میراربِ ذوالجلال- رونق جہاں

آج بلا کسی تحریض و تحریک کے اچانک کچھ تفکرات و تخیلات ذاتِ باری تعالی کے تئیں دماغی خلیوں میں رواں دواں ہوئے کہ رونق جہاں!تم نے سماجی موضوعات پر خوب خامہ فرسائی کی ہے۔ کچھ دینی موضوعات پر بھی بتوفیقِ خداوندی قلم کو حرکت دی ہے۔ معاشرتی و ازدواجی زندگی کے کئی پہلوؤں پر تمہارا قلم اپنے جذبات و احساسات کو اوراق پر بکھیر چکا ہے۔ ہاں!لیکن جو ذات سب سے زیادہ تعریف و توصیف، حمد و ستائش کی مستحق ہے،اس کے متعلق کیوں تمہارا قلم نہیں چل سکا؟بس یہ قلق اور کسک تھی جو دل کے نہاں خانوں میں اضطراب بن کر موجزن ہوئی۔
اپنے محسنین سے مشورے کئے، ہر ممکن تعاون حاصل کیا، کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا، کچھ مضامین کا مطالعہ کیا، جس کے نتیجے میں چند بے ترتیب جملے اور ایک ٹوٹی پھوٹی تحریر وجود میں آگئی ۔
لیجیے! پیش خدمت ہے:
اس مولا کے نام سے ابتداء جس کے علم و حلم، طاقت و قدرت، رحمت و وسعت کی کوئی انتہا نہیں۔ اللہ کی تعریف و توصیف، کبریائی و بڑائی، حمد و ثنا، قدرت و جبروت، حکومت و شہنشاہیت کو بیان کرنا انسان و جنات؛ بلکہ ساری مخلوق کے بس سے باہر ہے، وہ ایسا ہی ہے جیسا خود اس نے بیان فرمایا۔ درختوں کی ایک ایک ٹہنی کو قلم اور سمندر کے ہر ہرقطرے کو سیاہی بنا کر لکھا جائے تو بھی اس کی حمد و ستائش کے کلمات ختم نہیں ہو سکتے۔ اس کی ذات کا احاطہ نہ آسمان کی بلندی کر سکتی ہے اور نہ زمین کی پستی، نہ ارض سما کے درمیان کا خلا، نہ کوئی اور مخلوق۔
عرش و کرسی اس کی ذات کے مقابلے میں مٹی کے ایک ذرے کے مانند بے حیثیت ہے۔
وھوبکل شیئ علیم
(اللہ تعالی کا علم)
ریت کا ایک ایک ذرہ، پانی کا ہر ہر قطرہ، درخت کے پتے، پہاڑوں کے پتھر، بلندی اور پستی کے درمیان پناہ گزیں حیوانات، خشکی و تری میں سانس لینے والا ایک ایک جاندار، سب کے سب کھلی ہوئی کتاب کے مانند اس کی آنکھوں کے سامنے ہیں، بارش کے قطروں سے بھی واقف ہے اور سمندروں کی لہروں سے بھی، دلوں کی دھڑکن بھی اس کے علم میں ہے، اور دماغ میں آنے والے تصورات و خیالات بھی اس سے مخفی نہیں، دریا میں تیرنے والی مچھلیاں اور خشکی پر دوڑنے، بھاگنے اور رینگنے والے تمام چرند و پرند اس کے سامنے ہیں، گھٹاٹوپ اندھیری رات میں کالے پتھر پر رینگنے والی چیونٹی کے پیر کی حرکت بھی اس کی آنکھ سے اوجھل نہیں، قیامت تک پیدا کی جانے والی جاندار و بے جان اشیا اس کے علم میں محفوظ ہیں، کھلے عام کئے جانے والے اعمال بھی اس کی نگاہ میں ہیں، اور مخفی طور پر انجام دئے جانے والے امور بھی، نہ انصاف پرور کا عدل اس سے چھپ سکتا ہے، نہ ظالم کا ظلم، نہ با حیا کی پاکیزگی اس سے پوشیدہ ہے، نہ زنا کار کی نجاست، نہ مظلوم کی آہ سے بے خبر ہے، نہ سفاکوں کی سفاکی سے۔
غرض دنیا کی تمام چیزیں اس کے سامنے کھلی ہوئی ہتھیلی سے بھی زیادہ واضح ہے۔ ( وھو بکل شيئ علیم)
