Home نقدوتبصرہ میرا داغستان:دریا بہ حُباب اندر -نایاب حسن

میرا داغستان:دریا بہ حُباب اندر -نایاب حسن

by قندیل
ایک ایسی کتاب ،جو پیش لفظ سے شروع ہوکر،پیش لفظ پر ہی تمام ہوجائے ، اس میں کیا ہوسکتا ہے؟اس سوال کے جواب میں یہی کہا جائے گا کہ کچھ نہیں؛کیوں کہ پیش لفظ میں تو مصنفین عموماً اصل کتاب سے پہلے کی تمہید لکھتے،بعض لوگ اس کی تلخیص پیش کرنے کی کوشش کرتے اور کچھ لوگ اس کتاب کی تصنیف کا پس منظر بیان کرتے ہیں اور بس!
مگر شہرۂ آفاق داغستانی ادیب و شاعر رسول حمزہ توف کی کتاب’میرا داغستان‘ ایسی انوکھی تصنیف ہے،جو فی الحقیقت پیش لفظ ہے،مگر یہی اصل کتاب بھی ہے اور کتاب بھی ایسی کہ بس پڑھیے اور سر دُھنیے،جس کے ورق ورق سے خیال کا جمال اور سطر سطر سے اظہار و ادا کا حسن جھلکتا ہے،مصنف کی شناخت کا اصل حوالہ اس کی شاعری ہے، مگر نثر اس نے ایسی لکھی ہے کہ شاعری کا سارا آب و تاب چھن کر اس کتاب میں جلوہ گر ہو گیا ہے ۔اس میں کیا کچھ نہیں ہے؛اس میں ادیبوں، شاعروں،نثر نگاروں،تنقید نویسوں،ایڈیٹروں کے لیے قیمتی اصول ہیں، عام انسان کے لیے اسرار ورموزِ زندگی کا بیان ہے،اس میں قصے کہانیاں بھی ہیں، اس میں مصنف کے والد حمزہ سداسا کے علاوہ داغستان کے عظیم مجاہد آزادی امام شامل اور ان کے مرید حاجی مراد کی ولولہ خیزیوں کے حوالے ، متعدد داغستانی،روسی شاعروں اور ادیبوں کے مرقع ہاے حیات یا ان کی زندگی کے پرلطف واقعات،ان کے افادات اور حکمت و دانش سے مملو اقوال و احوال بھی ہیں،اس میں مصنف کی سفری رودادیں بھی ہیں،اس کتاب میں خیال انگیز فقروں اور خرد افروز جملوں کی کہکشاں ہے، زندگی کرنے کا اصول اور ناگفتہ بہ حالات کو انگیز کرنے کی تدبیریں بھی ہیں،اس میں نہایت فکر انگیز تشبیہات اور علم ریز استعارات کی ایک پوری کائنات آباد ہے،بہ ظاہر معمولی نظر آنے والے واقعات سے غیر معمولی استنتاج کی مثالوں سے یہ کتاب بھری ہوئی ہے،مصنف کے تخلیقی ذہن کی زرخیزی،اس کی بے مثال قوتِ اخذ و عطا اور قطرے میں دجلہ دیکھ لینے کی حیرت ناک صلاحیت کے نمونے ہر صفحے پر بکھرے ہوئے ہیں، یہ کتاب ہمیں مادری زبان سے عشق سکھاتی اور حب الوطنی کے فطری رنگ اور بے ساختہ پن سے آشنا کرواتی ہے، ،پوری کتاب میں جگہ جگہ حسبِ موقع و حال مصنف نے نظمیں بھی لکھی ہیں،جن کے موزوں ترجمے نے ان کے لطف کو دوبالا کردیا ہے۔
