میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے، ماں دیکھی ہے-محمد اکرام

— ماں ایک نور ہے جس کی روشنی سے ساری تاریکیاں دور ہوجاتی ہیں۔
— ماں ایک جگنو ہے جس کی چمک سے کائنات منور ہوجاتی ہے۔
— ماں ایک پھول ہے جو رہتی دنیا تک ساری کائنات کو مہکاتی رہے گی۔
— ماں ایک گیت ہے جسے بچہ گنگناتا رہتا ہے۔
— ماں قدرت کا ایک ایسا عطیہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔
— ماں ایک آہٹ ہے جس کے احساس سے ہی بچے کا چہرہ کھل اٹھتا ہے
— ماں ایک دعا ہے جس کی برکت مشکل راستوں کو بھی روشن کردیتی سے
الغرض کہ ماں وہ مقدس ہستی ہے جو زندگی کے تمام دکھوں کو اپنے آنچل میں چھپا لیتی ہے۔ اپنی پوری زندگی بچوں کی خوشیوں کے لیے قربان کردیتی ہے۔ ماں کو اپنے بچوں سے اس قدر پیارہوتا ہے کہ ان کی خاطر وہ پوری دنیا سے لڑنے پر آمادہ ہوجاتی ہے۔ماں کی دعا کا ہی ثمرہ تھا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی نے ڈاکوؤں سے نجات پائی۔
دنیا میں کسی بھی مذہب اور زبان سے تعلق رکھنے والا ماں کی عظمت کا منکر نہیں ہوسکتا۔ ہمارے ملک میں تو ماں کو تقدس اور وفا کی دیوی کہا جاتا ہے۔ اسی لیے 9 مئی کو ماں کی عظمت اور عطوفت کو خراج پیش کرنے کے یوم مادر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ عالمی طورپر یوم مادر کی کوئی ایک متعین تاریخ نہیں ہے، پھر بھی یہ دن الگ الگ ملکوں میں الگ الگ تاریخوں میں منایا جاتا ہے۔ کچھ ممالک میں مئی کے دوسرے اتوار کو تو کچھ ایسے ممالک ہیں جہاں کے لوگ یوم مادر جنوری، مارچ، اکتوبر یا نومبر کے مہینے میں مناتے ہیں۔
ایک روایت کے مطابق قدیم یونان سے یونانی دیوتاؤں کی ماں کے اعزاز میں یوم مادر منانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مدر ڈے کا آغاز ایک امریکی کارکن انا جاریوس سے ہوتا ہے۔ انا جاریوس کو اپنی ماں سے بے انتہا پیار تھا۔ جاریوس اپنی والدہ کے ساتھ رہتی تھی اور اس نے کبھی شادی نہیں کی۔ ماں کے انتقال کے بعد، اناجاریوس نے ماں سے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کرنے کے لیے مدرز ڈے کا آغاز کیا۔ تب سے ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو مدرز ڈے منایا جاتا ہے۔
مختلف ممالک اور اقوام کے پاس یوم مادر منانے کے اپنے اپنے طریقے ہیں۔ کچھ ممالک میں اگر یوم مادر کے موقع پر ماں کی عزت نہیں کی جاتی تو یہ جرم سمجھا جاتا ہے۔ کچھ ممالک میں اسے یہ ایک چھوٹے سے مشہور تہوار کی حیثیت حاصل ہے۔
