میرا داغستان :انمول باتوں اور انمول لفظوں کی کتاب-شکیل رشید

اگر کوئی مجھ سے یہ سوال کرے کہ داغستانی شاعر و نثر نگار رسول حمزہ توف کی کتاب ’’ میرا داغستان ‘‘ کا مطالعہ کر کے کیا پایا ، تو میرا جواب ہوگا ،’’ بہت ساری انمول باتیں اور بہت سارے انمول الفاظ۔‘‘ یوں تو یہ کتاب کسی بندھی ٹکی ’ صنف ‘ میں نہیں ہے ، لیکن کچھ لوگ اس کی صنف کو شاعری سے جوڑ سکتے ہیں ،کچھ کہہ سکتے ہیں کہ یہ خودنوشت ہے ،بعض کے لیے یہ فکشن ہے اور بعض کےلیے ایک علاقے کی تہذیب و ثقافت پر مبنی معلومات ۔مگر میرے لیے ،یہ کتاب ادب کی تمام اصناف کا مجموعہ ہے ،کہ اس میں سب ہی طرح کی اصناف کو سمو لیا گیا ہے۔اب آپ غورکریں کہ، ایک صنف میں لکھتے ہوئے لوگوں کی عمریںبیت جاتی ہیں لیکن وہ اس صنف پرقابو نہیں پاپاتے ،مگر کہنے والے انہیں علامہ کہتے ہیں ، تو جس ادیب نے ایک کتاب میں ادب کی مختلف اصناف کو جمع کر دیا ہو،وہ واقعی کتنا بڑا علامہ رہا ہوگا! اور اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول حمزہ توف اپنے دور کے عظیم شاعر اوربہترین نثر نگار تھے ۔انہوں نے سوویت یونین کی جمہوریہ داغستان کے آوار گاؤں سدا میں اپنے دور کے مشہور شاعر حمزہ سداسا کے گھر میں آنکھیں کھولی تھیں ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ،انہیں شاعری ایک طرح سے اپنے والد سے ورثہ میں ملی تھی ۔ رسول حمزہ توف نے اپنے پیچھے جو شعری اثاثہ چھوڑا ہے ،وہ ہمیشہ زندہ رہے گا ،کیونکہ ان کے اشعار صرف کاغذ پرچھپے ہوئے نہیںہیں بلکہ لوگوں کے دل و دماغ میں بھی رچ اور بس گئے ہیں۔رسول حمزہ توف کے تعلق سے جو معلومات دستیاب ہیں ان کے مطابق انہوں نے اپنے پہلے اشعار گیارہ سال کی عمر میں لکھے۔ ایک حیرت انگیز واقعے نے ان کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیا تھا۔ ۱۹۳۳ء میں داغستان کے اس بلند پہاڑ ی گاؤں سدا میں ،جہاں وہ پیدا ہوئے تھے، تاریخ میں پہلی بار ایک ہوائی جہاز اترا تھا اور مشہور شاعر حمزہ سداسا کے بیٹے نے اس عجوبے کو دیکھ کر شاعری کے میدان میں پہلا قدم اٹھایا تھا۔ ہائی اسکول کی تعلیم، استادوں کی تربیت کےکالج، آوار زبان کے سفری تھیٹر، ریڈیو نامہ نگار، یہ ان کی جوانی کےالگ الگ مرحلےتھے ۔ صحت کی حالت ایسی تھی کہ انھوں نے فوجی خدمات انجام نہیں دیں ،لیکن جب داغستان کی سرحد ہی پر جنگ ہو رہی تھی تو شاعر کے شاعر بیٹے نے دشمن پر اپنی نظموں اور گیتوں کے وار کیے، سوویت فوج کی فتوحات سے خود وجدان حاصل کیا اور اپنے ہم وطنوں کو کارنامے انجام دینے کا ہمت و حوصلہ عطا کیا۔ جنگ کے بعد انہوں نے ماسکو میں ادبیات کے انسٹی ٹیوٹ موسوم بہ گورکی سے ۱۹۵۰ء میں اپنی تعلیم مکمل کی اوروہیں بہت سے ادیبوں سے ان کی دوستی ہوئی، وہیں یکے بعد دیگرےان کی نظموں کے مجموعے شائع ہوئے ،جنہیں سوویت یونین میں بھی اور دنیا کے دوسرے ملکوں کے قارئین میں بھی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی۔