وھوعلی کل شیئ قدیر
(اللہ کی قدرت)
مشرق و مغرب شمال و جنوب سب اسی کی قوت و قدرت کے نغمے گنگنا رہے ہیں، آسمان کی بلندی، زمین کی پستی، سورج کی تابانی، چاند کی چمک، ستاروں کی جگمگاہٹ، بجلی کی کڑک، بادلوں کی گرج دھرتی کے خزانے سب اسی کے اقتدار کا ہلکا سا نمونہ ہے۔
اسی کے حکم سے ایک ننھا سا بے جان پودا زمین کو چیرتا ہوا باہر کی دنیا میں جھانکتا اور لہلہانے لگتا ہے، آنکھوں کو خیرہ کر دینے والا ایک چمک دار چراغ(سورج) صبح کی دلکش فضا میں بادلوں کے پیچھے سے اپنے پُر جلال رخ انور سے پردہ ہٹاتا ہے اور پوری دنیا میں اپنی رعنائیت کا جلوہ دکھاتا ہے۔
پھلوں میں مٹھاس، سبزیوں میں ذائقہ، پھولوں میں مہک، موسم میں تبدیلی، زمین کو قرار، پہاڑوں کو ثبات سب اسی کی قوت و قدرت کے مظہر ہیں۔
ڈوبتے ہوئے کو سہارا دیتا ہے، بھنور میں پھنسے ہوئے کی پکار سنتا ہے، مضطر کی دعا پر لبیک کہتا ہے، اربوں کھربوں کی تعداد میں پَلنے والے حیوانات کی روزی کا انتظام کرتا ہے، رحم مادر میں کھانے پینے اور آکسیجن کے اسباب مہیا کراتا ہے، فقیر کو غنی اور بادشاہ کو محتاج بنا دیتا ہے، بیماروں کو شفا دینا اسی کے قبضہ قدرت میں ہے، وہی ہنساتا ہے، وہی رلاتا ہے، موت و حیات اسی کے قبضے میں ہیں، ایک بے جان نطفے سے انسان جیسی اشرف المخلوقات ہستی کو وجود میں لاتا ہے۔
حضرت آدم کا بغیر ماں باپ کے پیدا ہو جانا، حضرت نوح کی کشتی کا بھیانک سمندر کی ہیبت ناک لہروں کی گرفت سے بچ کر، بحفاظت کنارے لگ جانا، حضرت ابراہیم کے لیے فلک بوس آگ کا باغِ جنت بن جانا، چھری کا خلاف فطرت حضرت اسماعیل کےا یک بھی بال کو بانکا نہ کرنا، حضرت موسی کی لاٹھی کا اژدہا میں تبدیل ہو جانا، دریا کا اپنے بہاؤ کو روک کر اپنی بے بسی کا اظہار کرنا، مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس کے سامنے موت کا ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہو جانا، حضرت عیسی کے ہاتھ پر حیات و موت کا مسخر ہو جانا، ایک یتیم اُمّی نبی کا ساری دنیا میں دین اسلام کی فتح کے جھنڈے گاڑ دینا، ایک نہتھے شخص کا ہتھیاروں سے لیس کفار کے سورماؤں کو شکست سے دو چار کر دینا، ولید کے گھر اللہ کی تلوار (سیف اللہ) اور خَطّاب کے چمن سے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن آہنی دیوار (فاروق) کا جنم لینا، بد بخت ابو جہل کے بت کدے سے فتنہ ارتداد کی سرکوبی کرنے والے اور راہ خدا میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے عکرمہ کا اسلام کی آغوش میں آنا، ایک مُٹھی مِٹی کا سب کافروں کی آنکھوں میں گھس کر ان کو کچھ وقت کے لیے بینائی سے محروم کر دینا، چاند کا دو ٹکڑے ہو کر اپنی لاچاری کو بیان کرنا، سورج کا مخالف سمت سے طلوع ہو کر اپنی بادشاہت کے تاج کو زمیں بوس ہوتے ہوئے دیکھ کر اپنی غلامی کو تسلیم کر لینا، پانی کا انگلیوں سے جاری ہو کر اپنی عاجزی کی دُہائی دینا، اور سارے انسان بلکہ ساری مخلوق کا قرآن کی ایک چھوٹی سی سورت لانے سے عاجزی پر ندامت کے آنسو بہانا، اس شہنشاہ اور قادر مطلق کے اقتدار کا ہلکا سا شاہکار ہے۔

