میرا خاص کمرہ- عرشیہ انجم

 

سوچا تھا کبھی اپنا بھی ایک کمرہ ہوگا
جو صرف میری تصرّف میں ہوگا
کتابوں سے سجی الماری
میز پہ خوبصورت سا قلم ہوگا
شیشے کے دریچوں سے جب بھی دیکھوں گی
قدرت کے مناظر کی دلکشی, میرے تخیل کا جہاں
دونوں کے حسیں رنگ ملیں گے
کرسی پے کتابوں میں غرق
لفظوں کے خوشنما سفر پر گامزن
اچانک موسم خوشگوار ہوگا
آسمان میں چھائیں گے بادل
بارش کے قطروں میں حرف منعکس ہوکر
دلنشیں خیال و بیان کا سماں ہو گا
پھر میں کتاب رکھ کر بارش کی تحریر پڑھوں گی
کبھی سردی میں شال لپیٹے کوئی کتاب دیکھوں گی
دبیز کُہر سےایک روشن کرن نکلے گی
میرے جسم کو گر ماھٹ بخش دیگی
اور میں گنگنی دھوپ میں دیر تلک بیٹھی رہوں گی
کبھی حبس زدہ گرمی میں اُکتاہٹ لیے پہنچ وں گی
ایک ہوا کا جھونکا مجھے ترو تازہ کر
اپنے نرم نرم لمس سے سیراب کر جائے گا
مگر ابھی تک وہ کمرہ مظہر نہیں ہوا
تخیل سے حققیت نہیں ہوا
اسے تلاش رہی ہوں گھر بھر میں
بچّوں کا کمرہ ہے
سامان کا کمرہ ہے
مہمان کا بھی کمرہ ہے
ان سب میں وہ کمرہ اب تک نہیں ملا ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*