نثرنگاری کیا ہے اور شاعری کسے کہتے ہیں؟ ایک کتاب کیسے لکھی جاتی ہے اور کیسے لکھی جانی چاہیے؟کسی کتاب کی تصنیف کا مقصد کیا ہونا چاہیے؟کتاب کا اسلوبِ تحریر کیا ہونا چاہیے اور کس پیرایے میں اسے لکھنا چاہیے؟ کسی کتاب کے لیے مواد اہم ہے یا صرف اسلوب و زبان یا دونوں؟اپنی تاثیر،تعبیر اور جزالت و حلاوت کے اعتبار سے نثر اعلیٰ ہے یا شاعری اس پر فائق ہے؟کسی بھی تخلیق کی زبان کیسی ہونی چاہیے؟ایک حقیقی ادیب اور تخلیق کار و فن کار کے لیے مادری زبان کی کیا اہمیت ہے ؟ ایک شاعر و ادیب کو موضوع کا انتخاب کیسے کرنا چاہیے؟ کونسی نثری یا شعری صنف اظہارِ خیال کے لیے موزوں ہے،اس کا علم کیسے ہوسکتا ہے؟کسی بھی نظم یا نثر کا اسلوب کیسا ہونا چاہیے؟ایک ادیب کے لیے پیش پا افتادہ اسلوب کی تقلید یا خارجی عوامل کی پیروی کی بجاے فطری انداز و ادا میں لکھنے کی کیا اہمیت ہے؟ایک کتاب یا تخلیق کی مجموعی ساخت کیسی ہونی چاہیے؟کسی ادیب، خطیب، شاعر و نثر نگار،مصنف و فن کار یا عام انسان کے لیے ’صلاحیت‘ کس قدراہم ہے،صلاحیت کیا ہوتی ہے،فطری ہوتی ہے یا کسبی ہوتی ہے،اس کے عرفان کے طریقے کیا ہیں اور اس کے فروغ کی تدبیریں کیسے اختیار کی جائیں،یہ کیسے پتا لگتا ہے کہ فلاں با صلاحیت ہے اور فلاں بے صلاحیت؟ کیا ادبی،تخلیقی و تصنیفی سرگرمی بھی دنیا کے دوسرے کاموں کی طرح ایک کام ہے؟اس میں بھی ویسی ہی مشقت اٹھانا پڑتی ہے،جیسی دوسرے جسمانی کاموں میں یا اس سے کچھ کم یا زیادہ؟ ایک ادیب و فن کار کے لیے صدق و کذب کے کیا معنی ہیں،صدق پسندی دنیا کے ہر انسان کے لیے ضروری ہے اور اظہار وبیان میں سچائی ہمیشہ مطلوب ہے،مگر ایک ادیب میں سچ لکھنے،سچ سننے اور سچ بولنے کی جرأت کس حد تک مطلوب ہے؟ ایک مصنف و ادیب کا کسی اشاعتی ادارے سے کیسا رشتہ ہونا چاہیے؟ایڈیٹر یعنی کتاب کا مسودہ پڑھنے والے،اسے ایڈٹ کرنے والے کے کیا فرائض ہیں،اصل متن میں کس حد تک حذف و ترمیم کی اسے اجازت ہونی چاہیے ؟ مترجمین کی ادبی حیثیت کیا ہے،عالمی ادبیات اور ثقافتوں کے فروغ و توسیع میں ان کی کتنی حصے داری ہے؟ترجمہ کس طرح کرنا چاہیے اور مترجم کی اخلاقی ذمے داریاں کیا ہیں؟کسی ادب پارے کی تعیینِ قدر میں ایک ناقد کا کیا رول ہوتا ہے،تنقید نگار کیسا ہونا چاہیے؟اچھا قاری کون ہوتا ہے؟ کسی بھی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے کن باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے؟……..سوالات کی یہ فہرستِ طولانی میں نے اسی کتاب کے مشمولات کی روشنی میں تیار کی ہے،یعنی اس ایک کتاب کے مطالعے سے اتنے سارے سوالوں کے جواب ملتے ہیں اور کیا ہی خوب ملتے ہیں !

