میرے عزیز ترین شاگرد: ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق

ڈاکٹر ممتاز احمدخاں، حاجی پور

میری یہ کتاب تکمیل کو پہنچ چکی تھی کہ میرے عزیز ترین شاگرد ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق ۳؍دسمبر ۲۰۲۰ء کی شام کو راہیِٔ ملکِ عدم ہوئے۔ انّا للہ و انّا الیہ راجعونo صرف پانچ دن شدید بیمار رہے پھر ہم لوگوں سے دُور بہت دُور چلے گئے۔ ۴؍دسمبر جمعہ کی نماز کے بعد موضع بھیروپور کے آبائی قبرستان میں دفن کیے گئے۔ ان کے جنازے میں بے شمار لوگوں نے شرکت کی۔ وہ کوئی عالم، فاضل، لیڈر یا بڑے سرکاری عہدے پر فائز افسر نہیں تھے۔ وہ تو اردو کے ایک معمولی استاد تھے جو پوری زندگی ویمنس کالج حاجی پور میں اردو زبان و ادب کی تدریس میں مصروف رہے۔ اردو زبان، شاعری اور ادب سے ان کو والہانہ محبت تھی۔ حاجی پور میں وہ اردو تحریک کے مضبوط سپاہی تھے۔ اردو میں لکھنے اور چھپنے سے ان کی دلچسپی تھی۔ چنانچہ وہ کئی درجن مضامین کے مصنف ہوگئے۔ تین کتابیں تین ادیبوں پر مرتب کرچکے تھے۔ ان کے تنقیدی اور تجزیاتی مضامین کا ایک مجموعہ ’’ذوقِ ادب‘‘ کے نام سے ۲۰۱۵ء میں شائع ہوا۔ وہ اپنے مضامین کا دوسرا مجموعہ ’’برگ ہائے ادب‘‘ کے نام سے مرتب کرکے اشاعتی امداد کے لیے اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، پٹنہ میں داخل کرچکے تھے۔ بہار کے ادیبوں اور شاعروں کے درمیان وہ اپنی پہچان بنا چکے تھے۔ ادبا و شعرا کی کتابوں پر تبصرے لکھ کر شائع کراتے رہتے تھے۔ ادبی محفلوں میں اپنی شرکت سے وہ ادیبوں کے درمیان عزت سے بٹھائے جاتے تھے۔ سمیناروں میں مضامین پڑھ کر مشہور ہورہے تھے۔ عزیزؔ بگھروی، مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی، جمیلؔ سلطان پوری، قمر اعظم ہاشمی اور صالحہ عابد حسین سمینار میں وہ اپنا مقالہ پڑھ کرادبی حلقوں میں مقبول ہوگئے تھے۔ آخری مقالہ انھوں نے حفیظؔ میرٹھی سمینار میں پڑھا جو یکم دسمبر ۲۰۱۹ء کو کاروانِ ادب حاجی پور کے زیرِ اہتمام ساجدہ منزل حاجی پور میں منعقد ہوا تھا۔
ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق کے مضامین جو ادبی رسالوں میں شائع ہوئے، وہ جگن ناتھ آزادؔ کی شاعری، حفیظؔ میرٹھی کی نظم نگاری، عزیزؔ بگھروی کی شاعری، شین مظفرپوری کی ادبی حیثیت، مانک ٹالا کا افسانہ ’’حجِ اکبر ایک تنقیدی مطالعہ‘‘ کے عنوانات سے تھے۔ ڈاکٹر مشتاق صاحب نے ایک عمدہ تاثراتی مضمون ’’رضا نقوی واہیؔ یادوں کے جھروکے سے‘‘ کے عنوان سے لکھا جو اردو جریدہ شمارہ اوّل، شعبۂ اردو بی-آر- اے بہار یونیورسٹی مظفرپور میں شائع ہوا۔ ڈاکٹر مشتاق نے میری نگرانی میں اپنا تحقیقی مقالہ’’جدید اردو شاعری میں طنز و مزاح کی روایت اور رضا نقوی واہیؔ کی شاعری‘‘ کے عنوان سے لکھ کر بی-آر-اے بہار یونیورسٹی مظفرپور میں داخل کیا جس پر ۲۰۰۳ء میں انھیں پی ایچ-ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی۔ افسوس ان کا یہ وقیع مقالہ ان کی سستی اور بے توجہی کے سبب شائع نہیں ہوسکا۔ انھوں کے اردو کے نئے ادیبوں اور شاعروں کی کتابوں پر تبصرے لکھ کر ایک سنجیدہ مبصر کی حیثیت سے بھی اپنی پہچان بنائی۔ ان کے مضامین کے دو مجموعے کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے دو درجن سے زائد کتابوں پر تبصرے لکھ کر اخباروں میں شائع کرائے ۔ پھر ان میں سے منتخب تبصروں کو اپنی کتاب میں جگہ دی۔ مشتاق صاحب کے قارئین کا حلقہ وسیع ہوا اور ان کی ادبی محفلوں میں پذیرائی بھی ہونے لگی۔
ڈاکٹر مشتاق احمد نے آل انڈیا ریڈیو پٹنہ کے اردو پروگرام میں حصہ لے کر اپنے متعدد مضامین پڑھے۔ رسالوں کی بہ نسبت وہ اخباروں میں زیادہ چھپے۔ انوارالحسن وسطوی، ڈاکٹر ریحان غنی اورڈاکٹر اسلم جاوداں نے ان کی بہت حوصلہ افزائی کی جس کے سبب وہ لکھنے او رچھپنے میں سنجیدہ ہوگئے۔
ڈاکٹر مشتاق سے میری ملاقات ۱۹۸۰ء میں آر-این کالج حاجی پور میں ہوئی۔ وہ آئی-اے ، پھر بی-اے اردو آنرس کی جماعت میں میرے شاگرد تھے۔ اردو میں ایم-اے کرنے کے بعد وہ اپنے گھر پر فرصت میں تھے۔ اُس زمانے یعنی ۱۹۸۶ء میں مَیں اپنے تحقیقی مقالے پر کام کررہا تھا۔ میں نے مشتاق صاحب سے گزارش کی کہ وہ مقالہ لکھنے کے دوران میری میز پر بیٹھیں اور مقالے کا ڈکٹیشن لے کر میرے کام کو آسان بنادیں۔ میں جب قلم اپنے ہاتھ میں لے کر لکھتا ہوں تو کام بہت سست رفتاری سے ہوتا ہے مگر جب ڈکٹیشن دیتا ہوں تو کام کی رفتار تیز ہوجاتی ہے۔ مشتاق صاحب ساڑھے پانچ مہینے تک مسلسل میری میز پر بیٹھے اور میرے ساتھ روکھا سوکھا کھاکر کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ وہ دن میں ڈکٹیشن لیتے تھے اور شب میں مَیں خود لکھے ہوئے صفحات کی کاربن کاپی بناتا جاتا تھا۔ ’’اردو میں مرصّع نثر کی روایت‘‘ کے موضوع پر میرا مقالہ ان کی محنت و معاونت کا نتیجہ میں وقت پر داخلِ دفتر ہوا۔ یہی نہیں بعد میں بھی وہ ہمیشہ میرے لیے اپنے وقت کی قربانی دیتے رہے اور میرے مضامین کی تسوید و تبئیض میں میرا ہاتھ بٹاتے رہے۔
مشتاق صاحب بڑے فرماں بردار، مخلص، نیک طبیعت اور بامروّت شاگرد تھے۔ کام کے دوران کسی لفظ کے لکھنے میں اگر وہ غلطی کرجاتے تو میں انھیں نہ صرف ڈانٹ دیتا بلکہ سخت لہجے میں تنبیہ کرتا۔ وہ اُف تک نہ کرتے۔ خاموشی اور شرافت سے میرا دل جیت لیتے تھے۔ بعد میں مجھے خود اپنے رویّے پر افسوس اور ندامت کا احساس ہوتا۔
ڈاکٹر مشتاق صاحب میں سیکھنے کا جذبہ بہت تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایک مدتِ مدید تک مجھ سے اپنا رشتہ قائم رکھا۔ علمی و ادبی کاموں میں وہ میرے اسسٹنٹ ہوگئے۔ میرے افرادِ خانہ بھی ان کا احترام کرتے تھے۔ میرے سب بیٹے بیٹیاں ان کو ’’مشتاق بھیا‘‘ سے مخاطب کرتے۔ وہ بھی سب سے اس طرح مانوس ہوئے کہ ہر خوشی اور غم میں میرے یہاں ان کی شرکت لازمی ہوگئی۔
