میرا بیٹا انصاف کی آواز اٹھا رہا ہے، معافی نہیں مانگےگا

 

(اندور میں زیرتعلیم الہ آباد کے ابھیشیک شبھم کی آپ بیتی)

ہندی سے اردوترجمہ: توصیف صدیقی

ابھیشیک شبھم رہنے والے الہ آباد کے ہیں، لیکن اندور میں پڑھتے ہیں۔ اور جہاں بھی دستور بچاؤ کے نعرے بلند ہورہے ہوتے ہیں وہاں پہنچ جاتے ہیں، ان کو جب پتا چلا کہ "بھنورکنواں” سے کینڈل مارچ نکلنے والا ہے تو ہاتھ میں کینڈل لیے پہنچ گئے، کانگریسی لیڈر رمیز خان سے صرف تین دن پرانے رشتے تھے، جب کلکٹریٹ میں لال جھنڈے والے احتجاج کر رہے تھے، یہاں رمیز خان بھی تھے اور ان سے ملاقات ہوگئی تھی۔
احتجاج میں انقلاب زندہ باد کے نعرے لگ رہے تھے، اور پولس نے جن کو پکڑا تھا ان میں شبھم بھی تھے، جیل ہو کر آئے، جب کہ ان کے پاس تھانے سے ہی واپس ہوجانے کا موقع تھا۔ ایک رات کی جیل کاٹنے کے بعد جو تجربہ ہوا اس نے ابھیشیک کو بےچین کردیا؛ حالاں کہ وہ دہلی پہنچ گئے ہیں اور وہاں احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں، لیکن اندور میں جو کچھ ہوا وہ اس پر بولنے سے خاموش نہیں رہ سکے۔
کہہ رہے ہیں آخر احتجاج کرنے والوں سے نام کیوں پوچھا جارہا ہے، ان کے مذہب میں کیوں تانک جھانک کی جارہی ہے، اندور میں جب مجھے احتجاج کرتے ہوئے پولس نے پکڑا تو مجھے لگا کہ میں صحیح ہوں، اور دستور کو بچانے کے لئے لڑ رہا ہوں، میں خود احتجاج کرنے پہنچا تھا، لیکن جیسے ہی پولس والوں کو میرا نام پتا چلا حیرت سے دیکھتے رہ گئے، افسران آس پاس تھے اور پوچھ رہے تھے؛ تم کیوں شامل ہوگئے، تمہارا کیا لینا دینا ہے؟ جو قانون بنا ہے وہ تمہارے خلاف نہیں ہے۔ میں نے کہا: تیرے اور میرے نہیں، بلکہ یہ قانون ملک کے دستور کے خلاف ہے، اور اسی لئے سب اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
جو طلبہ و طالبات احتجاج کرتے ہوئے گرفتار ہوئے تھے پولس ان کے والدین سے بات کروا رہی تھی، اور پھر چند لوگوں کو چھوڑ بھی دیا گیا۔ مجھ سے بھی ماں کا نمبر لیا گیا اور الہ آباد فون لگادیا گیا، اِدھر سے پولس افسر بات کر رہے تھے اور اُدھر سے میری ماں تھی، ان سے کہا گیا آپ کا لڑکا یہاں پڑھنے کی بجائے احتجاج کرتا پھر رہا ہے اور پولس نے پکڑ لیا ہے، اگر معافی مانگ لیتا ہے تو جھوڑ دیں گے؛ پولس والوں کو کہاں پتا تھا کہ مجھے میری ماں نے ہی ظلم کے خلاف لڑنا سکھایا ہے۔ میری ماں نے پولس کو جواب دیا کہ "میرے لڑکے نے کوئی جرم نہیں کیا ہے، وہ انصاف کی آواز اٹھا رہا ہے، اب جو آپ کو ٹھیک لگے کیجیے؛ لیکن وہ معافی نہیں مانگےگا۔” گرفتار لوگوں میں سے بیس لوگ پہلے ہی جیل پہنچ چکے تھے، میں اکیلا ہی بچا تھا، ماں نے جس طرح جواب دیا اس کے بعد میرا بھی جیل جانا طے تھا اور اکیسواں میں بھی جیل پہنچ گیا۔ مجھے جو باتیں تھانے میں سننے کو ملیں وہ یہاں جیل میں بھی ہورہی تھیں؛ جو بھی میرا نام پوچھتا اور جانتا، فورا کہتا کہ تم کیوں شامل ہوگئے، یہ مسلمانوں کی لڑائی ہے اور تم کیوں ان کا ساتھ دے رہے ہو؟ میری بہن سے بھی پولس والوں نے یہی کہا، اس کا بھی جواب وہی تھا جو میری ماں نے دیا تھا۔ جیل افسر نے دھمکی دی اور یہاں تک کہہ دیا کہ تم ملک کے ساتھ گڑبڑ کر رہے ہو، قانون میں کوئی گڑبڑی نہیں ہے۔ مجھے حیرت ہورہی تھی کہ سرکاری لوگ کیسے میری ذہن سازی کر رہے تھے، اگر میں غلط کر رہا ہوں تو مجھے پکڑیے، سزا دیجیے، لیکن کون سا قانون صحیح ہے اور کس میں کیا خامی ہے، یہ بتانا پولس کا کام نہیں ہے۔ یہ تو لیڈر اور سرکار بتائےگی۔ حیرت و افسوس ہے کہ صوبہ مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومت ہونے کے باوجود اندور کے افسران ابھی بھی بھاجپائی بنے ہوئے ہیں، اور مجھے یہ بھی احساس ہوا کہ صرف پولس ہی نہیں دوسرے افسران بھی اسی طرح کی باتیں کر رہے تھے۔
جب میں جیل سے چھوٹنے کے بعد موبائل لینے "بھنورکنواں” تھانے گیا تب بھی یہی باتیں تھیں اور میرا "ابھیشیک شبھم” ہونا پولس کو بار بارعجیب لگ رہا تھا کہ تم تو مسلمان نہیں ہو، تمہیں اس قانون اور اس کے خلاف احتجاج سے کیا لینا دینا؟ میں کہتا رہا اس طرح کی باتوں سے کسی کا من (دِل) نہیں بدلا جاسکتا، مجھے جو غلط لگےگا اس کی مخالفت کروں گا، آپ مجھے بار بار جیل میں ڈالیے، لیکن کام وہی کیجیے جو آپ کا ہے۔
گرچہ اندور کا تجربہ ٹھیک نہیں رہا، لیکن لڑائی جاری رہے گی، اور اب دستور بچانے کے ساتھ ہندومسلم محبت کو زندہ رکھنے کے لئے بھی لڑنا پڑے گا؛ کیوں کہ بار بار اسے ہندو مسلمان کی لڑائی بتایا اور بنایا جارہا ہے، جب کہ لڑائی ہندوستانی دستور اور تہذیب کی ہے، جسے بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس میں کہیں بھی ہندو مسلمان نہیں ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*