ناقدوں کے مطابق ،ان کی شاعری وطن دوستانہ اور صدیوں پرانی عوامی دانش سے مملو ہے۔کردار کی جرات، لوگوں کے باہمی رشتوں میں دلی تعلق، بلند ترین انقلابی آدرشوں کی خاطر کارنامے انجام دینے پر آمادگی نے رسول حمزہ توف کی شاعری کو لوگوں کے لیے ضروری بنا دیا ہے۔لوگوں کے لیے ضروری بنانے کا مطلب یہ کہ ان کے والد عوامی شاعر تھے ،اور یہ بھی عوام میں اپنے والد ہی کی طرح مقبول تھے ۔رسول حمزہ توف داغستانی ادیبوں کی انجمن کے چیئرمین بھی تھے۔انہوں نے الیکزاندر پشکن، لیرمونتوف اور مایاکوفسکی کی تخلیقات آوار زبان میں ترجمہ بھی کیں۔
کتاب ’’میرا داغستان‘‘ ان کا شعری مجموعہ نہیں ، ان کا نثری شاہکار ہے ۔ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے یہ کتاب باقاعدہ کسی ایک صنف میں نہیں ہے ،اس میں رسول حمزہ توف نے اپنے علاقے ’داغستان ‘ کو مرکز میں رکھتے ہوئے، اپنے پڑھنے والوں کے سامنے ، کبھی کہاوتوں کے ذریعے ،کبھی کوسنوں کے توسط سے، تو کبھی حکایتوں اور کہانیوں اور کہاوتوں کے ذریعے ،اور کبھی اشعار کی شکل میں ،وہ عوامی زندگی ، پہاڑوں کی وہ سادگی اور اُس فطری حُسن کو دکھایا ہے جو، ان کی شعری کائنات میں بھی نظر آتا ہے، لیکن جسے لوگوں کے سامنے پوری وسعت اور بھرپور تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کے لیے ،شاعری سے ہٹ کر کسی اور ہی طرح کی ہیئت کی ضرورت تھی ۔یہ کتاب اُسی ہیئت میں ہے۔ کتاب کو ۱۳ ،ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے اوریوں لگتا ہے جیسے کہ ہر باب لکھنے کا مقصد ادبا اور شعرا کی تربیت ہو۔ اور اس مقصدسے ،کسی طرح کی بدنیتی نہیں، خلوص صاف جھلکتا ہوا نظر آتا ہے،کیونکہ رسول حمزہ توف ادیبوں اور شاعروں سے ہی مخاطب نظر نہیں آتے ہیں بلکہ خود سے بھی مخاطب نظر آتے ہیں ۔اس کتاب کو مقامی آوار زبان سے روسی زبان میں ترجمہ کرنے والے ادیب ولادیمیر سولواوخین ’پیش لفظ‘ میں لکھتے ہیں ’’رسول حمزہ توف نے یہاں اس طرح سے لکھا ہے جیسے وہ اپنی آئندہ کتاب کا پیش لفظ لکھ رہے ہوں۔وہ بتاتے ہیں کہ اس کتاب کو کیسی ہونا چاہیے،اس کو کس انداز میں لکھاجائے گا، اس کا نام ،اس کی زبان اور اسلوب کیسے ہوں گے،اس کی تشکیل کیسے کی جائے گی اور پھر اس کتاب کا مواد کیا ہو گا۔‘‘ایک جگہ وہ لکھتے ہیں ’’یہ کتاب سوانح حیات جیسی ہے اور کچھ حد تک اعترافی خصوصیات کی حامل ہے۔پرخلوص اور شاعرانہ ہے۔‘‘
یہ کوئی ناول یا کہانی نہیں ہے مگر اس کے کردار حمزہ ، ابو طالب ،سلیمان استالسکی ، عوامی شاعر محمود وغیرہ ذہنوں میں ،اپنی سادگی اور کردار کے کھرے پن ،اور اپنی صلاحیتوں اور مقبولیت کے باوجود زمین سے جڑے رہنے کے سبب دل و دماغ پر چھا جاتے ہیں ۔ رسول حمزہ توف نے کچھ اس انداز سے اپنے والد حمزہ اور ان کے دوست ابوطالب کا ذکر کیا ہے کہ ان کے سراپے نظر میں گھوم جاتے ہیں۔ اس کتاب سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے ،جیسے کہ لفظوں کی حرمت اور اہمیت ۔