میرا اسلام میرا اعزاز(ملک بھر میں لاشوں کی بے حرمتی کے حوالے سے) ـ اظہارالحق بستوی

پورے ملک میں وبائی اموات کا تسلسل جاری ہے۔ اسی درمیان مُردوں کی بے حرمتی اور بے وقعتی کے ایسے دل دوز اور دل سوز مناظر بھی سامنے آ رہے ہیں جن سے جسم و روح کانپ جا رہے ہیں۔

یوپی اور بہار میں بہنے والی گنگا کی سطح اور ساحل پر ستر سے زائد مردوں کی لاشیں اپنی بے حیثیتی اور ملک کے حکمرانوں کی بے مروتی کا ماتم کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ ایمبولینس بھر بھر کے مردوں کو گنگا میں پھینک دیا گیا؛ کیوں کہ ان ریاستوں کے پاس مُردوں کو جلانے کے لیے کافی لکڑی اور مزید برآں حوصلہ مند افراد موجود نہیں ہیں۔

سب سے زیادہ حیرت و افسوس اس بات پر ہے کہ ان مُردوں کے اہل خانہ کس قدر بے مروت ہو چکے ہیں کہ اپنی ہی ماں، باپ بھائی، بہن، بچوں اور بیوی کو کس بے توقیری کے ساتھ چھوڑ دیا۔ میں دیر تک پریشان رہا کہ آخر اہل خانہ کیسے اتنے بے حس ہو سکتے ہیں۔ مجھے یہ خیال بھی گزرا کہ جو اپنے مُردوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ روا رکھ سکتے ہوں ان سے ہم مسلمانوں کو خیر کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔

دوسری طرف ہم مسلم لاشوں کی کیفیت دیکھتے ہیں کہ سرکار اور ہاسپٹل کی طرف سے سختی کے باوجود مسلمان ہر ممکن کوشش کرکے اپنے مردوں کو حاصل کرنے کی سعی کرتے ہیں چاہے اُس مردے کی موت اِس نام نہاد کرونا سے ہی ہوئی ہو۔ پھر انھیں احتیاط اور احترام کے ساتھ غسل دیتے ہیں۔ سفید کفن میں ملبوس کرتے ہیں۔ اہتمام سے جنازہ پڑھتے ہیں اور دعا اور نم آنکھوں کے ساتھ اپنے مردوں کو قبر میں دفن کر دیتے ہیں۔

خدا کا شکر ہے کہ وہ اپنے مردوں کو لاوارث نہیں چھوڑتے۔ اگر کوئی لاوارث لاش بھی ہو تو کچھ مسلم تنظیمیں جمعیت علماء وغیرہ ہاسپٹل ہاسپٹل گھوم کر مسلم لاشوں کو حاصل کرتی ہیں اور ان کی باعزت طریقے سے تجھیز و تکفین کر دیتی ہیں۔

یہ صورت حال دیکھ کر اپنے اسلام پر سر فخر سے اونچا ہو جاتا ہے اور دل توفیق اسلام و ایمان پر اللہ کے سامنے سجدہ شکر بجا لاتا ہے۔ اور زبان حال و قال پکار کر کہہ اٹھتی ہے کہ میرا اسلام میرا اعزاز ہے جو ایک مکمل نظام حیات ہے۔ جس کے سوا دنیا کا کوئی نظام انسانیت کے لیے مداوا نہیں۔ جس نے ہر انسان کے مکرّم اور معزز ہونے وثیقہ جاری کیا اور جس نے زندہ حالت تو چھوڑیے مردہ ہونے کے بعد بھی اس کے کئی حقوق مسلمانوں کو ادا کرنے کو کہا۔ جس نے مردوں کا برا تذکرہ کرنے سے منع کیا اور صرف ذکر خیر کرنے کی اجازت دی۔

اسی مناسبت سے کل ہی کے ایک واقعے نے دل کو شاد کردیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے محلے میں کل صبح ایک خاتون کی میت ہوگئی۔ اس سے ایک دن قبل سوء اتفاق سے ان کی رپورٹ غیر منفی آگئی تھی جب کہ ان کا بخار دو دن پہلے جا چکا تھا۔ البتہ بی پی اور عسرِ تنفس کا مسئلہ تھا۔ بہر کیف ان کے بچے کسی طرح ہسپتال سے نکال لائے اور گھر ہی آکسیجن کا انتظام کیا۔ مگر وہ صبح کے وقت اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ اب محلے کا مسئلہ تھا۔ احترام میت کا تقاضا تھا کہ مردے کے گھر جایا جائے۔ ہم لوگ اپنی احتیاط کے ساتھ دہلیز تک گئے۔ والدہ بھی گئیں۔ ان کی بچیوں وغیرہ کو تسلی بھی دیتی رہیں۔ مسئلہ جب نہلانے کا آیا تو کئی خواتین شش و پنج میں رہیں۔ ان کے بچوں نے ہماری والدہ سے دو تین بار کہا۔ والدہ خود کی صحت کی وجہ سے چاہ رہی تھیں کہ کوئی اور غسل دے۔ مگر اوروں کو غسل دینا نہیں آ رہا تھا اور جن کو آ رہا تھا ان کو کچھ عذر تھا۔ بہر حال والدہ کے جذبۂ احترامِ انسانیت نے انگڑائی لی اور والدہ نے ان کو جملہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ غسل دیا اور کفن پہنایا۔ تدفین کے بعد والدہ نے مجھے بتایا تو مجھے خوشی ہوئی اور میں نے حوصلہ افزائی کی۔ مگر میرے بڑے بھائی جو دوسرے ملک میں مقیم ہیں انھیں والدہ کی صحت کے حوالے سے قدرے قلق ہوا۔ بہر کیف، پورے گاؤں نے مل کر نماز جنازہ پڑھی اور اس ناچیز نے نماز جنازہ پڑھائی۔ اور پھر انھیں سپرد خاک کیا گیا۔

خدا میری والدہ کو اور ہم اہل خانہ کو صحت و عافیت کے ساتھ رکھے کہ انھیں بی پی وغیرہ کے کچھ عوارض ہیں۔ مرحومہ کی مغفرت فرمائے۔ ہم سب کو اسلام پر زندہ رکھے اور ایمان کامل پر موت عطا فرمائے اور حادثاتی و ناگہانی موت سے ہماری حفاظت فرمائے۔