میرا گھر کسی نے نہیں جلایا- سلمان خورشید

ترجمہ:نایاب حسن

میری حالیہ کتاب ’سن رائز اوور ایودھیا: نیشن ہُڈ اِن آور ٹائم‘ 300 صفحات پر مشتمل ہے۔ پوری کتاب میں، میں نے ایودھیا پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی حمایت اور توثیق کرنے کی کوشش کی ہے، حالاں کہ میرے بہت سے ہم پیشہ رفقا نے اس کی قانونی صحت پر شک کیا ہے، میں نے اس کتاب میں بنیادی طورپر ہندو مذہب کے فلسفے کو تسلیم کیا اور اس کی تعریف کی ہے، سناتن دھرم کے انسانیت پسندانہ پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ کتاب کا مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور ایودھیا کے فیصلے کو ناخوشگوار ماضی کے طورپر بھولنے اور مشترکہ مستقبل کی طرف دیکھنے کے موقع کے طور پر اجاگر کرنا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ قومی میڈیا اور حکمراں جماعت کے ممبران کی طرف سے اس سب پر بہت کم توجہ دی گئی۔ اس کے بجائے انھوں نے ساری توجہ باب VI کے ایک جملے پر دی، جو ہندوازم اور ہندوتوا کے درمیان فرق کو بیان کرتا ہے: "سناتن دھرم اور کلاسیکی ہندوازم جسے باباؤں اور سنتوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے، ہندوتوا کے ایک طاقت ور ورژن کے ذریعے ایک طرف ڈھکیلا جا رہا تھا، جو تمام معیارات میں داعش اور بوکوحرام جیسے گروہوں کے سیاسی اسلام سے مماثلت رکھتا ہے‘‘۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ غصہ ہندوتوا کی نوعیت پر میرے سوال کرنے پر ہے اور اس سے بھی زیادہ بوکو حرام اور آئی ایس آئی ایس کے ساتھ مشابہت کو واضح کرنے کی کوشش پر ہے۔ اس کے بعد سے، میں نے میڈیا کی طرف سے بار بار پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے ہیں، بہت سے لوگوں بے تکان بولے جارہے ہیں اور ساتھ ہی بہت سے ایسے افراد ہیں، جو لامحالہ اپنی گفتگو کا آغاز اس مایوسی کے ساتھ کرتے ہیں کہ گویا میں نے ان کا عہدہ چھین لیا ہے۔ کچھ لوگ آگے بڑھ کر پوچھتے ہیں کہ کیا میں ہندوتوا پر دہشت گردی کا الزام لگا رہا ہوں؟ جب میں یہ کہہ کر جواب دیتا ہوں کہ دہشت گرد کا لفظ کہیں استعمال نہیں ہوا، تو میڈیا فوراً کہتا ہے کہ میں نے وضاحت پیش کر دی ہے اور اپنا الزام واپس لے لیا ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ مذہب کی غلط تشریح کرنے اور انسانیت کو ٹھیس پہنچانے کے لیے اس کا محرف مفہوم استعمال کرنے کی عام خصلت کو واضح کرنے کے لیے کتاب میں، میں نے جو لفظ استعمال کیا ہے، وہ similar (مماثل) ہے، same (ہوبہو) نہیں ہے۔
جب ٹرول میدان کارزار میں سرگرم تھے، اسی دوران مجھے کلکی دھام میں کلکی مہوتسو کے آخری دن مہمانِ خصوصی بننے کا موقع ملا۔ پیٹھادھیشور شری آچاریہ پرمود کرشنن حسبِ معمول فیاضی کا مظاہرہ کر رہے تھے اور میں ان کے علاوہ کاشی پیٹھ کے جگت گرو شنکراچاریہ نریندرنند گری جی سرسوتی مہاراج کے آشیرواد سے بھی فیض یاب ہورہا تھا،جنھوں نے وحدتِ انسانیت اور مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر تقسیم نہ ہونے پر طویل گفتگو کی۔ مگر شنکراچاریہ کے تئیں میری تعظیم، سناتن دھرم کی تعریف، ایودھیا کے فیصلے کی توثیق، مفاہمت کی اپیل، امام ہند کے طور پر رام کے کردار کو دہرانے کا کوئی مطلب نہیں جب تک کہ میں ایک عظیم مذہب کے سیاسی استعمال پر صاد نہ کردوں اور اس کے آگے سر تسلیم خم نہ کرلوں۔ جب میرے مخالفین کتاب پر پابندی لگانے کی بات کرتے ہیں، تو وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ پابندی کتاب میں بہ کثرت مذکور عدالتی فیصلے کے اقتباسات پر بھی نافذ ہوگی۔ یہ ہمارے عہد کی ستم ظریفی ہی ہوگی یا پھر بھگوان رام کی تعریف کرنے پر مجھے فوجداری عدالت میں بھی گھسیٹا جاسکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ میرے سینئر ساتھی غلام نبی آزاد نے، شاید انجانے میں، آگ میں گھی ڈال دیا ہے۔ کتاب کی ریلیز کے چند گھنٹوں کے اندر جاری ہونے والے ان کے سوموٹو دستخط شدہ بیان نے مجھے مضطرب کر دیا ہے، میڈیا میں یہ اعلان کیاجارہا ہے کہ پارٹی کے اندر اس حوالے سے ایک زوردار بحث شروع ہو گئی ہے، جس میں مرکزی رہنماشامل ہیں؛لیکن یہاں دو نکات کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے: آزاد نے بھی ہندوتوا کو ایک سیاسی نظریے کے طور پر مسترد کیا ہے، معلوم نہیں کس وجہ سے وہ اس کا اظہار نہیں کرتے ۔ اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ ہندو مت کی ایک مشترکہ اور جامع ثقافت ہے؛ لیکن ہندوتوا کا بوکو حرام اور آئی ایس آئی ایس سے موازنہ کرنا حقیقت میں غلط اور مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔ مگر کوئی قابل شناخت چیز ہونی چاہیے جس میں مبالغہ آرائی کی جا سکتی ہے۔ موازنہ مماثل چیزوں میں ہوتا ہے، ایک جیسی خصوصیات کے بارے میں نہیں اور مبالغہ آرائی صرف اس چیز میں ہو سکتی ہے، جو فی الحقیقت موجود ہو۔ میں آزاد کی کچھ سال پہلے کی ایک ویڈیو پر دھیان دلانا نہیں چاہتا،جس میں انھوں نے بھی ہندوتوا کو آئی ایس آئی ایس سے تشبیہ دی تھی۔ کیا ہمارا اختلاف اصل مادہ کی بجاے درجات اور مراتب کے سلسلے میں ہے یا وقت بدل گیا ہے؟
متعدد بات چیت کرنے والوں نے مجھ سے ہندوتوا کے پیروکاروں کی طرف سے غیر صحت مند طرز عمل کی مثال پوچھی ہے۔ اس کی ایک لمبی فہرست ہے ؛لیکن اس کو دہرانے سے میرے مفاہمت کے مقصد کی نفی ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہوا اسے وہ شاید ہی قبول کریں۔ پی چدمبرم نے کتاب کے اجرا کی تقریب میں اسے بہت عمدگی سے بیان کیا کہ "جس طرح کسی نے جیسیکا کو نہیں مارا، اسی طرح کسی نے بابری مسجد کو منہدم نہیں کیا”۔ بی جے پی، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد وغیرہ سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ میری بات چیت اس میں اضافہ کر سکتی ہے کہ: پہلو خان اور اخلاق کو کسی نے نہیں مارا، 2002 میں نرودا پاٹیا میں خواتین اور بچوں کو کسی نے قتل نہیں کیا، اناؤ اور ہاتھرس میں کسی نے لڑکیوں کی عصمت دری نہیں کی، مظفر نگر میں کسی نے گھر نہیں جلایا، عشرت جہاں کو کسی نے نہیں مارا، لکھیم پور کھیری میں کسانوں کو کسی نے نہیں مارا اور اسی طرح بلاشبہ گاندھی کو بھی کسی نے نہیں مارا۔