وہ ایسی ذات ہے جس نے دیکھتے ہی دیکھتے فرعون کی گردن مروڑ کر اس کے تخت و تاج کو خاک میں ملا دیا، نمرود کا غرور اور اس کے دماغ کا خناس ایک مچھر سے مٹی میں ملایا، شداد اپنی خود ساختہ جنت کے سرسری دیدار سے بھی محروم کر دیا گیا، کِسری کی نخوت کا خون خود اس کے بیٹے کے ہاتھوں کروایا، ابو جہل کی بڑائی دو معصوم بچوں سے پلید کروائی۔
الغرض ہر طرف اسی کی شہنشاہیت کے جلوے ہیں اور ہر جگہ اسی کی طاقت کے مظاہر! ہر چیز پر اسی کا قبضہ ہے، کائنات کا چپہ چپہ اسی کے زیر اقتدار! اسی کی قوت و سطوت کو دیکھ بلا اختیار زبان پکار اٹھتی ہے:
وھو علی کل شیئ قدیر ۔
ھوالرحمن الرحيم
(اللہ کی وسعتِ رحمت)
ماں باپ، میاں بیوی، بھائی بہن، اعزہ و اقارب، حاکم و محکوم، استاذ و شاگرد اور دیگر رشتے دار؛ حتی کہ انبیائے کرام اور امتوں کے درمیان پایا جانے والا تعلق، محبت اور عشق، اس کی رحمت و محبت کی ہلکی سی بالکل ہلکی سی جھلک ہے، جس سے ماں اپنے جگر گوشوں کے لیے سالہا سال تڑپتی اور مچلتی ہے، بے شمار راتیں آنکھوں میں کاٹ دیتی ہے، باپ اپنی زندگی ان کی کامیابی کے لیے وقف کر دیتا ہے، اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر ان کو کھلاتا ہے، فرماں بردار اولاد ان کے پیر دھل کر پینے کو تیار رہتی ہیں، بیوی اپنے رفیق حیات کے راحت و آرام کے لیے اپنا وجود اس کے سپرد کر دیتی ہے، اس کے اشاروں پر چلنا اپنی خوش قسمتی سمجھتی ہے اور شوہر اس کی ایک مسکراہٹ کے لیے اپنا سب کچھ لُٹانے کو تیار ہوجاتا ہے اور اس کی خوشی کے لیے اپنے سارے اصول توڑ ڈالتا ہے، استاذ اپنے شاگردوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے سخت مشقتیں اور ذہنی کوفت کو برداشت کرتا ہے، نبی اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنی امت کی فلاح و بہبود کے لیے نچھاور کر دیتا ہے، ان کے لیے تڑپنا اپنے کو گُھلانا رات کے سناٹے میں آہیں بھرنا، اس کی فطرت ہوتی ہے، اور یہ سب کچھ اللہ رب العزت کی رحمت و محبت کا ایک ذرہ بھی نہیں۔

کیا کہنے اس کے لطف و کرم اور اس کی مہربانیوں کے!! وہ ساری زندگی رقص و سرود میں مست رہنے والی ایک فاحشہ کو ایسے جاندار کو پانی پلانے کے عوض جس کو گھر میں رکھنا شدید حرام ہے، جنت کے حسین باغات کی سیر کراتا ہے، راستے سے خاردار درخت ہٹا دینے والے کو بخشش کا پروانہ عطا کر دیتا ہے، سید الشہدا کے قاتل کو رضی اللہ عنہ کا خطاب عطا کرتا ہے، اور کلیجہ چبانے والی کو رضی اللہ عنہا کا، شدتِ خوف سے اپنی نعش کو خاکستر کرنے کی وصیت کرنے والے کو اپنی خوشنودی سے نوازتا ہے، اسلام کے خاتمے کے لیے تلوار کو بے نیام کرنے والے کو دنیا کی تاریخ کا عظیم فاتح(فاروق اعظم) بنا دیتا ہے، سو انسانوں کے قاتل کو بھی اس کی رحمت اپنی آغوش میں ڈھانپ لیتی ہے۔
ہر طرف اپنی نعمتیں پانی کی طرح بہاتا ہے، نیک اور پارسا تو اس کے عطیات سے محظوظ ہوتے ہی ہیں، گناہ گار بدکار بھی اس کی بخششوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، دولت کے نشے میں سرشار، کبر و نخوت کی گندگی میں لت پت، شراب کے نشے میں بد مست، زنا کی ناپاکی سے آشنا، سیکڑوں انسانوں کا لہو پینے والا، ظلم و جبر کے زور پر مجبوروں کا خون چوسنے والا، جب کھانے لیے لقمہ اٹھاتا ہے، تو اس کا ہاتھ شل نہیں ہو جاتا، اس کی زبان کو لقوہ نہیں مار جاتا، آرام کے لیے بستر پر دراز ہوتا ہے، تو اسے نیند سے محروم کر کے بد حواس نہیں بنا دیا جاتا، مجرم کی طرح نہیں، شہزادوں کے مانند میٹھی نیند لیتا ہے، تازہ دم بیدار ہوتا ہے، سارے کام اپنے معمول پر انجام دیتا ہے۔( ھو الرحمن الرحیم)
معصیت کی گندگی سے اپنے روئیں روئیں کو ناپاک کرکے اس کے غیظ و غضب کو دعوت دینے والے کے لیے اپنی بانہیں پھیلا دیتا ہے، بندہ ایک قدم اٹھاتا ہے تو وہ دو قدم اٹھاتا ہے، کوئی چل کر اس کی جانب متوجہ ہوتا ہے، تو وہ دوڑ کر اس کا استقبال کرتا ہے، وہ اکیلا ایسا شہنشاہ ہے، جس کے در ہر وقت کھلے ہیں، آسمان و زمین کی خلا کو اپنی بد کرداری اور معاصی سے پُر کر دینے والا بھی اس کے دربار سے کھالی ہاتھ نہیں لوٹتا، مایوسی کو اس کے قانون میں کفر گردانا جاتا ہے، مانگنے والے کو قبولیت کا پروانہ ملتا ہے، اور نامانگنے والے کے حصے میں قہر و غضب کی دھمکی آتی ہے!!!
واہ رے میرے رب رؤوف و رحیم!!
تیری شان سب سے نرالی!!
اپنے سامنے سجدہ ریز ہونے والے کو فرحت و مسرت، قرآن کا نغمہ گنگنانے والے کو طمانینتِ قلبی، ذکر میں مگن رہنے والے کو سکون و اطمینان، روزے دار کو اپنے ہاتھوں سے جزا دینے کا وعدہ، اور صابرین و شاکرین کو اپنی معیت کے تمغے سے نوازتا ہے۔
کافر بھی اس کے در پہ آکر ایک مرتبہ اس کی توحید کا اعلان کردے تو ساری زندگی اس کی ذات کا انکار یا اس کے ساتھ شرک کا دعوی کرنے کے با وجود ایک ایک گناہ پر عفو و در گذر کا قلم پھیر دیتا ہے، ایک نیکی کا بدلہ دس سے ادا کرتا ہے، اور بعض پر سات سو؛ بلکہ بعض پر بے حساب عطا فرماتا ہے۔(ھو الرحمن الرحیم)
الغرض اس کی رحمت کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہا، چاروں طرف اس کی رحمت کے بادل چھائے ہوئے ہیں، اور ہر شخص اس کی رحمت کی آغوش میں ہے۔
ڈھک لے گی ترے عیب مری رحمتِ جاری
مت بھول مرا نام ہے ستار، چلا آ
دو اشک ندامت تری دوزخ کو بجھا دیں
آنکھوں میں لیے اشکوں کے منجھدھار چلا آ
میں کون ہوں کیا ہوں تجھے ادراک نہیں ہے
دیکھا ہی نہیں تو نے رخِ یار، چلا آ
جو ایسے پروردگار قادر و مقتدر، رؤوف و رحیم رب کے ہر ہر حکم پر لبیک کہے گا، وہ خوش نصیب و سعید ہوگا، اور جو خلاف ورزی پر کمر کس لیگا، وہ بد بخت و شقی ہوگا!!
خوش قسمت انسان:
کتنا نصیب والا ہے وہ انسان جو اس علیم و قدیر اور رحمن و رحیم پروردگار کی چوکھٹ پر اپنی پیشانی رگڑتا ہے، اسی کے سامنے سر خَم کرکے فرماں داری کا ثبوت فراہم کرتا ہے، اسی کے عشق میں چلچلاتی دھوپ میں بھوکا پیاسا رہ کر اپنی دیوانگی پر دلیل قائم کرتا ہے، بکھرے بال اور ننگے بدن پہاڑیوں کا چکر لگا کر اپنی وارفتگی کا اظہار کرتا ہے، مال کا ایک حصہ راہ خدا میں لُٹا کر اپنے جذبہ عشق و محبت کو تسکین فراہم کرتا ہے، میدان جنگ میں اشداء علی الکفار کی عملی تفسیر بن جاتا ہے، اور جب اپنے کسی بھائی سے ملتا ہے تو رحماء بینھم کی نظیر ثابت ہوتا ہے، وہ اپنی آنکھوں کو حیا کے سرمے سے سجاتا ہے، اپنے میٹھے بول سے لوگوں کا دل موہ لیتا ہے، اپنی ذات سے کسی کو تکلیف پہنچانے سے گریز کرتا ہے، قوم کی ترقی کے لئے اپنی فکری پرواز کو حرکت میں لاتا ہے،اور ذاتی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر قومی مفاد کو ترجیح دیتا ہے، امانت و دیانت سے معاشرے میں خوشیاں عام کرتا ہے، انصاف کی چادر تان کر ظلم کے دروازے پر بند لگا دیتا ہے، نہ ظلم سہ کر آہیں اور سسکیاں بھرتا ہے، نہ ظالم بن کر لوگوں کی چیخ وپکار سننا اسے گوارا ہے، لوگوں کے طعنوں کی پروا کئے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے کر وراثتِ نبوت کا حق ادا کرتا ہے، اس راہ میں آنے والی کلفتوں کو خندہ پیشانی سے جھیل کر اجرِ بے حساب کا پروانہ حاصل کرتا ہے، مسجد کے منبروں پر قرآن و حدیث کے نغمے سے پیاسے دلوں کو سیراب کرتا ہے، ذکر اللہ کے حلقوں سے زمین کی رگ رگ کو تَر کرتا ہے، اور کلام اللہ سے فضاؤں کو منور کرتا ہے، تعلیم و تعلم کا بار اپنے دوشِ ناتواں پر اٹھا کر اس جہان کے چپّے چپّے میں علم کا دِیپ روشن کرتا ہے، نہ خوشی پابندی شرع سے مانع ہوتی ہے، اور نہ ہی غم اس راہ کا روڈا بنتا ہے۔
الغرض اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنے بنانے اور سنوارنے والے کے نام وقف ہوتا ہے، دوست و احباب کی رنگین محفلیں اسے رب کے حکم سے غافل نہیں کرتی، اور رب کی یاد اسے دیگر ذمہ داریوں سے کوتاہ ثابت نہیں کرتی، وہ رب کے ساتھ خلوت میں ضرور راز دارانہ باتیں کرتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ جلوت میں اپنے متعلقین کے حقوق بھی پوری دل جوئی سے ادا کرتا ہے۔ کتنا خوش نصیب ہے یہ انسان! کتنا لائقِ ستائش اور قابل رشک ہے یہ بشر!!
