میرے اساتذہ -عبدالحی

سی ایم کالج دربھنگہ ،بہار آج یوم اساتذہ ہے اور ہر شخص اپنے استاد کو یاد کر رہا ہے اور اپنی کامیابی میں استاد کے کردار کو بیان کر رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ صرف ایک دن ہی کیوں؟ استاد تو اپنے شاگردوں کے لیے ہر قدم پر رہنمائی کا باعث بنتا ہے. استاد کو تو ہر دن یاد کرنا چاہیے اور لوگ کرتے بھی ہیں. فادر ڈے، مدر ڈے، ویلنٹائن ڈے، فرینڈ شپ ڈے جیسے موقعوں پر لوگ خوب جوش وخروش دکھاتے ہیں لیکن ایسے احساسات کو محض ایک یا دو دنوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے لیے یوم اساتذہ اس لیے اہم ہے کہ ہم سب کو بچپن سے ہی استاد کی اہمیت بتائی جاتی ہے۔ استاد ایک گھنے درخت کی طرح ہوتا ہے جس کا سایہ اس کے شاگردوں پر ساری زندگی قائم رہتا ہے۔ ہمیں بچپن سے جن چند دنوں کی اہمیت بتائ گئ ہے ان میں یوم اساتذہ بھی ایک ہے. استاد کی اہمیت کو بھلے لوگ آج بھول گئے ہوں لیکن سچائی یہی ہے کہ آج کے مادی دور میں بھی ایک استاد اسکول یا کالج میں جس طرح اپنے شاگردوں کی تربیت کرتا ہے وہ آن لائن یا یو ٹیوب جیسے وسائل کی مدد سے ممکن ہی نہیں. میری زندگی میں بھی کچھ اساتذہ کا اہم رول رہا ہے۔ ہر انسان کا پہلا استاد اس کی ماں ہوتی ہے اور میری والدہ نے بھی مجھے ایک بہتر انسان بنانے میں اپنا کردار بخوبی ادا کیا. ان کے بعد سب سے بڑا رول میرے والد حافظ یٰسین خان کا رہا جو خود ایک استاد تھے.انھوں نے مجھے زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنے اور ان کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ دیا. ان کے علاوہ میرے نانا مولانا منظور عالم خان کی تربیت نے مجھے نکھارا اور ان کے درس سے مجھ میں خوداعتمادی پیدا ہوئ. ان کی شفقت اور ڈانٹ کی بدولت میں کسی لائق ہوا. ان کے بعد میرے پرائمری اسکول کے استاد مولوی حبیب الرحمن صاحب نے مجھے یہ سکھایا کہ پریشانیوں میں کس طرح گزارا کیا جاتا ہے ساتھ ہی میں نے ان سے یہ سیکھا کہ مشکلات کے بعد آرام کے دن ضرور آتے ہیں۔ اسکول کے دنوں میں، شمیم سر، یوگیش سر، آئی ایس سی سر، نریش سر پھر بعد میں جلیل صاحب، اصغر امام صاحب، قیصر صاحب، اعجاز صاحب، نصیر صاحب، اسرار صاحب، حمید صاحب، منہاج صاحب وغیرہ کے نام بھی قابل ذکر ہیں. شہر گیا میں کیمسٹری (علم کیمیا) کے استاد علیم سر کا ذکر بھی یہاں ضروری ہے. ان سے ٹیوشن کا دور مجھے آج بھی یاد ہے. صبح 6 بجے مجھے ٹیوشن جانا ہوتا تھا اور کسی دن اگر مجھے دیر ہوجاتی تو وہ اسکوٹر لے کرمجھے جگانے پہنچ جاتے تھے اور کہتے کہ ارے کب تک سوئے گا چل ٹیوشن کا وقت ہوگیا. ایساشاید دو تین دفعہ ہوا کہ وہ خود مجھے جگاکر ٹیوشن کے لیے لے کر گئے. اسی طرح جے این ہو کے دور میں بھی کچھ اساتذہ ایسے ملے کہ ان کا نقش دل پر ہمیشہ قائم رہے گا. ایک تو پروفیسر نصیر احمد خان جن کا حال میں ہی انتقال ہوا اور ان کے حوالے سے ایک مضمون میں رقم کرچکا ہوں. نصیر احمد خان روایتی استاد کی تعریف پر پورے اترتے تھے. شاگردوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ڈانٹ دینا، ان کی دلجوئی بھی کرنا اور انھیں بات بات پر نصیحت بھی کرنا. دوسرے