ماں کا تقدس، عظمت اورفضیلت کا ذکر دنیا کی بیشتر زبانوں میں موجود ہے اور تمام زبانوں کے عالموں، فاضلوں، فلسفیوں اور شاعروں نے اپنے اپنے انداز میں ماں کو خراج محبت پیش کیا ہے۔ اردو میں بھی ماں کی عظمت اور اس کے بلند درجات پر نثر اور نظم دونوں اصناف میں بیش بہا سرمایہ موجود ہے۔ ماں پر کہی گئی غزلوں کے ذریعے جن شعرا نے اپنی الگ پہچان بنائی، ان میں منور رانا ،افتخار عارف، قیصر الجعفری، عباس تابش، سراج فیصل خان،تنویر سپرا، نظیر باقری، انجم سلیمی، سبط علی صبا، احمد سلمان، محمد علی ساحل، اسلم کولسری، عرفان صدیقی، اجمل اجملی، سید ضمیر جعفری، نواز دیوبندی، اقبال اشہر، راشد اعظمی، یوسف رامپوری وغیرہ کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ اردو کے یہ چند اشعار دیکھیں جن میں ماں مقدس رنگ و روپ اور پیکر میں نظر آئے گی ؎
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
(منور رانا)
ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
(عباس تابش)
کتابوں سے نکل کر تتلیاں غزلیں سناتی ہیں
ٹفن رکھتی ہے میری ماں تو بستہ مسکراتا ہے
(سراج فیصل خان)
اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے
(تنویر سپرا)
جنت کی کنجی ہے میری مٹھی میں
اپنی ماں کے پیر دباتا رہتا ہوں
(نواز دیوبندی)
مدتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل
مدتوں بعد ہمیں نیند سہانی آئی
(اقبال اشہر)
باپ کا ورثہ ہوا تقسیم بیٹوں میں مگر
ایک بوڑھی ماں کسی کے حصے میں آئی نہیں
(راشد اعظمی)
چاہیے گر سکون اے یوسف
ماں کے قدموں میں اپنا سر رکھیے
(یوسف رامپوری)
ماں کے تعلق سے شاعر مشرق علامہ اقبال کی نظم ’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘ کون بھول سکتا ہے۔علامہ اقبال کے علاوہ سیکڑوں شاعروں نے ماں پر نظمیں لکھی ہیں، اس وقت میرے ذہن میں جو نام گردش کررہے ہیں ان میں علی سردار جعفری، افسر میرٹھی، پیام اعظمی، رضا سرسوی، پروفیسر قمر رئیس، ندا فاضلی، خالد بن سہیل، عبدالرشید اعظمی،حقانی القاسمی، وفا اعظمی وغیرہ نے بہترین نظمیں لکھی ہیں۔ مشہور شاعر ندا فاضلی نے ماں کے حوالے سے ایک بے حد جذباتی اور حقیقت پر مبنی نظم لکھی تھی، پیش ہے وہ نظم ؎
بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹی چٹنی جیسی ماں
یاد آتی ہے! چوکا باسن چمٹا پھکنی جیسی ماں
بانس کی کھری کھاٹ کے اوپر ہر آہٹ پر کان دھرے
آدھی سوئی آدھی جاگی تھکی دوپہری جیسی ماں
چڑیوں کی چہکار میں گونجے رادھا موہن علی علی
مرغے کی آواز سے بجتی گھر کی کنڈی جیسی ماں
بیوی بیٹی بہن پڑوسن تھوڑی تھوڑی سی سب میں
دن بھر اک رسی کے اوپر چلتی نٹنی جیسی ماں
بانٹ کے اپنا چہرہ ماتھا آنکھیں جانے کہاں گئی
پھٹے پرانے اک البم میں چنچل لڑکی جیسی ماں
کچھ شاعروں نے گیت بھی لکھے ہیں، جن میںآرزو لکھنوی، ندا فاضلی، طاہر فراز وغیرہ کے نام لیے جاسکتے ہیں۔طاہر فرازکا ایک گیت ’مائی‘ بہت مشہورہوا تھا:
عنبر کی یہ اونچائی دھرتی کی یہ گہرائی، تیرے من میں ہے سمائی
مائی، او مائی!
تیرا من امرت کا پیالہ، یہی کعبہ یہی شوالہ،تیری ماتاجیون دائی
مائی، او مائی!
