میرا صحافتی سفر – معصوم مرادآبادی

یہ 1971 کی ہند۔ پاک جنگ کا واقعہ ہے۔ میری عمر 10 سال کے قریب تھی۔ بڑی ہلچل کا زمانہ تھا۔ بجلی ہونے کے باوجود رات کے وقت گھروں کے بلب بجھا دئیے جاتے تھے اور لوگ خوف زدہ نظروں سے آسمان کو تکتے رہتے تھے۔ اسے "بلیک آؤٹ” کا نام دیا گیا تھا۔ میں سیاست، جنگ اور صحافت جیسے لفظوں سے نا آشنا تھا۔ اچانک ایک روز مرادآباد میں اپنی گلی سے باہر نکلا تو چائے خانے کے باہر لوگوں کا ہجوم دیکھا، جو ایک سن رسیدہ شخص کی طرف بے تحاشہ جھکا جارہا تھا۔ میں لوگوں کی ٹانگوں سے گزرتا ہوا اس شخص تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، جو ہجوم کے درمیان بڑے سائز کے ایک دو ورقی کاغذ پر جنگ کی خبریں پڑھ رہا تھا اور لوگ بڑے انہماک سے سن رہے تھے۔ یہ اخبار سے میرا پہلا تعارف تھا۔ خبریں تو سمجھ میں نہ آسکیں لیکن اتنا ضرور جاناکہ سفید کاغذ پر کالی سیاہی سے کچھ ایسی باتیں لکھی ہوئی ہیں جنہیں سننے میں لوگوں کی دلچسپی سب سے زیادہ ہے۔ اس زمانے میں تعلیم کا ایسا غلغلہ نہیں تھا اور ہمارے محلے میں میرے ایک عزیز ارتضیٰ خاں (بھورے بھائی) اخبار بینی اور اس کی قرأت میں بلا کی مہارت رکھتے تھے۔ ان کی زبانی خبریں سن کر لوگوں کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ آل انڈیا ریڈیو سے اردو میں خبریں سن رہے ہوں۔
دس برس کی عمر ہی کیا ہوتی ہے۔ اس وقت میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ بڑا ہوکر میں خود ایک دن صحافی کہلاؤں گا ۔ میرا پہلا ذوق خطاطی کا فن تھا، جو مجھے گھٹی میں ملا تھا۔ میرے نانا مرحوم منشی عبدالقیوم خاں ملک کے نامور خطاط تھے۔ ان کا خط اتنا خوبصورت تھا کہ مولانا ابو الکلام آزادؔ انہیں مرادآباد سے کلکتہ لے گئے اور وہاں ان سے ’ترجمان القرآن‘ کی دوسری جلد کی کتابت کروائی۔ مولانا آزاد کے ساتھ نانا مرحوم نے کلکتہ میں ڈیڑھ برس قیام کیا۔میرے نانا بجنور کے مشہور زمانہ اخبار ’مدینہ‘ سے بھی طویل عرصہ وابستہ رہے۔
اردو محض رسمی طور پر میری مادری زبان نہیں ہے بلکہ میری والدہ بہترین اردو بولتیں، لکھتیں اور پڑھتی تھیں۔ اس لئے بچپن ہی میں میرا شین قاف درست ہوگیا تھا۔ میں نے بڑے شوق سے کتابت سیکھی لیکن میرا غالب رجحان لکھنے، پڑھنے اور شاعری کی طرف تھا۔ ہمارے گھر میں بڑی بندشیں تھیں۔ صبح کو فجر کی نماز اور تلاوت کے بغیر ناشتہ نہیں ملتا تھا۔ رات کو عشاء کے بعد گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک دن اپنے محلے کے نزدیک ایک مشاعرے میں پہنچ گیا۔ واپسی پر رات کے گیارہ بج گئے۔ گھر کے دروازے پر دستک دی تو دروازہ نہیں کھلا کیونکہ گھر کے نظام کو توڑنے کی جرأت کرنے والا میں پہلا فرد تھا۔

 

 