ایک اقتباس ملاحظہ ہو:’’اس سے پہلے کہ زبان سے کوئی لفظ ادا ہو انسان کو چاہیے کہ اپنی دونوں آنکھوں سے سب کچھ دیکھ بھال لے اور دونوں کانوں سے سب کچھ سن لے ۔ منھ سے نکلنے والا لفظ اس گھوڑے کی طرح ہےجو ایک ڈھلوان ، سنگلاخ اور تنگ پہاڑی راستے سے اتر کر ایک وسیع و عریض اور ہموار میدان میں آ پہنچا ہو۔‘‘یہ کتاب وطن سے محبت بھی سکھاتی ہے :’’ایک موضوع البتہ ایسا ہے جو دعا کی طرح جتنی بار دوہرایاجائے،اس کی قدر و قیمت اتنی ہی بڑھتی ہے اور شان و شوکت میں اتناہی اضافہ ہو جاتاہے، یہ ہے مادرِ وطن۔‘‘ یہ کتاب بتاتی ہے کہ :’’صلاحیت رکھنے والا اندھا آدمی اُس آدمی سے کہیں زیادہ دیکھتا ہے جس کے پاس آنکھیں تو ہوں ،مگر صلاحیت سے محروم ہو۔‘‘اس کتاب میں ادیبوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ:’’جب ادب اپنے باپ دادا کی غذا پر پلنا چھوڑ دیتا ہے اور دوسرے ملکوں سے غذا حاصل کرنے لگتا ہے ،جب اس کے رشتے اپنی قوم کے رسم و رواج سے، زبان اور کردار سے ٹوٹ جاتے ہیں اور وہ اپنی قوم کا وفادار نہیں رہ جاتا تو وہ مریض ہو جا تا ہے ،اس کے سوتے خشک ہوجاتے ہیں اور دنیا کی کوئی دوا اسے بیماری سے نجات نہیں دلا سکتی ۔‘‘مذکورہ جملے پڑھ کر مجھے اردو زبان کے ادباء یاد آگئے ،اور یہ سوال بھی دماغ میں چکرانے لگا کہ کہیں اُنہیں ہی تو ،یہ سبق نہیں دیا گیا ہے؟ اردو کے اکثر ادیب اور شاعر غیر ملکی ادیبوں اور شاعروں سے اپنے موازنے کو ہی اپنی زندگی کا حاصل سمجھ بیٹھتے ہیں ،پھر نہ ادھر کے ٹھہرتے ہیں اور نہ ہی اُدھر کے ۔ کتاب سے دو اقتباس مزید ملاحظہ کریں:’’ موضوع ایک ایسی الماری کی طرح ہے جس میں طرح طرح کاسامان بھرا ہو ،الفاظ اس الماری کی کنجی ہیں، لیکن خیال رہے کہ یہ اُسی وقت کارگر ہو سکتے ہیں جب الماری میں بھرا سامان آپ کی ملکیت ہو کسی اور کی نہیں۔‘‘ مزید:’’صلاحیت آگ کی طرح ہوتی ہے۔ آگ اگر بے وقوفوں کے ہاتھ لگ جائے تو اردگرد کی ہر چیزکو جلا کر راکھ کر سکتی ہے ، یہ ذہانت ہی ہے جو اسے قابو میں رکھتی ہے۔‘‘مجھے لگتا ہے کہ یہ کتاب ادیبوں اور شاعروں کو لازماً پڑھنا چاہیے،انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔میں نے ’انمول لفظوں اور انمول باتوں ‘والی اس کتاب سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ اس کتاب کا ترجمہ اردو کے ایک بڑے ادیب اجمل اجملی نے کیا تھا ،مگر یہ ایک عرصے سے نایاب تھا ، کم از کم ہندوستان میں۔پاکستان میں ،حال ہی میںاسے جہلم کے اشاعت گھر ’بک کارنر ‘نے خوبصورت انداز میں شائع کیا ہے لیکن اس کا ہندوستان میں ملنا ممکن نہیں تھا ، اس کام کو ’اثبات ‘ کے مدیر اشعر نجمی نے یوں آسان کر دیا کہ انہوں نے اسے اپنے ’اثبات پبلی کیشن ‘ (موبائل نمبر: 8169002417)سے شائع کردیا ہے ۔ جو افراد انمول باتوں اور لفظوں کی قدر اور احترام کرتے ہیں وہ اسے ضرور اپنے مطالعے میںلیں۔