مشتاق صاحب کی نیکی، نرمی اور اخلاص کی وجہ سے تمام لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔ اپنے گاؤں محلے اور حاجی پور شہر کے پڑھے لکھے مسلمانوں کے درمیان ان کی شناخت تھی، ان کا احترام تھا۔ ایک محنتی استاد اور ایک سنجیدہ ادیب و قلم کار کی حیثیت سے تمام اساتذہ، طلبہ، طالبات اور شہر کے ادبا و شعرا، پٹنے کے پڑھے لکھے لوگ ان کو جانتے تھے اور ان کی تحریروں کو پڑھ کر ان کی علمیت اور صالح فکر سے متاثر ہوتے تھے۔ مشتاق صاحب نے اپنے کالج کے علاوہ آر-این کالج حاجی پور میں بھی آئی-اے اور بی-اے کے طالب علموں کو آنریری طور پر پڑھایا۔ اس زمانے میں مَیں ایک ماہ کی ڈیوٹی لیو (Duty Leave) پر علی گڑھ گیا تھا۔ مشتاق نے پروفیسر ثوبان فاروقی صاحب، صدر شعبۂ اردو سے ملاقات کرکے پرنسپل سے درخواست کی کہ وہ اعزازی طور پر پڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ پرنسپل نے انھیں اجازت دے دی اور انھوں نے بلا معاوضہ مسلسل ایک ماہ پڑھایا۔ وہ اپنی محنت، نرمی اور کام کے تئیں اپنی ذمہ داری بخوبی نبھانے کی وجہ سے طلبہ میں بے حد مقبول تھے۔ اردو کے فروغ اور تہذیب کی اشاعت سے انھیں دلچسپی تھی۔ مشتاق جیسا بے لوث استاد اب ڈھونڈنے سے نہیں مل سکتا ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں، دوستوں اور انجمن ترقیِ اردو بہار پٹنہ کے تمام کارکنوں اور عہدے داروں کے درمیان پہچانے جاتے تھے۔ پروفیسر عبدالمغنی، صدر انجمن ترقیِ اردو بہار نے ان کے ذوق و شوق کو دیکھ کر ان کو مجلسِ عاملہ کا ممبر بنادیا تھا۔
ڈاکٹر مشتاق اپنے تمام اساتذہ کا بے حد احترام کرتے تھے۔ حافظ عزیز الرحمن، شاداں فاروقی صاحب، ماسٹر فقیر احمد صاحب، پروفیسر ثوبان فاروقی اور مجھ خاکسار کا نام وہ ادب سے لیتے تھے۔ عزیز الرحمن صاحب پر ایک کتابچہ لکھ کر شائع کرایا اور ان کی خدمت میں پیش کیا۔ مجھ پر انھوں نے ایک کتاب تیار کرنے کا منصوبہ بنایا۔ میرے تمام جاننے والوں، دوستوں اور بزرگوں سے رابطہ قائم کرکے میری شخصیت اور ادبی خدمات پر مضامین لکھوائے۔ تقریباً چار سو صفحات کی کتاب تیار ہوئی جس میں میری سوانح حیات بھی ہے اور میری سرگرمیوں کا ذکر بھی ہے، میرے کلام کا نمونہ بھی ہے اور میرا انٹرویو بھی۔ اس کتاب کو تیار کرنے میں انھوں نے جس اخلاص، محنت و مشقت، محبت و مروّت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ آج کے عہد میں عنقا ہے۔ اس کتاب کے ایک مبصر نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ :
