20 C
نئی دہلی
Image default
خواتین واطفال

میرا جسم میری مرضی: کچھ مثبت کچھ منفی باتیں-مسعود جاوید

 

8 مارچ عالمی یوم نسواں پر خواتین عالم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایک سوال پوچهتا ہوں کہ کیا آپ لوگوں کو کبھی یہ سوال پریشان کیا ہے کہ جمہوریت اور آزادئ نسواں کا سب سے مضبوط قلعہ امریکہ میں اب تک وہاں کے لوگوں نے کسی خاتون صدر کا انتخاب کیوں نہیں کیا؟ باراک اوبامہ کا انتخاب کرکے انہوں نے سیاہ فام کو صدر نہ بنانے کا کلنک تو ختم کردیا ہے اب دیکھنا ہے کہ کسی خاتون کو اس کے خاتون ہونے کی وجہ سے عملاً (قانوناً تو رکاوٹ نہیں ہے) کب تک اس منصب کی اہل نہیں سمجھا جائےگا. ” کھلونے دے کر بہلائی گئی ہیں” !
عورت کے ساتھ مساوات کی تلقین ، ان کو محض جنسی لذت کا ایک سامان سمجھنے کے خلاف پرکشس مگر کهوکهلے نعروں کے باوجود ان کا جنسی استحصال جو کہ دفتروں اور دیگر شعبہ حیات میں تو عام بات تهی مگر پچھلے دنوں شام میں جو( ریلیف) راحت رسانی اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے بعض افراد نے روٹی کے چند ٹکڑوں کے عوض شام کی مجبور و بے کس فاقہ کش عورتوں اور جواں سال لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا اس نے پوری دنیا کی انسانیت کو شرمسار کردیا ہے. اس طرح کے واقعات اگر تیسری دنیا کے ممالک میں ہوتے ہیں تو مغربی دنیا کی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور بننا بهی چاہیئے . عورتوں کا جنسی استحصال کسی بهی جگہ ہو اور کسی بهی طبقہ امیر غریب ، تعلیم یافتہ ان پڑھ ، شہر کی رہنے والی یا گاؤں کی ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں ہو یا "پہلی دنیا” کے مہذب ترین دنیا امریکہ اور یورپ میں ، ہر جگہ قابل مذمت ہے مگر تنقید کا پیمانہ ایک ہی ہو اپنے لوگوں کے کالے کرتوتوں پر پردہ پوشی نہیں ہونی چاہئے. . ہمارے یہاں بھی ایسے غیر حساس سیاسی لیڈروں کی کمی نہیں ہے جن کی نظر میں جنسی زیادتی بہت معنی نہیں رکھتی اور انہیں اپنے "مرد برتری والا معاشرہ” پر فخر ہے . کبھی وہ کہتے ہیں کہ جنسی استحصال اور تشدد ایک زمانہ سے ہوتا آیا ہے اس لئے اس کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے تو کسی لیڈر نے کہا کہ اس طرح چھوٹے چھوٹے واقعات ہوتے رہتے ہیں یہ قابل اعتنا نہیں ہیں کسی لیڈر نے کہا کہ لڑکوں سے اس طرح کی حرکتیں ہو جایا کرتی ہیں.۔۔۔۔ یہ سب باتیں اس کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ذہنی طور پر مرد اپنی تمام تعلیم و تربیت اور ترقی کے باوجود عورت کو عملاً ان کا صحیح مقام دینا نہیں چاہتا.

آزادی بھی ایک عجیب و غریب لفظ اور تصور ہے۔ سگریٹ نوشی صحت کے لئے بہت مضر ہے مگر فرد کی آزادی میں دخل اندازی نہیں کرنے کی وجہ سے اس پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی ! ایسا ہی کچھ حال شراب نوشی کا ہے۔۔۔ لیکن فرد کی آزادی میں مداخلت کے علاوہ بھی پس پردہ ایک سبب اور ہے اور وہ یہ کہ ان دونوں انڈسٹریز سے حکومت کے خزانے میں آنے والی آمدنی اور صنعتکاروں اور حکومتوں/ قانون سازوں کے مابین ” مفاہمت”۔

