میرے استاذ:شیخ صاحب-احمد سعید قادری بدایونی

کبھی کبھی دل میں رہ رہ کے ایک کسک سی اٹھتی ہے مانو کسی کی یاد کے جھونکے اپنی پوری توانائی کے ساتھ دل کے دروازے کو توڑنے پر آمادہ ہوں اور یہ ناتواں دل آنکھوں میں پربا ہونے والے سیلاب کے خوف سے خود کو طاقتور ظاہر کرنے کی ناکام کوشش میں لگا رہتا ہے لیکن طوفان کے آگے کون ٹک سکا ہے؟ آخر کار اُس پریوش کی یادوں کے جھونکے سرررر کرتے ہوئے دل کے سارے دروازے توڑ کر آنکھوں کے راستے رخسار چُوم لیتے ہیں۔
اُس کی یاد میں بہنے والے آنسوؤں سے جب آنکھ پاک ہوجاتی ہے تو ماضی کے جھروکہ سے ایک ایک کرکے ساری مضمحل یادیں تصویر بن کر سامنے آن کھڑی ہوتی ہیں۔

سمجھ نہیں آرہا کہاں سے شروع کروں؟ ذہن سُن سا ہوگیا ہے، اُنگلیاں ارتعاش زدہ آگے لکھنے سے قاصر سوالیہ نظروں سے کیبورڈ کو تکے جا رہی ہیں۔
آہ! یہ کمبخت دل بھی نا عجیب بلا ہے کبھی اتنا آہستہ دھڑکتا ہے کہ جیسے رُک ہی جائے گا اور کبھی ایسے دھک دھک کرے ہے کہ بس ابھی سینہ چیر کر باہر آ جائے گا لیکن آج نا تو یہ تیز ہی دھڑک رہا ہے اور نا آہستہ بلکہ کمبخت یادوں کی بارات لے کر مُرغ بسمل کا تماشہ دیکھنے پر آمادہ ہے،

اختر انصاری نے بالکل صحیح کہا ہے:

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مُجھ سے حافظہ میرا

اب بات نکلی ہے تو پھر دور تلک جائے گی۔

بات یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں چند ایک لوگ جو شخصیت سنوارنے، سلیقۂ زندگی سے بہراور کرانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اُن کی فہرست میں سب سے پہلا نام استاذ کا آتا ہے۔

یوں تو ہر استاذ قابل احترام ہوتا ہے لیکن کُچھ اساتذہ ہماری زندگی پر ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو تا دمِ حیات باقی رہتے ہیں۔

اب مجھے ہی دیکھئے! میں ابھی اِنہیں خیالات میں گُم ہوں کہ انسان کی زندگی سنوارنے میں استاذ کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے اور
عقل کِسی کے منتشر ہوتے خیالات کو یکجا کرنے کی ناکام کوشش میں مصروفِ کار خود کو ہلکان کر رہی ہے۔
یہ سارا وجود سورج مُکھی کی صورت اپنے آفتاب کا مشتاق ہوئے جا رہا ہے۔
ارے! یہ اچانک اُفقِ فکر پر خیال بن کر کس کی دل آویز صورت طلوع ہوئی ہے،
چوڑی ‌پیشانی
نورانی چہرہ
بڑی بڑی حسین و دلفریب آنکھیں
کھڑی ناک
بھرے ہوئے رخسار
گلاب کی پتی کی مانند ہونٹ
سیاہ داڑھی
میانہ قد
مضبوط شانے
نرم و نازک ہاتھ
چال میں غضب کا اعتماد
گفتار میں من موہ لینے والی چاشنی
غم دہر کو بھلانے دینے والی مسکراہٹ

ارے! یہ تو میرے مربّی، میرے استاذ شہیدِ بغداد علامہ اُسید الحق قادری بدایونی علیہ الرحمہ ہیں۔
ایک ایسی باوقار ذات جس کو دیکھ کر ایک طرف زندگی گزارنے کا سلیقہ آیا تو دوسری طرف علم و آگہی کی راہ پر آگے بڑھتے رہنے کا حوصلہ ملا۔
ایک ایسا ناقد جس کی تنقید پڑھ کر مخالف بھی بار بار تنقید کرنے کی عرض گذاشت کرے۔
اختلافات کے باوجود باہمی احترام و عزتِ نفس کی اتنی پاسداری کے حریف بھی دوست معلوم ہونے لگے۔
انصاف پسندی و اعتدال کا یہ عالم کہ نینیانوے عیبوں کے باوجود بھی مخالف صف میں کھڑے شخص کی خوبی کا متلاشی رہنا۔