’’ڈاکٹر ممتاز احمد خاں اگر ڈاکٹر جان سن ہیں تو ڈاکٹر مشتاق جیمس بازویل (James Boswell) ہیں۔ جس طرح بازویل نے ڈاکٹر جان سَن کی بہترین سوانح حیات لکھی تھی، اسی طرح ڈاکٹر مشتاق احمد نے ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کی شخصیت اور ادبی خدمات پر بہترین کتاب تیار کردی ہے۔‘‘
ڈاکٹر مشتاق احمد کا زندگی کے تئیں رویہّ اور نقطۂ نظر غیرمادّی (Non- materialistic) تھا۔ وہ مذہبی، روحانی، جمالیاتی اور اخلاقی قدروں کے شیدائی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مطالعۂ ادب، تخلیقِ ادب اور تدریسِ ادب میں انھوں نے پوری زندگی گزاری۔ وہ حرص و ہوَس سے بہت دُور تھے۔ وعدے کے پکّے اور اپنے بزرگوں اور استادوں کا بے حد احترام کرنے والے تھے۔ ان کی شرفت اور نیکی ان کی تحریروں سے بھی جھانکتی ہے۔ انھوں نے اپنی تصنیف ’’ذوقِ ادب‘‘ کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ ادب پڑھنا اور ادب سے متعلق لکھنا ان کا واحد مشغلہ ہے:
’’اردو کی کتابیں، اخبارات اور رسائل میرے سچے رفیق ہیں۔ زندگی کے نشیب و فراز اور تلخیوں، محرومیوں، مصائب و مشکلات کا سامنا میں انھی رفقا کے سہارے کرتا ہوں۔ میرے بہت سے ہم سایے اور ساتھی میری ادبی دل چسپی اور انہماک کو دیوانگی اور بے وقوفی کا نام دیتے ہوںگے مگر مجھے اپنی یہ حماقت پسند ہے اور اس دیوانگی کا ایک نشہ ہے جو زندگی کی تلخیوں سے مجھے نکال کر ایک خاص لطف و سرور سے ہمہ وقت ہمکنار رکھتا ہے۔‘‘
ڈاکٹر مشتاق احمد زندگی کے آخری دنوں میں اپنے ایک محترم استاذ پروفیسر ثوبان فاروقی (متوفی ۲۰۱۷ء) پر مضامین کا ایک مجموعہ ترتیب دے رہے تھے۔ اس مجموعے کے لیے مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی، انوارالحسن وسطوی، سید مصباح الدین احمد، پروفیسر نجم الہدیٰ، پروفیسر امریندر کمار، پروفیسر پی۔آر۔پی شرما، پروفیسر رام جی رائے اور راقم الحروف کے مضامین اپنی فائل میں جمع کرچکے تھے۔ فاروقی صاحب پر اپنا ایک مضمون لکھ کر اپنے دوسرے مجموعۂ مضامین ’’برگ ہائے ادب‘‘ میں داخل کرچکے تھے اور فاروقی صاحب پر تیار کی جارہی کتاب میں بھی شامل کرنے کا منصوبہ بناچکے تھے۔ ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!‘‘۔
یہ سوچ کر واقعی بے حد رنج و ملال ہوتا ہے کہ اب مشتاق صاحب جیسے نفیس اور شریف انسان سے ملاقات نہیں ہوگی، اب وہ میری میز پرمیرے روبرو نہیں بیٹھیںگے۔ میں کسی وقت تنہائی اور اُداسی کے لمحہ میں سوچتا ہوں کہ ان کے بغیر کس طرح بڑے بڑے علمی و ادبی پروجیکٹ پر اب کام کرسکوں گا۔ اللہ تعالیٰ مجھے طاقت اورہمت دے کہ میں اپنے کام کے لیے اب کسی کا محتاج نہ بنوں اور تنہا اپنا کام کرلیا کروں۔
اَے اللہ! مشتاق صاحب کو جنت میں اعلیٰ مقام دے اور ان کے بھائی اشفاق احمد، ان کی بیگم اور ان کی بہنوں کو صبرِ جمیل کی توفیق عطا فرمااور مجھے بھی صبرِجمیل عطافرما۔
ڈاکٹر ممتاز احمد خاں
صدر، کاروانِ ادب، حاجی پور
موبائل نمبر: 9852083803
l