 

رسول حمزہ توف بیسویں صدی کے عظیم داغستانی(داغستان پہلے سویت یونین کا حصہ تھا،اب روس  میں شامل وفاقی جمہوریہ  ہے) ادیب و شاعر تھے،ان کے والد حمزہ بھی داغستانی زبان کے بڑے شاعر تھے،رسول حمزہ ۱۹۲۳میں داغستانی گاؤں’سدا‘ میں پیدا ہوئے اور ۲۰۰۳میں ماسکو،روس میں وفات پائی۔انھوں نے داغستان کی مقامی زبان آوار میں شاعری کی اور ان کی نظموں کے ترجمے روسی زبان کے واسطے سے پوری دنیا میں پہنچے اور بہت مقبول ہوئے۔انھیں روس اور دنیا کے مختلف ادبی اداروں،انجمنوں کی طرف سے درجنوں اعزازات سے نوازا گیا۔۲۰۱۳ میں روسی حکومت نےسینٹرل ماسکو کی شاہ راہِ یوزسکی پر رسول حمزہ توف کا مجسمہ نصب کروایا،جس کی نقاب کشائی صدر ولادیمیر پوتن نے کی تھی۔اسی طرح ان کا ایک مجسمہ داغستانی راجدھانی  مخاچ قلعہ میں بھی نصب ہے،جہاں وہ طویل عرصے تک مقیم رہے اور’میرا داغستان‘ میں اس سے وابستہ بہت سی یادیں انھوں نے تازہ کی ہیں۔’میرا داغستان‘ پہلی بار ۱۹۶۸میں آوار زبان میں شائع ہوئی،پھر اس کا روسی ترجمہ منظر عام پر آیا،اسی سے اس کا اردو ترجمہ اردو کے ممتاز شاعر و ادیب اجمل اجملی نے کیا۔یہ ترجمہ پہلی بار ۱۹۷۸میں دارالاشاعت ترقی ماسکو سے شائع ہوا تھا۔اجمل اجملی الہ آباد کے ایک اعلیٰ صوفی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے،۱۹۳۲میں پیدا ہوئے اور ۱۹۹۳ میں دہلی میں ان کا انتقال ہوا ۔تعلیم انھوں نے پی ایچ ڈی تک  الہ آباد یونیورسٹی سے حاصل کی،۱۹۶۴ میں سرینگر کے ایک کالج سے بحیثیت استاذ وابستہ ہوئے،مگر جلد ہی معروف ترقی پسند ادیب سجاد ظہیر نے انھیں دہلی بلالیا،یہاں وہ سویت سفارت خانے سے وابستہ ہوگئے اور ۱۹۹۰ تک اس سے شائع ہونے والے مجلے’سویت دیس‘ کی ادارت کا فریضہ انجام دیا ۔ شاعری بھی انھوں نے بڑی جان دار کی ہے، جس سے ترقی پسندانہ افکار جھلکتے ہیں،البتہ شعری مجموعہ’سفرزاد‘ بہت بعد کو ۱۹۹۰میں شائع کیا۔ترجمے انھوں نے کئی کیے،جن میں ’میرا داغستان‘،’مسلم قوموں پر مغربی استعمار کی یلغار‘ ، ’نقوش لینن‘،’جام جہاں نما‘ روسی زبان سے کیے گئے ہیں ،جبکہ میر تقی میر کی خود نوشت ’ذکر میر‘ کا ہندی ترجمہ انھوں نے ستر کی دہائی میں کیا جو الہ آ باد سے شائع ہوا تھا،غلام ربانی تاباں کے انگریزی مضامین کے ترجمے کیے(شعریات سے سیاسیات تک)، قاضی نذرالاسلام پر کتاب مرتب کی(شاعر آتش نوا)،احتشام حسین کے سفرنامۂ سویت یونین کو ترتیب دیا (سویت یونین تاثرات اور تجزیے)،ان کے علاوہ بھی کتابیں بھی انھوں نے لکھیں اور مرتب کیں۔وہ ادیب ،شاعر ، تنقید نگار سبھی کچھ تھے،مگر ان کی زیادہ شہرت ترجمہ نگار کی حیثیت سے ہوئی،ان کے بیشتر کام بھی تراجم کی شکل میں ہی ہیں اور ان کے ترجموں میں بھی’میرا داغستان‘ کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ترجمہ انھوں نے ایسا شان دار کیا ہے کہ اس پر اصل کا گمان ہوتا ہے،سلاست و روانی بے مثال ہے ، مصنف نے جس سرور و مستی،بے ساختگی و بے تکلفی، بہاؤ اور رچاؤ کے ساتھ یہ کتاب لکھی ہے،ایسا لگتا ہے کہ انھی کیفیات میں ڈوب کر یہ ترجمہ کیا گیا ہے،جس کی وجہ سے اردو زبان میں اس کتاب کو پڑھنے والا بھی یوں محسوس کرتا ہے کہ براہِ راست مصنف کی زبان میں پڑھ رہا ہے اور درمیان سے دو زبانوں کا پردہ اٹھ جاتا ہے۔یہ ایسی کتاب ہے کہ پہلے صفحے سے ہی آپ کو پوری طرح اپنے سے باندھ لیتی ہے،آپ پر محویت طاری ہوجاتی ہے،ہر صفحہ نیا ذائقہ دیتا، تازہ لذتوں سے آشنا کرواتا اور ہر ورق نئے تجربے سے گزارتا ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے کہ اسے کتاب بینی سے دلچسپی رکھنے والے ہر انسان کو پڑھنا چاہیے،اس کا مطالعہ اعلیٰ ادبی و فکری ذوق رکھنے والے قاری کو تو انبساط و ابتہاج کی کیفیات سے ہم کنار کرے گا ہی،اوسط درجے کا قاری بھی اس سے بخوبی حظ اٹھا ئے گا ۔