میں بحث کے لیے تیار ہوں؛ لیکن یہ پارٹی کی سطح پر ہونے کی بجاے ذاتی طورپر ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ اب کانگریس کے سابق صدر اور رہنماے اعلیٰ راہل گاندھی کی طرف سے بھی صاف اظہار خیال کیا گیا ہے، جنھوں نے بعد میں ہماری نظریاتی وضاحت پر یہ کہتے ہوئے توجہ دی ہے کہ ہندوازم اور ہندوتوا دو الگ الگ چیزیں ہیں، اس وجہ سے کہ آخر الذکر بے گناہوں کے قتل میں حصہ لیتا ہے، تو اب کیا بحث باقی رہ جاتی ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے ہندوتوا طاقتوں کو عرصے سے یہ آزادی دے رکھی ہے کہ وہ ہمیں ادھر ادھر ڈھکیلتی رہیں اور یہ تاثر دیں کہ سچائی پر بس ان کی اجارہ داری ہے۔ ایک حکمت عملی کے طور پر اس کے ختم ہونے کی توقع کی جا رہی تھی؛ کیونکہ فطرت خود کو ٹھیک کرلیتی ہے اور عوامی گفتگو معمول پر آ جاتی ہے، مگر یہ تازہ ترین واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اگر ہم مخالف کو ایک انچ بڑھنے کا موقع دیتے ہیں، تو وہ کئی فٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ سرخ لکیر کھینچنے کا وقت ہے، نہ صرف ہماری فلاح و بہبود کے لیے؛ بلکہ اپنی قوم اور ملک کی بقا کے لیے جسے ہم جانتے اور سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ صرف ہندوتوا طاقتوں کی نوعیت اور طرز عمل سے اختلاف کی بات نہیں ہے؛ بلکہ اپنے آپ کو ایک شاندار مذہب ہندوازم کو ان لوگوں سے بچانے کے لیے تیار کرنا ہے، جو اس کی انسانیت پسندی کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اور جو ملک کے دو اہم فرقوں کے درمیان تفریق پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ابھی اور یہیں ایک موقف اختیار کرنا ہے، لفظی مخالفت اور تحفظات کے اظہار سے کام چلنے والا نہیں ہے۔ منفی ردعمل کے خوف نے ہمارے اپنے درست موقف کو سامنے رکھنے سے ہمیں روک رکھا ہے اور ہمارے دوستوں نے بھی اسے رائٹ آف کر دیا ہے، جبکہ دشمن مستقل ہماری گھات میں ہے، جھوٹ کو کبھی ایسا غلبہ حاصل نہیں رہا،جو اسے حالیہ برسوں میں حاصل ہوا ہے۔ اب ان زنجیروں کے سوا ہمیں کیا کھونا ہے، جن میں دائیں بازو کی قوتیں ہمیں جکڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
آزادی سے محرومی کا تعلق صرف جسمانی قید سے نہیں ہے، اس کا تعلق دماغ و زبان کی بندش سے بھی ہے۔ ہندوتوا کا پرچار کرنے والے لوگ سچائی سے خوفزدہ ہیں۔ پہلے وہ چیخ چیخ کر اسے دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اسے زیر کرنے کے لیے ہر طرح کے ہتھیار کا استعمال کرتے ہیں۔ اپنی گاندھیائی وابستگی کے ذریعے ہمیں یقینی بنانا چاہیے کہ ہم تشدد اور بدسلوکی کو ترک کریں؛ لیکن پر امن مزاحمت کے نتائج بھگتنے کے لیے بھی تیار رہیں۔ ہمارے مخالفین نفرت پھیلاتے ہیں، مگر ہمیں سچائی پر جمے رہنا ہے۔ ہمارے دوستوں کو انتخاب کرنا چاہیے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔
جب نینی تال میں میرے گھر میں آگ لگائی گئی تو مجھ سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کیا ہے؟ بوکو حرام، آئی ایس آئی ایس، یا ہندوتوا نے ؟ تو میں نے جواب دیا:عقل مند لوگ خوب سمجھتے ہیں۔

(مضمون نگار ہندوستان کے سابق وزیر خارجہ ہیں،اصل مضمون روزنامہ انڈین ایکسپریس میں شائع ہوا ہے)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*