پاکستان اور تیسری دنیا کے کئی ملکوں میں "میرا جسم میری مرضی” کے نعرے سے کیا مقصود ہے یہ واضح ہونا چاہئے۔ کیا اس سے مراد جنسی آزادی ہے کہ جائز ناجائز کسی کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کریں ؟ کیا جسم سے مراد ان کی کوکھ ہے کہ وہ چاہیں تو حمل کی اجازت دیں اور نہ چاہیں تو یہ کہ کر منع کر دیں کہ وہ بچے پیدا کرنے کی مشین نہیں ہیں ؟
کیا اس سے مراد ان کو اپنے جائز حقوق کو تسلیم کرانا ہے کہ ان کا وجود جنسی کھلونا نہیں ہے وہ اس معاشرے میں برابر کی شریک ہیں۔ معاملہ کنبے کا ہو یا معاشرے کا، ان کی رائے کو اہمیت دی جائے ان کا استحصال نہ کیا جائے ان کو پیر کی جوتی نہ سمجھا جائے۔۔۔۔۔ اس میں شک نہیں کہ دین اسلام ان کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے لیکن مسلمان بالخصوص بر صغیر ہندوپاک اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں نے غیر مسلموں کی تہذیب رسم و رواج سے متاثر ہو کر
"پروش پردھان” کی روش اپنائی اور نہ صرف عام مسلمان بلکہ علماء فقہاء دینی اداروں کے رہبران جماعتوں کے امیر و نقیب خانقاہوں کے مسند نشین سب نے اپنی بہن بیٹیوں اور بیویوں کے جائز حقوق ادا کرنے میں مجرمانہ کوتاہی کی ہے۔ کتنے ایسے گھرانے ہیں جہاں بیویوں کی کوئی اہمیت نہیں بیٹیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے بہنوں کو ان کے دختری حق سے محروم کیا جاتا ہے اور بیٹیوں کو بیٹوں کے مقابل کمتر سمجھا جاتا ہے۔ باپ کی چھوڑی ہوئی جائیداد میں سے بہنوں کے حق ، جس کا ذکر قرآن کریم میں صراحت سے ہے، بھائی غصب کر لیتا ہے۔ خواتین پر عمومیت کے ساتھ اعتراض کرنے والے مرد حضرات کو مسئلے کے اس پہلو پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

"میرا جسم میری مرضی” کا ایک تضاد یہ بھی ہے کہ خواتین چاہتی ہیں کہ وہ جس قدر جنسی ہیجان انگیز لباس زیب تن کریں ان کی مرضی ہے۔ وہ پبلک پلیس مارکیٹ مال پارک میں منی اسکرٹ پہن کر آئیں سی تھرو see through (اگر اس کا ترجمہ شفاف کیا جائے تو اس سے بہت زیادہ شرافت ٹپکتی ہے اور ایسا لگتا ہے یہ کوئی مثبت مفہوم میں ہے اس لئے منفی مفہوم کی ادائیگی کے لئے آر پار نظر آنے والا پار درشی) باڈی ٹائٹ سلم فٹنگ اور اتنا باریک ٹاپ اور ٹراؤزر کہ ایک ایک curve نشیب وفراز بغیر کوشش کۓ نظر آۓ پھر بھی انہیں کوئی نہ دیکھے ورنہ "گھورنے” کے جرم میں گھورنے والے کو سزا ہوسکتی ہے۔ ان خواتین کا کہنا ہے ” نظر نہیں نظریہ بدلو” ۔۔ لیکن ایسی ہی کوئی حرکت مرد کریں تو ان خواتین کو اعتراض ہوتا ہے ایسے مردوں کو غیر مہذب بدتمیز بد اخلاق کہا جاتا ہے۔۔ مرد اگر انڈر ویئر پہن کر پبلک پلیس میں جاۓ تو اسے مارشل کے ذریعے باہر کر دیا جائے گا !
چند سال قبل بچے کو اسکول پہنچانے گیا تو دیکھا گارڈ نے گارجین کو نوٹس بورڈ پر آویزاں نوٹس پڑھنے کو کہا جس میں لکھا تھا کہ بعض مرد حضرات صبح میں بچوں کو چھوڑنے جوگنگ یا کیجول ڈریس لوور میں آتے ہیں جس کی وجہ سے خواتین کو embarrassment ہوتی ہے اس لئے آئندہ ایسے لباس میں نہ آئیں۔۔۔ سادہ لفظوں میں یہ اس طرح کے کپڑوں میں بعض مردوں کے اعضاء کا پتہ چلتا ہے۔ اس نوٹس کے لئے ہم نے اسکول کے حساس انتظامیہ کی ستائش کی مگر یہ سوال ذہن میں رہ گیا کہ کیا خواتین کے لئے بھی کچھ اخلاقیات کا درس ہے؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں ہے)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment