میرا پہلا وطن – مرید البرغوثی

ترجمہ: نایاب حسن

(مرید البرغوثی فلسطینی نژاد عظیم شاعر،ادیب و ناول نگار ہیں جن کاحال ہی میں  ۱۴؍فروری ۲۰۲۱ کوانتقال ہوا ہے، ممتاز  مصری ناول نگار رضوی عاشور ان کی اہلیہ تھیں اوران کے صاحبزادے  تمیم البرغوثی بھی مشہور شاعر ہیں۔ مرید البرغوثی کی پیدایش ۱۹۴۴کو رام اللہ(فلسطین) کے شمالی گاؤں دیر غسانہ میں ہوئی،تعلیم حاصل کرنے کے لیے قاہرہ یونیورسٹی گئے، اسی زمانے میں ۱۹۶۷کی مشہور  عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی،عربوں کی شرمناک شکست ہوئی  اور   غزہ،مغربی کنارہ اور جزیرۂ سینا کے وسیع و عریض علاقے بھی اسرائیلی قبضے میں چلے گئے۔اس کے بعدبے شمار فلسطینی بے گھر ہوئے اور مہاجر و پناہ گزین کی حیثیت سے مختلف پڑوسی و دوردراز ملکوں کی طرف کوچ کرنے کو مجبور ہوئے،جو باہر تھے،ان کی واپسی پر پابندی لگادی گئی ،مرید البرغوثی پہلے سے ہی مصر میں تھے،ان کی بھی وطن واپسی مشکل ہوئی اور  وہ مسلسل تیس سال تک اپنے وطن نہیں لوٹ سکے۔ بعد میں انور سادات کے زمانے میں انھیں مصر سے بھی جلاوطن ہونا پڑا اور وہاں بھی سترہ سال بعد واپسی ہوسکی تھی۔ ان کے دو ناول ہیں’’رأیت رام اللہ‘‘اور ’’ولدت ھنا و ھناک‘‘ ان دونوں کو عربی و یورپی ممالک میں غیر معمولی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی،دونوں کے انگریزی ترجمے بھی ہوئے اور اول الذکر ناول کو نجیب محفوظ ایوارڈ برائے ادبی تخلیق بھی دیا گیا۔ قد آور دانشور ،مصنف ، ناقد اور فلسطینی حقوق  کے ترجمان    اڈورڈ سعید نے اس ناول کو قضیۂ فلسطین  پر  سب سے اعلیٰ تصنیفی نمونہ قرار دیا ہے۔دونوں ناولوں میں انھوں نے قضیۂ فلسطین اور فلسطینی شہریوں کی بے وطنی و خانماں بربادی کو اپنے مخصوص پیرایے میں موضوعِ تحریر بنایا ہے۔ مرید البرغوثی کے بارہ شعری مجموعے بھی شائع ہوئے،ایک دیوان انگریزی زبان میں بھی Midnight and other poemsکے نام سے شائع ہوا۔ان کی شاعری کا زیادہ تر حصہ بھی حیات و کائنات کے مختلف حقیقی مسائل کا احاطہ کرنے کے ساتھ فلسطین اور قضیۂ فلسطین کے سیاسی،ثقافتی و سماجی پس منظر کو عیاں  کرتا ہے اور شاعر کے حقیقت پسندانہ احتجاجی و انقلابی لب و لہجے کی ترجمانی کرتا ہے۔ زیر نظر مضمون ان کی آخری دنوں کی تحریر ہے،جو اکتوبر ۲۰۲۰ میں ’’ضفۃ ثالثۃ‘‘نامی ویب سائٹ پر شائع ہوئی ہے۔یہ دراصل اس ویب سائٹ کے خصوصی کالم ’’مکاني الأول‘‘ کے تحت لکھی گئی تھی،جس میں اس کے مدیروں نے مختلف ادیبوں،شاعروں اور مصنفوں سے ان کی جاے پیدایش اور ابتدائی جاے سکونت کے حوالے سے اپنی یاد وں کو  لکھنے کی درخواست کی تھی۔ایک وضاحت ضروری ہے کہ عربی کا لفظ ’’مکان‘‘ اردو کے  ’’مکان‘‘سے مختلف ہے۔