا سلوک کرتے ہوئے گزری۔ انہوں نے قرآن پاک کی تعلیمات کو اوڑھنا بچھونا بنالیا تھا۔ وہ اکثر الله کے رسول صلی الله عليه وسلم کے اس فرمان کو بیان کیا کرتے تھے: خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ۔ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ انہوں نے قرآن پاک کی تحفیظ کے ہزاروں شاگرد بنائے۔ فارسی زبان وادب کے بھی بے شمار تلامذہ تیار کئے اور یہ سب کچھ فی سبیل الله ۔انہوں نے گاؤوں کی زرعی ملکیت کو باقی رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی بلکہ شعوری طور پراپنا حق برضا ورغبت اپنے اقرباء کیلئے چھوڑدیا۔ وہ زندگی کے آخری ایام میں بھی امامت کرتے رہے۔لیکن میں ان کے آخری لمحات میں ان کی خدمت نہ کرسکا اور وہ وفات والے دن یہی پوچھتے رہے کہ کیا دلّی والے نہیں آرہے ہیں؟

میرے والد ایک ماہ سے زائد صاحبِ فراش رہے۔۔ 18مارچ 2001 کو عصر کی آذان شروع ہوئی تو جواب دینا شروع کیا اوردوسری بار اشہد انّ محمدا رّسول الله کا جواب دے کر ہمیشہ کےلیے خاموش ہوگئے۔ میں جب پہنچا تو آذان پوری ہوچکی تھی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