پروفیسر شاہد حسین صاحب. وہ ایک بے حد شریف النفس استاد رہے. مجھے نہیں یاد کہ انھوں نے اپنے کسی بھی شاگرد کو سخت لہجے میں ڈانٹ پلائی ہو. مجھ پر ان کی خاص شفقت رہی اور ان کی نگرانی میں ہی میں نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کیا. پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین صاحب کا ذکر یہاں اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ایک مثالی استاد کی تعریف پر پورے اترتے ہیں۔ کلاس میں شاگردوں کے لیے جہاں استاد ہیں وہیں کلاس سے باہر ایک دوست یا بڑے بھائی کی طرح گھل مل کر باتیں کرتے ہیں. شاگرد اپنا کسی بھی طرح کا مسئلہ خواجہ صاحب سے بلا جھجک بیان کردیتا اور خواجہ صاحب اس کی ہر ممکن مدد کرتے. پروفیسر انور پاشا صاحب اور مظہر مہدی صاحب نے بھی جے این ہو کے دنوں میں میری قدم قدم پر رہنمائی کی اور میری آڑی ترچھی تحریروں کو بہترکرنے میں اپنا بھرپور تعاون دیا. اگر یہاں اپنے ایک استاد دیوندر اسرکا ذکر نہ کروں تو یہ تحریر ادھوری رہ جائے گی. وہ جے این یو میں ہمیں میڈیا اور صحافت پڑھایا کرتے تھے. کسی دن میں کلاس سے غیر حاضر تھا تو انھوں نے میرے ہاسٹل فون کروایا اور مجھے کلاس میں بلایا. یہ چھوٹی سی بات ہے لیکن میرے لیے یادگار ہے. ان پر ایک تفصیلی مضمون ان کی وفات پر میں نے لکھا تھا. ان سے ملنے ان کے دولت کدے پر بھی میں گیا تھا اور وہ بہت شفقت اور محبت سے پیش آئے تھے. جے این یو سے باہر کی اگر بات کریں تو پروفیسر شہزاد انجم نے بھی کئی مواقع پر میری رہنمائی کی ہے۔ انھوں نے میری تحریروں کو بہتر بنایا اور غلطیوں کی نشاندہی کی۔ کئی دفعہ انھوں نے مجھے مفید مشوروں سے نوازا اور مجھے فیصلہ کرنے میں آسانی ہوئ. پروفیسر خالد محمود صاحب، پروفیسر کوثر مظہری صاحب، پروفیسر احمد محفوظ صاحب اور پروفیسر ندیم احمد صاحب نے بھی گاہے گاہے اپنی محبتوں سے نوازا. دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر ارتضی کریم صاحب کا بھی ذکر اس لیے ضروری ہے کہ وہ میرے استاد تو نہیں رہے لیکن میرے باس ضرور رہے اور ان سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ان سے میں نے یہ سیکھا کہ کامیابی کے لیے کوشش جاری رکھنی چاہیے اور ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ان کے بعد پروفیسر شیخ محمد عقیل صاحب کی محبتیں میرے ساتھ رہیں. ان کی سربراہی میں بھی مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا. عقیل صاحب نے یہ سکھایا کہ مضبوط قوت ارادی اور حوصلہ ہو تو انسان ہر طرح کے حالات سے نبرد آزما ہوسکتا ہے۔
ان کے علاوہ اور بھی کئی نام ہیں جن سے مجھے زندگی میں کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے لیکن تحریر کی طوالت کی وجہ سے میں بہت سارے نام نہیں لکھ رہا. استاد محض نصاب پڑھانے تک استاد نہیں ہوتا بلکہ اس کی ذمہ داری ہے کہ ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں وہ اپنا رول بخوبی ادا کرے ۔ اسے اپنے شاگرد کے لیے ایک مثال قائم کرنی ہوگی تاکہ اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس کے شاگرد بھی کامیاب ہوسکیں۔ سبھی کو یوم اساتذہ کی مبارک باد!