ہندوپاکستان سے اب تک اسے درجنوں اشاعتی اداروں نے شائع کیا ہے،جن میں بک کارنر جہلم،فکشن ہاؤس لاہور،اثبات پبلی کیشنز ممبئی وغیرہ شامل ہیں،مرکزی پبلی کیشنز دہلی بھی عنقریب اسے شائع کر رہا ہے۔ پی ڈی ایف چاہیے ہو، تو گوگل پر سرچ کرسکتے ہیں۔

یوں تو پوری کتاب ہی شاہکار ہے،پھر بھی کچھ  مختصر و معنی خیز اقتباسات پیش ہیں:

’’آنکھ کھلتے ہی بستر سے اس طرح اٹھ کر نہ بھاگو جیسے کسی چیز نے تمھیں ڈنک ماردیا ہو،سب سے پہلے اس خواب کے بارے میں سوچو،جو تم نے دیکھا ہے‘‘۔

’’انسان کی زبان سے الفاظ کی ادایگی میں دیر صرف اس صورت میں نہیں لگتی ،جب وہ ہکلا ہو؛بلکہ اس وقت بھی الفاظ کی ادایگی میں وقت لگتا ہے جب اسے برمحل،ضروری اور ایسے الفاظ کی تلاش ہو، جو عقل و دانش کا اظہار کرسکیں‘‘۔

’’پیش لفظ اس آدمی کی طرح ہے،جس کے شانے چوڑے چکلے ہوں،سرپر بڑی اونچی ٹوپی ہو اور وہ کسی تھیٹر کی اگلی صف میں بالکل آپ کے سامنے بیٹھا ہو۔اب آپ کی قسمت ہے کہ وہ سیدھا بیٹھا رہے،ادھر ادھر جھکے نہیں‘‘۔

’’انسان کو صرف دو ں صورتوں میں جھکنا چاہیے، کسی بہتے ہوئے چشمے سے پیاس بجھانے کے لیے یا پھر کسی شاخ پر کھلا ہوا کوئی پھول توڑنے کے لیے‘‘۔

’’لڑکی کا نام ایسا ہونا چاہیے کہ اس میں ستاروں جیسی چمک اور پھولوں کی مہک ہو؛لیکن لڑکے کے نام میں تلوار کی جھنکار یا علم و دانش کا اظہار ہونا چاہیے‘‘۔

’’اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ آپ کون ہیں،تو آپ اس کے سامنے اپنے کاغذات پیش کرسکتے ہیں،اسے اپنا پاسپورٹ دکھا سکتے ہیں ،جس میں آپ سے متعلق ساری ضروری اطلاعات موجود ہوتی ہیں۔یہی سوال جب کسی قوم سے کیا جائے،تو وہ اپنی اسناد کی صورت میں اپنے سائنس دانوں ،اپنے ادیبوں،اپنے فن کاروں اور اپنے مدیروں کو پیش کرتی ہے‘‘۔

’’اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ دل ربا اور خوب صورت عورتیں ذہانت سے محروم ہوتی ہیں اور ذہین و ہوشیار عورتیں خوب صورتی سے۔کسی فن پارے پر بھی یہ بات صادق آتی ہے؛لیکن بعض ایسی خوش نصیب عورتیں بھی ہوتی ہیں ،جن کے پاس ظاہری حسن بھی ہوتا ہے اور ذہن کی تیزی اور نفاست بھی،یہی بات ان کتابوں پر بھی صادق آتی ہے،جن کے لکھنے والے حقیقی معنوں میں با صلاحیت ہوتے ہیں‘‘۔