یہ تو خیر غیر متعلق باتیں تھیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ انہی اونچے نیچے راستوں پر چل کر میرا علمی، ادبی اور صحافتی ذوق پروان چڑھا۔ اردو صحافت سے اپنی 38 سالہ رفاقت کے دور کو یاد کرتا ہوں تو بہت سی کٹھی میٹھی باتیں یاد آتی ہیں۔صحافی بننا میری پلاننگ کا حصہ نہیں تھا۔ 1977 میں دہلی آیا تو سب سے پہلے غالب اکیڈمی کی خوشنویسی کلاس میں داخلہ لیا، جہاں مایہ ناز خطاط مولانا یوسف قاسمی اور محمد خلیق ٹونکی صاحب سے باقاعدہ کتابت اور آرائشی خطاطی سیکھی۔ اس دوران جب رہائش کا مسئلہ پیدا ہوا تو مدرسہ عالیہ فتح پوری کے ہاسٹل میں قیام کی غرض سے داخلہ لے لیا۔ اس طرح مرادآباد کے مدرسہ امداد یہ میں گلستان اور بوستاں پڑھنے کے بعد یہاں مجبوری میں ’نحو میر‘ تک عربی گرامر پڑھی۔ کتابت کے توسط سے ہی اخبارات تک رسائی ہوئی اور میں کاتب سے صحافی بن گیا۔ اس دشت کی سیاحی میں کچھ کم چار دہائیوں کا عرصہ مکمل کرنے کے بعد جب اپنا چہرہ آئینہ میں دیکھتا ہوں تو یاد آتا ہے کہ جب میں اس راہ کا مسافر ہوا تھا تو داڑھی مونچھیں بھی نہیں نکلی تھیں اور اب دونوں تقریباً سفید ہوگئی ہیں۔ ساٹھ سال کی عمر گزارنے کے بعد اپنے دامن کو دیکھتاہوں تو اس میں ماں باپ، اساتذہ اوربزرگوں کی بے پناہ دعاؤں کا بھرپور خزانہ نظر آتاہے، جوقدم قدم پر میرے لئے زادِ راہ کا کام کرتاہے۔ اردو صحافت اب میرے مشغلے سے زیادہ عشق کے درجے میں ہے۔ میں نے اس پروفیشن سے وابستگی کے دوران ایمانداری، دیانتداری اور انصاف پسندی سے کام لینے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ کبھی اپنے قلم اور ضمیر کا سودا نہیں کیا۔ آج بھی وہی لکھتا ہوں جسے صحیح سمجھتا ہوں، خواہ کوئی راضی ہو یا ناراض۔ میں نے اپنے بڑوں سے یہی سیکھا ہے۔
ظالم حکمراں کے سامنے کلمہ حق ادا کرنے والے بے باک صحافیوں کی قربانیوں اور مصائب کی داستان پڑھتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں۔ اردو صحافت کی دو سو سالہ تاریخ بے مثال قربانیوں، ایثار اور جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ دو صدیوں کی یہ داستان سینکڑوں کتابوں میں بکھری ہوئی ہے۔

 

 

اپنے کام کے بارے میں کسی بھی قسم کے دعوے سے اس لئے گریزاں رہا ہوں کہ انسان تمام عمر سیکھتا رہتا ہے اور جب وہ کچھ سیکھ جاتا ہے تو دنیا سے اس کا بستر سمٹنے لگتا ہے۔اسی کا نام زندگی ہے۔
صحافت سے وابستگی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اپنے عہد کے بڑے لوگوں تک رسائی ممکن ہوسکی اور صحافت کے پائیدان پر سوار ہوکر یوروپ و امریکہ کی سیر کرنے کا بھی موقع ملا۔ اردو کے بزرگ اور مایہ ناز ادیبوں اور صحافیوں کی صحبت میں رہ کر میں نے ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ حیات اللہ انصاری، سلامت علی مہدی، ناز انصاری، پروانہ ردولوی، اختر صدیقی، سعید سہروردی، محفوظ الرحمن، گربچن چندن، ظ انصاری، فضیل جعفری، احمد سعید ملیح آبادی، شاہد صدیقی اور م افضل جیسے صحافیوں کے زیر سایہ میری تربیت ہوئی ہے اور میں نے ان تمام لوگوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
اردو صحافت نے بہت صبر آزما اور مشکل دور دیکھا ہے۔ اس کے کارپردازوں نے بڑی مشقت اور عرق ریزی کے ساتھ اسے اکیسویں صدی کی دہلیز تک پہنچایا ہے۔ آج اردو صحافت کا دائرہ بہت وسیع ہوچکا ہے اور اس کے بال و پر دنیا کی جدید ترین اور ترقی یافتہ زبانوں کی صحافت سے باتیں کررہے ہیں۔ پتھر کے دور سے شروع ہونے والی یہ صحافت آج کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ کے برق رفتار دور میں پورے اعتماد کے ساتھ داخل ہوچکی ہے۔ اردو کے ای پیپرز اپنی مقبولیت کا نیا ریکارڈ قائم کررہے ہیں۔
اردو صحافت نے ارتقاء کا یہ عمل بے حد مشکل مراحل سے گذر کر پورا کیا ہے۔ اس کے صحافیوں نے اپنی جفا کشی، محنت اور جدو جہد سے تاریخ کے صفحات پر جو نقوش ثبت کئے ہیں، میرا کام اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ آپ کی محبت مجھے ضرور حوصلہ دیتی ہے۔