کتنی نصیب والی ہے وہ عورت پردہ جس کی زندگی کا جز بلکہ اپنی جان سے زیادہ عزیز ہوتا ہے، شوہر کی فرماں برداری اور بچوں کی تربیت اس کی فطرت ہوتی ہے!!
اے میرے پالنے والے مجھے عدم سے وجود عطا کرنے والے مجھے بھی اپنے نیک بندوں /بندیوں میں شامل فرما ۔ آمین یا رب العالمین
بدنصیب انسان:
تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے کہ جو شخص ان تمام احسانوں کو فراموش کرکے اپنی من مانی پر اَڑ جاتا ہے، ایسا شخص نہایت خائب و خاسر اور شقی و بدبخت ہے۔
کتنا بڑا بد نصیب ہے وہ شخص جو ایسی مہربان ذات، رحمان و رحیم پروردگار کی توحید میں کسی عیب دار، گندگیوں سے لت پت، محتاج و بے سہارا انسان یا کسی اور لاچار و بے بس مخلوق کو اپنا معبود مان کر، حقیقی رب کے قہر و غضب کو للکارتا ہے، شراب و کباب میں بد مست ہو کر غیظِ الہی کو دعوت دیتا ہے ماں بہنوں کی عزتوں کو پامال، عفتوں کو داغ دار اور عصمت سے کھلواڑ کرکے آسمان کو انگارے برسانے پر ابھارتا ہے، ظلم کی آگ دہکا کر زمین کو پھٹ جانے پر مجبور کرتا ہے، قتل و غارت گری کا بازار گرم کرکے آہوں اور سسکیوں سے عرش الہی کو لرزاتا ہے، یتیموں اور غریبوں کا مال اپنے جہنم نما پیٹ میں بھر کر بادلوں کو قحط سالی پر اکساتا ہے، امانت میں خیانت، ناپ تول میں کمی، دھوکہ دڑی سے قیامت کو برپا ہو جانے دعوت دیتا ہے۔
رقص وسرود اور موسیقی کی رنگین محفلیں سجا کر سرخ آندھیوں کو سر کش بنانا چاہتا ہے، سود، قمار بازی، جوا، سٹہ اور حرام خوری کے سانگ رچا کر صورتوں کے مسخ ہونے کی راہیں ہموار کرتا ہے، خلاف فطرت امور پر جری ہو کر قوم لوط کی تباہی و بربادی کی داستان لکھتا ہے۔
ہاں! کیا تجھے شعور ہے کہ والدین کی آہیں تیرے لیے دونوں جہان میں وبال جان ثابت ہو سکتی ہے، رب ذو الجلال کے حکم کی نافرمانی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر سے اعراض دعا کی قبولیت کے دروازے کو بند کر سکتا ہے، تیری رشوت بازاری تجھے اللہ و رسول کی نگاہ میں مبغوض و ملعون بنا سکتی ہے۔ اے بندے! تو کب اپنے رب کریم کی بارگاہ کا رخ کرے گا؟ کب توبہ کے لیے تیرا ضمیر تیار ہوگا؟ ظلم و جبر پر کب پشیمان ہوگا؟ آخر کب؟ کیا یہ کافی نہیں ہے کہ تیرے اوپر معصوموں کا خون چوسنے والے حکام مسلط کر دیے گئے، تیری ماں بہن کی عزت تیری آنکھوں کے سامنے تار تار کر دی گئی، عورتوں کو بے سہارا اور بچوں کو یتیم کر دیا گیا، غربت نے گھر گھر اپنے ہیبت ناک پنجے گاڑ دئے، وقت پانی کی طرح بے حیثیت ہو گیا، تیری عورتیں بے حیا اور مرد بے غیرت ہو گئے، لڑکیاں سرکش، اور لڑکےآوارہ و باغی ہو گئے، زنا ایک فیشن اور شراب لذت کا سامان بن کر رہ گئی، نئی نئی بیماریاں نازل ہونے لگیں، تیرے نوجوانوں کی رگوں میں نشہ خون کی طرح دوڈنے لگا؟ کیا تجھے غفلت کی نیند سے بیدار کرنے کے لیے یہ سب کافی نہیں ہے؟ کیا ابھی بھی وقت نہیں آیا کہ تیری پیشانی بارگاہِ ایزدی میں سجدہ ریز ہو جائے؟