عربی والے ’’مکان‘‘میں خاصی وسعت ہے، جس میں کوئی بھی جگہ ،ملک ،وطن ،اقامت گاہ شامل ہے،جبکہ اردو کا’’مکان‘‘عام طورپر خاص معنی (گھر)میں ہی استعمال ہوتا ہے،الا یہ کہ اس کا استعمال ’’زمان‘‘کے ساتھ کیا جائے اور ’’زمان و مکان‘‘لکھا اور بولا جائے،پھر اس کے معنی میں بھی کشادگی آجاتی ہے۔یہاں مضمون نگار نے ’’مکان‘‘کو وطن کے ہی معنی میں برتا ہے؛اس لیے میں نے زیادہ تر اس کا یہی ترجمہ کیا ہے اور کہیں کہیں مقام وغیرہ سے بھی کام چلایا ہے۔ مترجم )

 

میں اسرائیل سے چار سال بڑا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں اسرائیلی تسلط سے اپنے ملک کی آزادی سے قبل ہی اس دنیا کو خیرباد کہہ دوں گا۔ میں تمام عمر جلا وطن رہا اور اس جلا وطنی نے مجھے  بے گھری کے بوجھ تلے ایسا دبادیا ہے کہ اس سے چھٹکارا نہیں ملنے والا اور میرے ذہن میں یادوں کا ایسا نہ تھمنے والا سلسلہ ہے کہ کوئی چیز اسے روک نہیں سکتی۔ جب تیس سال تک دوسرے ملکوں کی خاک چھاننے کے بعد مجھے اپنے ملک میں داخلے کی اجازت ملی تو مجھے ماضی کے مقامات کی  نہیں ؛ بلکہ ان مقامات کے ماضی  کی ضرورت تھی۔ میں نے دو زمانوں کو اس طرح ایک دوسرے سے جوڑنا چاہا جیسے سوئی اور دھاگے کی مدد سے کپڑے کے دو ٹکڑوں کو جوڑا جاتا ہے۔ میں مستقبل کی تاریخ کو ماضی کی تاریخ سے جوڑنا چاہتا تھا۔ کیا ’’تاریخی مقام‘‘ جیسے الفاظ سے ہمارے دل میں یہ خیال نہیں  پیدا ہوتا  کہ تاریخ ہی دراصل مقام؍مکان ہے؟ حقیقی معنوں میں مقام /مکان وہ جگہ ہے کہ جہاں ہم چل پھر سکیں،جب چاہیں وہاں جا سکیں اور جب چاہیں وہاں سے نکل سکیں۔ جب ایک جگہ کے اندر یہ صفت نہیں رہتی تو پھر اس کے معنی پوری طرح بدل جاتے ہیں،وہ صرف علامت اور شناخت بن کر رہ جاتی ہے۔ دیوارِ برلن اور اسرائیلی تسلط کی دیوار کو صرف دو مقامات کی طرح نہیں دیکھا جاسکتا؛بلکہ یہ دونوں دو نظریے ہیں،قبضہ و تسلط کے نظریے۔ وطن بچپن کی طرح ہوتا ہے،یعنی وہ ہمارے خارج میں موجود کسی چیز کا ڈھیر ہے نہ کوئی ایسی عمارت جسے ہم بڑے ہونے کے بعد اپنے پیچھے چھوڑ دیتے ہیں؛بلکہ اس کا غیرمحسوس اثر ہماری عمر کے تمام مراحل ،ہمارے عمل اور ردعمل پر پڑتا ہے۔ مجھے کبھی اس ’’خوابوں کے گھر‘‘کی حسرت نہیں ہوتی جس کا گیسٹن بیچلرڈ(فرنچ فلسفی) نے اپنی کتابThe Poetics of Space میں ذکر کیا ہے؛ بلکہ ان تمام عارضی ،فوری اور جزوقتی  مقامات  کی طرف واپسی کی بھی کوئی حسرت نہیں رہی، جہاں میں جلاوطنی کے سالوں میں رہا۔ جو شخص اپنے مخصوص جغرافیے سے محروم ہوجاتا ہے،وہ اپنی خاص تاریخ کی پناہ لیتا ہے اور جو اپنے مکان سے محروم ہوجاتا ہے، وہ زمان کی پناہ لیتا ہے۔ بے گھری کا تعلق محض مقامات سے نہیں ہے۔ جو شخص شکستِ آرزو سے دوچار ہوتا ہے، وہ اپنے من  کی دنیا میں رہتا ہے،بیرونی مقامات اس کے لیے محض نقل و حرکت کے وسیلے کا کام کرتے ہیں یا وہ کپڑے اور جوتے کی طرح ہوتے ہیں،جو بدلتے رہتے ہیں۔ مہاجرت و بے گھری  کی سخت ترین شکل یہ ہے کہ وہ نہ صرف نئی جگہوں  کی قوموں کے لیے آپ کو اجنبی بنا دے؛ بلکہ آپ اپنی قوم کے لیے بھی اجنبی بن جائیں ۔

