میرے بھائی جیسے دوست کا بیٹا ہے،سنتا رہتا ہوں،نتیش کمارتیجسوی یادوپربرہم

پٹنہ:بہاراسمبلی کے اندرگورنرفاگو چوہان کی تقریرپربحث کے دوران وزیراعلیٰ نتیش کمار ، اپوزیشن لیڈر ، تیجسوی یادوپر شدیدبرہم ہوئے ۔آج سے پہلے شاید ہی کسی نے نتیش کمار کا اتنا غصہ دیکھا ہوگا۔تیجسوی یادو پر حملہ کرتے ہوئے نتیش کمار نے کہاکہ وہ بیٹے جیسے ہیں ، اسی وجہ سے وہ ان کی باتیں سنتے رہتے ہیں۔میرے بھائی کے جیسے دوست کے وہ بیٹے ہیں،اس لیے سنتارہتاہوں۔ در حقیقت اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نتیش کمار کوشدید نشانہ بنایااور ان پر الزام لگایا کہ وہ 1991 میں قتل کے ایک مقدمے میں ملوث ہیں۔تیجسوی یادومواد چوری کے معاملے میں 25 ہزار روپے جرمانے کا حوالہ دیا ۔تیجسوی یادو کی تقریر کے اختتام کے بعد اسمبلی امورکے وزیر وجے چودھری نے نتیش کمار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے اوپر جو قتل کیس چل رہا تھا اسے سپریم کورٹ نے ختم کردیا ہے اور اسی وجہ سے اس معاملے کو ایوان میں اٹھانا ٹھیک نہیں ہے ۔اس کے بعدنتیش کمار غصے میں اپنی جگہ سے اٹھے اورکہا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں اوراس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔وہ جھوٹ بول رہا ہے میرے دوست کا بیٹا ہے ، اسی لیے میں سنتا رہتا ہوں۔کس نے قانون ساز پارٹی کا قائد بنایا ، کیا وہ جانتا ہے؟ کون جانتا ہے کہ اس کو نائب وزیراعلیٰ کس نے بنایا؟ اگر بدعنوانی کا الزام لگایا گیا تو ہم نے اس سے جواب طلب کیا ، لیکن جب اس نے جواب نہیں دیا تو ہم الگ ہوگئے۔ ہم کچھ نہیں بولتے۔ تیجسوی پر چارج شیٹ ہے۔ آپ نے 2017 کی صورتحال کو واضح کیوں نہیں کیا؟