"اُسید الحق” نام نہ ہوا جہالت کے اندھے کنویں سے باہر نکل کر نئی زندگی دینے والا مسیحا ہو گیا، کلیجے کو ٹھنڈک سی مل گئی ہے، بے قابو ہوتے جذبات قابو میں آنے لگے ہیں، دماغ کے چودہ طبق روشن ہوگئے ہیں، دل کا صحرا چاندنی رات کی طرح ٹھنڈک محسوس کرنے لگا ہے، ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے سورج مُکھی کو رات کی تاریکی میں جب سورج کو دیکھنے کی ہر آس ٹوٹ چکی ہو اور اچانک طلوعِ شمس سے اُس کو ایک نئی زندگی مل جائے۔

یہ ہیں میرے استاذ جو سب کے لئے ممتاز ناقدومحقق علامہ اُسید الحق قادری بدایونی تھے اور ہمارے لئے ہمارے شیخ صاحب۔

ایک ایسے استاذ جن کی رہنمائی و سایۂ تلمّذ میں میں نے الف سے لے کر ترجمۂ قرآن تک کا سفر طے کیا۔ ایک ایسے استاذ جن سے "هذا کتاب” سے لے کر "نحن نَقُصّّ عليك أحسنَ القصص” تک اور "يوم العيد” سے لے کر "الأرنب والتمثال” جیسی ادبی کہانیاں پڑھنے کا شرف ملا، ایک ایسے مشفق استاذ جن کے دریائے علم میں غوطہ زنی کرکے کبھی "نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر” جیسی کتاب کے قیمتی لعل و گوہر سے اپنا دامن بھرا تو کبھی "شرح العقائد النسفية” کی گتھیاں سلجھائییں۔

ایک ایسا استاذ جو ایک طرف درسگاہ میں سبق میں غلطی کرنے پر ڈانٹ ڈپٹ اور مارنے کی بجائے اپنی عینک نیچے کرکے مسکرا کے دیکھتا اور ہلکے سے کان مروڑ کر "ابے! بیوقوف اس کا مطلب یہ ہوا” کہہ کر دوبارہ سمجھانا شروع کردیتا تو دوسری طرف صحیح جواب دینے پر ڈیسک سے ٹافی نکال کر حوصلہ افزائی کرتا۔

اب اُنہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر۔

میں نہیں جانتا میرے اور کتنے ساتھیوں کو شیخ صاحب نے کس طرح چلا جاتا ہے یہ سکھایا ہوگا لیکن کم سے کم مُجھ نالائق کو یہ شرف حاصل ہے کہ مُجھے میرے شیخ نے چلنے کا سلیقہ بھی سکھایا۔
یہ میرے مدرسے کے ابتدائی دور کی بات ہے چلتے وقت میں اپنی چپّل گھس کر چلا کرتا تھا جس سے عجیب سی آواز بھی ہوتی ہے اور سلیپر بھی جلدی خراب ہوتی ہے، لہٰذا ایک دن حسبِ عادت میں اپنی فاتحانہ چال میں چپل کو پاؤں سے مسلتا ہوا کلاس کی طرف رواں دواں تھا اور شیخ صاحب چبوترے کے بیچ پڑی کرسی پر تشریف فرما تھے جب آپ نے میری طرف سے سلیپر پر ہونے والے تشدد و استحصال کو دیکھا تو اشارے سے اپنی طرف بلایا اور فرمایا، "ابے یہ کیسے چلتا ہے؟ عجیب سی آواز آتی ہے، رُک، مجھے دیکھ ایسے چلتے ہیں” اور پھر آپ نے تھوڑی دور چل کر دکھایا اور فرمایا "ایسے چلا کر، سمجھا ؟”.