’’مشہور ادیب رابندر ناتھ ٹیگور کے ایک بھائی  بھی تھے،جو ہندوستانی ادب کے بنگالی مدرسۂ فکر کے پیرو تھے،جبکہ ٹیگور بذاتِ خود ایک مدرسۂ فکر،ایک رجحان اور ایک تحریک تھے؛دونوں بھائیوں میں یہی فرق تھا‘‘۔

’’اگر ہم ادیب کو ڈاکٹر مان کر چلیں،تو اسے اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ صدیوں پرانی آزمودہ جڑی بوٹیوں کا بھی استعمال کرسکے اور علم طب کی جدید ترین ایجادات کا بھی۔اگر ہم ادیب کو سیاح فرض کرلیں،جو پیادہ پا دیس بدیس کا سفر کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ جب وہ کسی اجنبی دیس میں پہنچے،تو اپنے وطن کے گیتوں سے اس کا دل معمور ہو؛لیکن ساتھ ہی ساتھ اس میں اتنی گنجایش ضرور ہو کہ وہ گیت  بھی اس میں جگہ پا سکیں جو اس کے لیے گائے جائیں‘‘۔

’’یہ بات سچ ہے کہ پھول جتنے ہی رنگارنگ ہوں گے،ان کا گلدستہ بھی اسی قدر خوب صورت ہوگا،آسمان میں ستاروں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی،آسمان اتنا ہی زیادہ روشن ہوگا،قوسِ قزح  کے حسن کی وجہ یہی ہے کہ اس میں زمین کے سارے رنگ سمٹ آتے ہیں‘‘۔

’’جو شخص زبان سے ناواقفیت کے باوجود شعر گوئی کا فیصلہ کرے،وہ اسی طرح کا  پاگل ہے ، جو تیراکی نہ جانتے ہوئے بھی دریا میں چھلانگ لگادے‘‘۔

’’کچھ لوگ منھ کھولتے ہیں ،مگر اس لیے نہیں کہ ان کے ذہن کے افق پر منڈلانے والے خیالات کے بادل نے انھیں زبان کھولنے پر مجبور کردیا ہے؛بلکہ محض اس لیے کہ ان کی زبان کھجلا رہی ہے‘‘۔

’’بہار کا موسم گانا گانے کے لیے موزوں ہے اور جاڑے کا موسم کہانی سنانے کے لیے‘‘۔

’’بعض گرہیں ایسی ہوتی ہیں،جنھیں آدمی ہاتھوں سے نہیں کھول سکتا؛کیوں کہ وہ بہت سختی سے لگی ہوتی ہیں اور دانتوں کا استعمال اس لیے نہیں کیا جاسکتا کہ اس گرہ میں نجاست لگی ہوتی ہے‘‘۔

’’لفظ بارش کی طرح ہیں،پہلی بارش رحمت ہوتی ہے،دوسری بار کی مفید ،تیسری بار کی غنیمت اور چوتھی دفعہ یہی بارش جو کبھی رحمت تھی،لعنت بن جاتی ہے‘‘۔

’’میں ایک شاعر ہوں اور دنیا میں اس لیے آیا ہوں کہ اسی طرح زمان و مکان کے پردے اٹھاؤں،جس طرح کوئی دولہا اپنی دلہن کے چہرے سے نقاب اٹھاتا ہے‘‘۔

’’ صلاحیت رکھنے والا اندھا آدمی اس آدمی سے کہیں زیادہ دیکھتا ہے، جس کے پاس آنکھیں تو ہوں، مگر صلاحیت سے محروم ہو ۔ کہا جاتا ہے کہ بے وقوف دنیا کی خاک چھاننے کے بعد جو کچھ دیکھتا ہے،عقلمند اپنے کمرے میں بیٹھے بیٹھے اس سے کہیں زیادہ دیکھ لیتا ہے‘‘۔

’’صلاحیت ایک سربستہ راز ہے، ایسا راز کہ جب ہم کرہ ٔارض کے بارے میں، اس کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں سب کچھ جان لیں گے، جب ہمیں سورج اور ستاروں کے بارے میں، آگ اور پھول کے بارے میں سب کچھ معلوم ہو چکے گا، جب خود انسان کے بارے میں ہماری معلومات مکمل ہو چکی ہوں گی ،تو آخری چیز جس کا ہمیں عرفان حاصل ہوگا ،وہ صلاحیت ہوگی، اس کا سرچشمہ، اس کی اصلیت اور اس کا محل وقوع ،اور تب جا کر ہم اس راز سے پردہ اٹھا سکیں گے کہ ایسا کیوں ہے کہ کسی کو تو یہ دولت ملتی ہے اور کسی کو نہیں‘‘ ۔