آخر تجھے کس وقت کا انتظار ہے؟؟ کیا تجھے قوم عاد کی طرح سرخ آندھیوں کا انتظار ہے، قوم ثمود کی طرح فرشتے کی چیخ سے کلیجے کے پھٹ جانے کی خواہش ہے، یا قوم لوط کی مانند بستیوں کے الٹ جانے کی تمنا ہے، یا فرعون اور اس کے ساتھیوں کی طرح دریا کی خوراک بننا چاہتا ہے، یا ابرہہ کے لشکر کی طرح ابابیل کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہونا ہی تیرا مقدر ہے، یا بندر اور خنزیر کی شکل میں تبدیل ہونے کی آرزو ہے، یا برسہا برس وادی تیہ میں بھٹکنا پسند کرتا ہے، یا پھر قیامت کا ہولناک دھماکہ ہی تیری آنکھ کھولے گا؟ آخر کیاچاہتا ہے؟ بس اب بس کر! اب باز آجا! اپنے روٹھے رب کو منا لے، جب تک وہ اپنی رضامندی تجھ پر آشکارا نہ کر دے، اس کے آستانے سے چمٹا رہ! اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو اسی کی خوشنودی میں صرف کر! پھر یہ کائنات بھی تیرے زیرِ نگیں! اور فرشتے و دیگر مخلوقات بھی تیری معاون! ایک بار اس کے چوکھٹ پر آکر تو دیکھ! مشکل پیدا کرنے والے اسباب بھی تیرے لیے آسانی اور راحت و سکون فراہم کریں گے۔
بس ایک بار اپنے رب ذو الجلال کو راضی کرکے تو دیکھ ۔ اللہ ہمیں اپنا قرب نصیب فرمائے، اور اپنی عشق سے ہمارے دلوں کو سرشار فرمائے! آمین ثم آمین

آخری بات:
پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اس مضمون کو معرضِ وجود میں لانے کی خواہش کا شدید غلبہ تھا، سو جیسا تیسا، بے ہنگم و بے ترتیب قارئین کی نذر کر دیا گیا۔
رب ذو الجلال کی شایانِ شان تو ایک لفظ بھی نہیں لکھا جا سکا، لیکن اس میں حصہ پا لینا بڑی سعادت اور لائقِ رشک عمل ہے۔
ابھی ان تین چار صفات اور انہی کے ضمن میں فرماں بردار کی سعادت اور معصیت میں غرق شخص کی شقاوت کے مختصر سے بیان پر اکتفا کیا جاتا ہے، اگر زندگی نے وفا کی اور اُدھر سے بھی نظرِ کرم رہی، تو ان شاء اللہ مزید کچھ کہنے کی جرأت کی جا سکے گی۔ یہ موضوع ہی ایسا ہے کہ اس کی انتہا سے پہلے زندگیاں ختم ہو جائیں، جب علام الغیوب نے خود ہی فرما دیا تو اب کسی بشر کی کیا مجال کہ کچھ دعوی کر سکے؟!
ارشاد باری تعالی ہے:
"زمین میں جتنے بھی درخت ہیں، اگر وہ قلم بن جائیں، أو یہ جو سمندر ہیں اس کے ساتھ سات سمندر اور مل جائیں، (اور وہ روشنائی بن کر اللہ کی صفات لکھیں۔) تب بھی اللہ تعالی باتیں ختم نہیں ہوں گی، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی اقتدار کا بھی مالک ہے او حکمت کابھی مالک۔” (سورہ لقمان، ٢٧)
(توضیح القرآن)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*