میرے دل نے مجھے سکھایا-خلیل جبران

ترجمہ:نایاب حسن
میرے دل نے مجھے نصیحت کی اور ان لوگوں سے محبت کرنا سکھایا جن سے دوسرے لوگ نفرت کرتے ہیں،ان سے دوستی و الفت سکھائی جن سے لوگ دشمنی کرتے ہیں۔اس نے مجھے بتایا کہ محبت عاشق میں پائی جانے والی خصوصیت نہیں ؛بلکہ محبوب کی خاصیت ہے۔اس سے پہلے محبت میری نظر میں ایک باریک دھاگا تھا،جولکڑی کے دو قریبی سروں سے بندھا ہوا تھا،مگر اب وہ ایک ایسے ہالے میں تبدیل ہو گئی ہے،جس کا اول ،آخر ہے اور آخر ،اول ،وہ دنیا کی تمام اشیا و عناصر کو محیط ہے اور آہستہ آہستہ مستقبل میں ظہور میں آنے والی اشیا کو بھی اپنی پناہ میں لے لیتی ہے۔
میرے دل نے مجھے سکھایا کہ میں اس خوبصورتی کو دیکھوں جو شکل،رنگ اور جلد کے پردے میں چھپی ہوتی ہے اور میں اس چیز کو غور سے دیکھوں جسے لوگ براسمجھتے ہیں،حتی کہ مجھے اس کا حسن نظر آنے لگے۔ پہلے میں دھوئیں کے اٹھتے ہوئے مرغولے کے درمیان لرزاں شعلے کو ہی حسن سمجھتا تھا،پھر جب دھواں ختم ہوتا تو صرف شعلے نظر آتے۔
میرے دل نے مجھے سکھایا کہ ان آوازوں پر دھیان دوں کہ جو انسانی زبان اور گلے سے نہیں نکلتیں۔اس سے پہلے میری قوتِ سماعت کمزور تھی،میں کم سنتا تھا اور صرف شور ہنگامے ہی میرے کانوں تک پہنچ پاتے تھے۔مگر اب میں نہایت سکون سے کان لگاتا ہوں اور فضا میں گونجنے اور غیب کے اسرار کھولنے والے نغمہ ہاے فطرت کو محسوس کرتا اور سن لیتا ہوں ۔
میرے دل نے مجھے ان مشروبات کو بھی پینا سکھایا جو نہ نچوڑی جاتی ہیں،نہ بہائی جاتی ہیں،نہ ہاتھ سے اٹھائی جاتی ہیں اور نہ ہونٹوں سے لگائی جاتی ہیں۔اس سے پہلے میری پیاس راکھ کے ٹیلے پر پڑی چنگاری جیسی تھی جسے میں تالابوں اور مشکیزوں سے بجھانے کی کوشش کرتا تھا۔مگر اب میرا عشق ہی میری پیاس بجھاتا ہے،میری پیاس ہی میرے لیے مشروب ہے اور میری تنہائی میرے لیے لطف انگیز ہے۔میں کبھی حقیقی معنوں میں سیراب نہیں ہوسکتا،مگر اس سوزشِ مسلسل میں بھی لازوال مسرت ہے۔
میرے دل نے مجھے غیر محسسوس و غیر مجسم اشیا کو چھونا سکھایا اور مجھے بتایا کہ جو چیز محسوس پیکر میں ہے،وہ نصف حقیقت ہے۔جسے ہم چھوسکتے ہیں،وہ ہمارے مقصود و مطلوب کا آدھا ہے،دوسرا آدھا تو غیر محسوس ہوتا ہے۔اس سے پہلے مجھے گرمی میں سردی اور سردی میں گرمی پسند تھی اور اگردونوں کے درمیان کا موسم ہوتا تو گرم یا ٹھنڈا پانی استعمال کرتا۔اب میرے سکڑے ہوئے محسوسات پھیل چکے ہیں اور باریک دھند میں تبدیل ہوچکے ہیں جو ظواہرِ اشیا کو عبور کرکے ان کے باطن میں گھستے جارہے ہیں۔
میرے دل نے مجھے سکھایا کہ میں ایسی خوشبوئیں بھی سونگھ سکوں جو نہ پھولوں سے نکلتی ہیں اور نہ دھونیوں سے۔اس سے پہلے اگر مجھے خوشبو کی ضرورت ہوتی،تو چمن زاروں،عطر کی شیشیوں اور دوسری خوشبووں کا سہارا لیتا۔اب میں ایسی خوشبوئیں بھی سونگھ سکتا ہوں جو نہ جلائی جاتی ہیں اور نہ بہائی جاتی ہیں۔میرے سینے میں ایسے پاکیزہ انفاس موجزن ہیں جو نہ اس دنیا کے باغات کی پیداوار ہیں اورنہ یہاں کی فضاؤں سے اٹھتی ہیں۔
میرے دل نہ مجھے سکھایا کہ میں اجنبی و غیر متعارف آوازوں پر بھی لبیک کہوں۔اس سے قبل میں صرف ان آوازوں پر کان دھرتا تھا،جنھیں میں پہچانتا تھا۔میں صرف انہی راستوں پر چلتا تھا،جو میرے جانے پہچانے ہوتے اور جہاں میں بارہا جاچکاہوتا۔ اب میں متعارف راستے کو غیر متعارف منازل تک جانے کے لیے استعمال کرتا ہوں۔اور آسانی کے سہارےمشکلات تک کا سفر کرتا ہوں۔