جب میں اپنے گاؤں،اپنے پہلے مکان/وطن لوٹا تو میں ان تمام لوگوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا،جن کے ساتھ میں پہلے کبھی رہ چکا تھا،وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں ان سب کو اچھی طرح پہچانتا ہوں، مگر فی الحقیقت میں ان میں سے بیشتر کو نہیں پہچانتا تھا، اس کے باوجود میں نے اس کے برعکس رویے کا اظہار کیا؛ تاکہ میری اور مجھ سے ملنے والوں کی دل جوئی ہوجائے۔ ہاں میں جھوٹ بول رہا تھا۔ ان کی گرم جوشی کو دوبارہ حاصل کرنے میں ناکامی مکان اور مقام کی تعریف کو بدل دیتی۔ اگر کائناتی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو یہ دشواری اور بڑھ جاتی ہے۔ دنیا اور انسانی جسم کی سائنسی دریافتیں اس مادی دنیا کی وسعت پذیری کا سبب ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے دشمنی کا سبب بھی ہیں، زینوفوبیا، سامراجیت، غلامی،نسل پرستی اور ایک دوسرے کوخوف و دہشت میں مبتلا رکھنا انہی کے نتیجے ہیں۔ بقاے باہمی (جو محبت،امن و سلامتی اور انصاف کا اصل نظریہ ہے) آج ماضی کے تمام ادوار سے زیادہ خطرے میں ہے۔ اگر ان سائنسی حصولیابیوں اور عقلِ انسانی کے اکتشافات نے انسان کو مادی دنیا کی وسعتوں اور فکری تنگیوں میں پہنچا دیا ہے تو ان کا کیا فائدہ؟

شعرا(انسانی خودی کے محافظوں)کا مقصد ہمیشہ انسانی تجربے کی گہرائی و تنوع کا اکتشاف اور اپنے، دوسروں کے اور دنیا کے تئیں اپنے احساسات کی تشکیلِ نو رہا ہے۔ماہر کاری گروں کی طرح وہ مادیت و روحانیت،خاص و عام ،موجود و محسوس اور مقامی و عالمی احساسات و نظریات کو باہم آمیز کرتے ہیں۔ میرا سوال ہے کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ ہم کسی ایسے  سیارے پر ہوں جہاں سیکڑوں جنسیں،نسلیں،قومیتیں،شہریتیں،عقائد،مذاہب،اسالیب،زبانیں،تاریخیں ہوں اور ان سب پر کوئی ایک طاقت یا نظریہ قابض ہو،جو سبھوں پر اپنے احکام نافذ کرے اور اشیا و نظریات کی تعریف و تعارف اپنے مفاد کے مطابق طے کرے؟ تیس سالہ جلاوطنی کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ مکان؍وطن کی کوئی طے شدہ تعریف نہیں ہے۔ دسیوں فلسطینی خواتین ناجائز اسرائیلی حکومت کے ذریعے لگائے گئے بیریکیڈ  کی وجہ سے اسرائیلی فوجیوں کی قدموں کے نیچے لبِ راہ  وضعِ حمل پر مجبور ہوئیں۔ یہاں تو ’’تخت؍چارپائی‘‘کے معنی بھی بدل جاتے ہیں،چاہے وہ گھر کی چارپائی ہو یا ہسپتال کا بیڈ اور یہ چارپائی یا بیڈ بھی مکان اور رہایش گاہ کے ذیل میں آتا ہے۔ یہ جو بچہ پیدا ہوا ہے اس کی پوری زندگی پیدایش کے وقت سے ہی اسرائیلی تسلط کے نشانے پر ہوگی،اس کے لیے گود کے معنی بھی مختلف ہیں اور گود بھی ایک مکان (رہایش گاہ)ہے۔ میں نے یوری لوتمان(روسی ادیب ،مفکر و مؤرخ) سے نہیں سیکھا کہ رکاوٹیں اور مشکلات جگہوں کو تنگ بنادیتی ہیں؛بلکہ اپنے  اور اہل خانہ کے تجربوں سے مجھے یہ علم حاصل ہوا ہے۔ زندگی نے مجھے ایک اور سوال کے سامنے کھڑا کردیا کہ اس وقت کیا ہوتا ہے جب بے گھری ہی آپ کا گھر ٹھہرے؟ اس وقت ’’یہاں‘‘اور ’’وہاں‘‘کا مفہوم کس حد تک مخفی و مشتبہ ہوتا ہے،جب وہ ایک جلا وطن انسان کا روزانہ کا تکلیف دہ خواب بن جاتا ہے؟اس کا واحد جواب یہ ہے کہ مکان (وطن یا رہایش گاہ)دراصل آزادی کا نام ہے۔ کیا آزادی کا مفہوم اس جگہ کو شامل نہیں ہے، جو ہمیں کہیں قیام کے دوران حاصل ہوتی ہے؟ قید اور آزادی کے درمیان فرق کا تعلق ہمارے احساس سے ہی ہے۔ مختلف انفرادی و قومی حالات میں یہ دونوں مختلف مقامات ایک بھی ہوسکتے ہیں۔

جلاوطنی اور بے گھری میرے نزدیک دراصل شکستِ آرزو کا نام ہے۔ ایک شخص اگر اپنی معیشت بہتر کرنے کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک ملک سے دوسرے ملک جاتا ہے تو اسے بے گھر یا جلا وطن نہیں کہیں گے،اس نے تو اپنے اختیار اور اپنی پسند سے نقل مکانی کی ہے اور اس کے دل میں اپنے وطن کے تئیں غیر معمولی محبت و وارفتگی پائی جاتی ہے،وہ جب چاہے اپنے وطن لوٹ سکتا ہے۔ مگر جو شخص زبردستی اپنے وطن سے نکالا گیا ہو یا قوانین، افواج،سپاہ،پولیس اسے اپنے اولین وطن میں داخلے سے روکتی ہوں،تو وہ شخص جلاوطن اور بے گھر ہے،اس کے دل میں اپنے وطن کے تئیں جذبۂ محبت کی جگہ  اسے وطن میں داخلے سے روکنے والے عناصر کے تئیں نفرت و غضب کے جذبات ابھر رہے ہوں گے،اسی کا نتیجہ ہے کہ میں نے جن مقامات کو چھوڑا ان کے تئیں میں کوئی نرم، اشتیاق آمیز باتیں نہیں لکھتا،میں نے اپنی کتاب ’’رأیت رام اللہ‘‘میں ایسی کوئی بات نہیں لکھی۔ جب انسان کی مرضی اور خواہش اس پر قابض طاقتوں کی مرضی کے تابع ہو،تو پھر اشتیاق اور چاہت کے کوئی معنی نہیں رہ جاتے۔ اس حالت میں جو ممکنہ احساس میں اپنے اندر پاتا ہوں، وہ غصہ ہے اور اس صورتِ حال کو بدلنے والی ہر تحریک ،ہر اقدام میں حصے داری کا جذبہ۔ اپنی تحریروں میں میں نے اس غصے،ناراضگی اور جذبۂ مقاومت کے اظہار سے دریغ نہیں کیا ہے۔البتہ میں نے ایسا لہجہ  اختیار کرنے کی کوشش کی،جس کی زبان نرم اور معنی میں ٹھہراؤ ہو۔ جب شعری اظہار معتدل ہوتا ہے،تواس کا اثر قاری پر زیادہ پڑتا ہے۔ میرے نزدیک شاعری ایک خاص  قسم کا عمل  ہے اور میں اس میں ایسے مفردات کے استعمال سے گریز کرتا ہوں، جن کے معانی ریڈی میڈ ہوں۔ جو شعرا  یہ کام کرتے ہیں ،وہ دراصل شعرکی افادیت  کومسخ  کرتے  ہیں اور عام زبان میں جذبات کی کھیتی کرتے ہیں۔ فلسطین کوئی عام ملک یا مقام نہیں رہا،اب وہ ایک گم گشتہ ملک ہے اور ایک پوری قوم کا مسئلہ بن چکا ہے،پس یہ ایک فطری امر ہے کہ فلسطین سے متعلق کسی بھی ادبی تخلیق، خصوصاً شاعری پر اس کا زبردست اثر  ہو۔ فلسطین نے بطور سیاسی مسئلہ اور مزاحمت کی علامت کےنہ صرف فلسطینی شعر و ادب پر اثر ڈالا ہے؛بلکہ اس قضیے نے اس شاعری کو ان ناقدین کا تختۂ مشق  بھی بنادیا ہے، جو ایسی شاعری کے ساتھ وہ حرکت کرتے ہیں،جسے میں’’یک جہتی والی تنقید‘‘ کہا کرتا ہوں،یہ ایسی تنقید ہے ،جس میں فلسطینی شاعر سے صرف اس سرزمین،اس مسئلے اور پناہ گزینوں کے ذکر کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور شعر  کی جمالیاتی قدروں کو نظر انداز کرکے محض مضمون  کو بڑھا چڑھاکر پیش کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے میں نے کوشش کی  کہ ڈبہ بند  تعبیرات سے گریز کروں۔ میں نے زبان کو نرم کیا اور  جرّاحانہ دقت نظری  کے ساتھ لکھا؛ تاکہ میری بات زیادہ اثر انداز ہو،اسی وجہ سے جب میرا مجموعۂ کلام’’قصائد الرصیف‘‘ 1980میں شائع ہوا، تو اس پر ایک بھی فلسطینی ناقد نے کچھ بھی نہیں لکھا،مگر بعد میں اسی مجموعے کو فلسطینی شاعری کی تاریخ میں نقطۂ تحول سمجھا جانے لگا،ایک ایسی تبدیلی کا آغاز جسے لغوی اعتدال اور سادہ بیانی  سے مربوط کیا گیا۔ جس زمانے میں ہر چیز بندوق کے دہانے سے نکل رہی تھی،تب میرا شعری مجموعہ ایسی نظموں کے ساتھ آیا ،جن میں نظر انداز کی گئی انسانی و حیاتیاتی قدروں کا بیان تھا اور اس کا اثر براہِ راست پناہ گزینوں اور مزاحمت کی گفتگو سے زیادہ ہوا۔

نثر نگاری کے دوران مَیں تصورِ مکان ،شوقِ وطن اور بے وطنی سے زیادہ واضح زبان میں مربوط ہوسکا، مگر اس اہتمام کے ساتھ کہ اس کا مجھ پر یا قاری پر براہِ راست اثر نہ ہو۔ جب میں نے’’رأیت رام اللہ‘‘ لکھنا شروع کیا، تو میں ان تیس سالوں کے بارے میں لکھ رہا تھا،جن کے دوران میری آرزوئیں شکست و ریخت سے دوچار ہوئیں اور میں اپنے وطن لوٹنے سے محروم کردیا گیا۔ میں نے کتاب کا نام’’رأیت رام اللہ‘‘ رکھا،’’عائد إلی رام اللہ‘‘ نہیں رکھا؛کیوں کہ مسلسل ہجرتوں کے  خوف  کی وجہ سے میرے اندر کسی جگہ جم کر رہنے اور اس سے پختہ وابستگی کی جرأت نہیں رہی۔ خالص نثر کی اس کتاب میں بھی میں نے اُسی جرّاحانہ دقت نظری  کا استعمال کیا ،جس کا پابند میں نے خود کو اپنی شاعری میں بنایا تھا ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*