’’ہر شخص جانتا ہے کہ کرنا کیا چاہیے؛ لیکن اسے کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ۔ منزل تو سبھی کو نظر آ سکتی ہے لیکن سبھی منزل تک پہنچ نہیں سکتے ۔ ایسے لوگ موجود ہیں، جو اس بھرم میں رہتے ہیں کہ انہیں یہ معلوم ہے کہ کتاب کس طرح لکھی جانی چاہیے؛ لیکن در حقیقت کتاب لکھی کیسے جائے یہ انھیں معلوم نہیں‘‘ ۔

’’ کسی بہت بڑے خیال کو محض ایک جلے میں سمویا جاسکتا ہے، شدید سے شدید احساس اور جذبے کے اظہار کے لیے کبھی  کبھی صرف ایک لفظ کافی ہوتا ہے اور اسی طرح پوری داستان بیان کرنے کےبجائے محض ایک واقعے کے بیان سے بھی یہ کام لیا جا سکتا ہے‘‘۔

’’اگر کسی تحریر میں مصنف کا وجود محسوس نہ ہو، تو وہ تحریر کسی سڑک پردوڑتے ہوئے بے سوار گھوڑے کی طرح ہے‘‘۔

’’کسی نظم کا خیال کتنا ہی اچھوتا کیوں نہ ہو، نظم کو حسین اور دلکش بھی ہونا چاہیے اور صرف خوبصورت ہی نہیں؛ بلکہ اس کے حسن میں انوکھا پن بھی ضروری ہے۔ شاعر اسی وقت شاعر بنتا ہے جب وہ اپنی ذات کا عرفان بھی حاصل کرلے اور اپنا ذاتی رنگ اور اسلوب بھی دریافت کر لے‘‘۔

’’ ہم سب شاعر ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ شاعری کر لیتے ہیں؛ کیونکہ انھیں شعر گوئی کا فن آتا ہے ،کچھ اس مغالطے میں پڑ کر شاعری کرتے ہیں کہ وہ شعر گوئی کے فن سے واقف ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو شعر گوئی کی کوشش ہی نہیں کرتے ،غالباً یہی لوگ اصلی شاعر ہیں، کون جانے یہی حقیقت ہو ! ‘‘۔

اگر کوئی ادیب  موضوع سے محبت کے بغیر اس  کے ساتھ تخلیق کا رشتہ قائم کرتا ہے، تو جو کتاب جنم لیتی ہے اس کی حیثیت اسقاط حمل کی سی ہوتی ہے؛ اسی لیے موضوع سے رشتہ جوڑنے سےپہلے ادیب کو اپنے دل کی دھڑکنوں کی طرف دھیان دینا چاہیے اور دل کی پکار سننی چاہیے‘‘ ۔

’’ موضوع ایک ایسی الماری کی طرح ہے، جس میں طرح طرح کا سامان بھرا ہوا ہو، الفاظ اس الماری کی کنجی ہیں؛ لیکن خیال رہے کہ یہ اسی وقت کارگر ہو سکتے ہیں، جب الماری میں بھر ا سامان آپ کی ملکیت ہو، کسی اور کی نہیں ۔بعض ادیب ہر موضوع پر ہاتھ مارتے چلتے ہیں، کسی موضوع کی گہرائی میں جانے کی کبھی کوشش نہیں کرتے ۔ وہ صندوق کا ڈھکنا اٹھاتے ہیں، سب سے اوپر رکھی ہوئی چیزوں پر ہاتھ مارتے ہیں اور بھاگ لیتے ہیں؛ لیکن جو صندوق کا اصل مالک ہے، اسے یہ خبر ہوتی ہے کہ اگر صندوق کا سارا سامان احتیاط کے ساتھ ایک ایک کر کے ہٹایا جائے ،تو بیش قیمت جواہرات کی وہ پٹاری ہاتھ آسکتی ہے، جو سب سے نیچے رکھی ہوئی ہے‘‘۔

 

You may also like