میرے دل نے سکھایا کہ میں زمانے کی پیمایش اس بات سے نہ کروں کہ کل ایسا تھا اور آیندہ کل ایسا ہوگا۔اس سے قبل میں ماضـی کو ایسا زمانہ سمجھتا تھا جو کبھی لوٹایا نہیں جا سکتا اور حال کو ایسا کہ جہاں تک میں نہیں پہنچ سکتا۔مگر اب میں جان گیا ہوں کہ حال میں ہی تمام تر زمانے موجود ہیں،جس میں تمام تر مقاصد،امیدوں،امنگوں کو بروے کار لایا جاسکتا ہے۔
میرے دل نے مجھے سکھایا کہ میں مقامات کی یہاں وہاں میں تحدید نہ کروں۔اس سے قبل میں اگر کسی جگہ ہوتا تھا تو اپنے آپ کو دوسرے تمام مقامات سے دور محسوس کرتا تھا۔مگر اب میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ جہاں میں ہوں وہیں ساری دنیا ہےاور میں جس مقام پر ہوں وہ تمام تر مسافتوں کو محیط ہے۔
میرے دل نے مجھے اس وقت جاگنا سکھایا جب سب سورہے ہوں اور اس وقت سونا سکھایا جب سب جاگ رہے ہوں۔اس سے پہلے میں ان کے خواب اپنی نیند میں نہیں دیکھتا تھا،نہ وہ اپنی نیند میں میرے خواب دیکھتے تھے۔مگر اب میں اپنے خواب میں پرواز کرتاہوں اور وہ مجھے دیکھتے ہیں اور وہ اپنے خوابوں میں محوِ پرواز ہوتے ہیں اور میں ان کی آزادی سے خوش ہوتا ہوں۔
میرے دل نے مجھے سکھایا کہ کسی کی تعریف سے خوش نہ ہوا کروں اور نہ کسی کی مذمت سے پریشان ہونے کی ضرورت ہے ۔ اس سے پہلے اس وقت تک مجھے اپنے کاموں کی قدروقیمت کے بارے میں شک رہتا تھا،جب تک کوئی ایسا آدمی نہ ملے جو میرے کام کی تعریف یا برائی کرے۔اب میں جان گیا ہوں کہ موسمِ بہار میں پھول اور گرمیوں میں پھل ہر حال میں آتے ہیں،انھیں کسی ستایش کی تمنا نہیں ہوتی۔موسمِ خزاں میں ان کے پتے جھڑ جاتے اور ٹھنڈیوں میں سارے درخت بے لباس ہوجاتے ہیں اور انھیں کسی کی ملامت کی پروا نہیں ہوتی۔
میرے دل نے مجھے نصیحت کی اور سکھایا کہ میں معاشرے کے حقیر ترین انسانوں سے بھی برتر نہیں ہوں اور نہ شاہانِ وقت سے کمتر ہوں۔اس سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ انسانوں کی دو کٹیگریاں ہیں:ایک کمزور جس کے لیے میں اپنے دل میں نرمی و رحم محسوس کرتا تھا یا اسے حقیر سمجھتا تھا اور ایک طاقت ور،جس کی میں اتباع کرتا یا اس سے بغاوت کی کوشش کرتا تھا۔اب میں یہ سمجھ گیا ہوں کہ میں بھی انسانی معاشرے کا ایک فرد ہوں،جن اجزا سے دوسرے انسانوں کی تخلیق ہوئی انہی سے میری بھی تخلیق ہوئی ہے،میری حقیقت بھی وہی ہے جو دوسرے انسانوں کی ہے۔اگر وہ گناہگار ہیں،تو میں بھی ان کے گناہوں میں شریک ہوں اور اگر وہ نکوکار ہیں،تو ان کی نیکی میں میرا بھی حصہ ہے اور اگر وہ مفلوج و بے کار ہیں،تو گویا میں بھی اپاہج اور ناکارہ ہوں۔
میرے دل نے مجھے سکھایا کہ میرے ہاتھوں میں جو چراغ ہے،وہ دراصل میرا نہیں ہے اور جو نغمے میں گاتا ہوں،وہ میرے ذہن میں تخلیق نہیں پائے۔اگر چہ میں روشنی کے ساتھ چلتاہوں،مگر میں خود روشنی نہیں ہوں اور اگر چہ میں تانت سے بندھی ہوئی تیر کی لکڑی ہوں،مگر میں خود تیر انداز نہیں ہوں۔
میرے بھائی! میرے دل نے مجھے نصیحت کی اور بہت کچھ سکھایا ہے،آپ کے دل نے بھی بہت کچھ سکھایا ہوگا،پس میں اور آپ دونوں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ہم دونوں میں فرق بس اتنا ہے کہ میرے دل میں جو کچھ ہے،میں اس کا عاجزانہ اظہار کر رہا ہوں اور آپ اپنے محسوساتِ دل کو چھپارہے ہیں اور یہ بھی آپ کی خوبی ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*