اِسی طرح کسی کو پانی دیتے وقت گلاس کتنا بھرنا چاہئے ؟ کس طرح گلاس مہمان کو دینا چاہئے؟ یہ سارے آداب مُجھے میرے شیخ نے سکھائے۔

لائبریری میں ہوتے تھے اور کوئی کتاب جو آپ کے کمرے میں موجود ذاتی لائبریری کی الماری میں رکھی ہوتی تھی تو بلا کر اُس کتاب کا نام اور رنگ بتا کر لانے بولتے تھے، اتفاق سے ہر بار راقم صحیح کتاب لے آتا تھا‌ جو کہ بہت چھوٹی بات ہے لیکن اتنی چھوٹی سی بات پر بھی آپ ایسے مسکرا کے شباشی دیتے تھے کہ مجھے ایسا لگتا تھا کہ گھر سے آنے جانے کے بیچ یہ کتاب میں نے ہی لکھ دی ہے۔

اچّھا! یاد آیا! وہ پیار سے ہم سب کو بیوقوف، نالائق کہا کرتے تھے لیکن ہمارے لئے اُن کا بیوقوف کہنا کسی بھی عقلمندی کے سرٹیفکیٹ سے بڑھ کر تھا اور نالائق لفظ کو ہم اپنے سروں پر عزت و تکریم کا تاج سمجھ کر پہنا کرتے تھے۔

ایک مرتبہ وہ اپنا نقویہ کالج ہے نا؟ ہاں! وہی گھنٹہ گھر والا، جہاں ہر سال گرمی کی چٹھیوں میں شیخ صاحب کالجز کے طلبہ و طالبات کے لئے اسلامک اسٹڈیز کے سمر کلاسز کراتے تھے، سمر کلاسز کا ٹائم تھا، مغرب بعد شیخ صاحب کا لیکچر ہو رہا تھا، مغرب پڑھ کے میں بھی چلا گیا اور ہال کی آخر میں خالی پڑی کارنر سیٹ پر براجمان ہوگیا جس سے اسٹیج کے سینٹر میں تشریف فرما شیخ صاحب صاف دکھ رہے تھے، دورانِ گفتگو کُچھ بات نکلی تو شیخ صاحب نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، "وہ دیکھو! وہ احمد سعید بیٹھا ہے یہ بھی بہت بڑا بیوقوف ہے”۔
اُنہوں نے مُجھے کہا تو بیوقوف تھا لیکن مُجھے لگ رہا تھا کہ اُنہوں نے مجھے بیوقوف نہیں دنیا کا سب سے ذہین انسان کہہ دیا ہے۔

اِس دل میں اُن کی یادوں کا ایک دریا موجزن ہے حیران ہوں کہ کیا کیا لکھوں؟
اب دیکھیں نا! چونکہ میں بدایوں ہی کا رہنے والا ہوں لہٰذا نالائقی میں اگر عید کے دن عید ملنے نہیں جا پایا تو ابّا کے ہاتھ عیدی بھیج دی، چھٹیوں میں کئی دن مدرسے نہیں گیا تو ابّا سے بول کے آنے کا حکم دے دیا۔

شفقت و محبت سے سخت سے سخت علمی گٹھی سلجھانے والا یہ عظیم استاذ ٤ مارچ ٢٠١٤ء کو بغداد میں ایک دہشت گردانہ حملے میں جاں بحق ہوگیا۔ ایک ایسا مشفق استاذ جس کے مضامین کو پڑھ کر لکھنے کا شعور آیا، ایک ایسا استاذ جس کی تحقیق و تدوین کردہ کتابوں سے تحقیق کے اُصول سے آشنائی ہوئی، ایک ایسا عظیم استاذ جس کی تنقید پڑھ پر مثبت و منفی تنقید کا فرق معلوم ہوا تھا اور ایک ایسا عظیم مربّی جس نے ایک ساتھ تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کیا۔ وہ استاذ ہم تشنہ کاموں کو خیرآباد کہہ گیا اور آج تقریباً چھ سال بیت جانے کے بعد بھی یہ دل ماننے کو تیار نہیں کہ اب وہ نہیں رہے۔
آج بھی لگتا ہے کہ صبح سو کر اٹھوں گا، مدرسے جاؤں گا تو مجھے دیکھ کر کہیں گے، "اس بیوقوف کو دیکھو! اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ اب مجھ پر مضمون لکھنے لگا ہے”.

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*