شاعری کے علاوہ نثر میں بھی ماں کی محبت اور عظمت کے حوالے سے بہت سے شاہکار پیش کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں سلمی کنول، بختیار ثاقب، قدرت اللہ شہاب، حکیم محمد طارق محمود، حنیف عبدالمجید، حقانی القاسمی، غلام حسن قادری، نایاب حسن وغیرہ کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ حقانی القاسمی نے اپنی کتاب ’ادب کولاژ‘ میں ’ماں—تحرک اور توانائی کا جمالیاتی استعارہ‘ کے نام سے ایک مضمون تحریر کیا ہے جس میں انھوں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آج کائنات میں جو نور اور روشنی ہے وہ ماں کی بدولت ہے۔کائنات میں اگر ’ماں‘ کا وجود نہ ہوتا تو شاید یہ کائنات بے نور ہوتی۔ اس تعلق سے یہ اقتباس ضرور پڑھیں:
’’دنیا کی سب سے خوبصورت نظم ’ماں‘ ہے۔
ماں ہی جمالیات کی معراج ہے اور سرچشمہ بھی۔ جمالیات کی ساری کرنیں،شعاعیں، لہریں ماں سے ہی منسوب ہیں۔ زندگی اور کائنات کی ساری کیفیتیں ماں کے وجود سے ہی ہیں۔ ماں نہ ہو تو زندگی بے رس، بے رنگ اور بے کیف ہوجاتی ہے اور یہی ایک ایسا وجودی عنصر ہے جس سے انسانی کائنات میں رنگ، نور اور روشنی ہے۔‘‘ (ادب کولاژ: حقانی القاسمی، عرشیہ پبلی کیشنز، نئی دہلی،2014، ص 198)
ماں کو عربی زبان میں ’اُم‘ کہتے ہیں۔ یہ لفظ قرآن مجید میں 84 جگہوں پر آیا ہے، اسی ’ اُم‘ کی جمع ’امہات‘ ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں گیارہ مرتبہ آیا ہے۔ دیگر زبانوں میں ماں کو اماں، امی، ممی، مما، ماما، مادر، ماتا، مائی وغیرہ سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
قرآن و حدیث میں بھی ماں کی بہت عظمت بیان کی گئی ہے۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ ’’ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے‘‘ آپؐ نے ماں کے درجے کو اس قدر اعلیٰ مقام کا حامل بتایا ہے کہ ماں کی اطاعت و فرماں برداری سے جنت کے راستے آسان ہوجاتے ہیں۔
والدین کی عظمت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ خالق کائنات نے اپنی عبادت کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور خدمت کا حکم دیا ہے۔ حدیثوں سے بھی ماں کی فضیلت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک حدیث شریف میں ہے:
.1 ایک آدمی رسول خدا کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ماں باپ میں سے کون زیادہ حقدار ہے جس کے ساتھ میں نیک سلوک کروں؟ تو آپ نے فرمایا : تمھاری ماں۔ اس نے دوبارہ پوچھا کہ ماں کے بعد؟ تو آپ ؐ نے جواب دیا تھاری ماں۔ اس نے پھر پوچھا اس کے بعد؟ پھر بھی آپ ؐ نے جواب دیا کہ تمھاری ماں۔ اس نے وہی سوال پھر دوہرایا تو آپؐ نے فرمایا تمھارا باپ۔ (بخاری، مسلم)
حدیثیں اور بھی ہیں لیکن یہاں ان کی گنجائش نہیں۔ ان حدیثوں میں ماں کی عظمت، اہمیت، معنویت اور قدر و منزلت بیان کی گئی ہے، لیکن آج کے دور میں بچے قرآن و حدیث کی ہدایات اور احکامات سے روگردانی کررہے ہیں اسی لیے آئے دن اخبارات میں ایسی وحشت ناک خبروں پر نظر پڑتی ہے کہ پورے وجود پر ایک وحشت سی طاری ہوجاتی ہے اور یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ مادّیت کے اس دور میں ماں کی کوئی قدر و قیمت اور اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔ حال یہ ہے کہ والدین جب بڑھاپے کی منزل میں ہوتے ہیں تو بیٹے اپنے والدین کو آشرم میں چھوڑ آتے ہیں یا ایسی جگہ بھیج دیتے ہیں جہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ وہاں ان کی زندگی بڑی تکلیف میں گزرتی ہے۔بوڑھے ماں باپ کی آنکھیں اپنے پیارے بچوں کے انتظار میں تھک جاتی ہیں مگر یہ لاڈلے اپنے ماں باپ کی خیریت تک پوچھنے کے لیے بھی روادار نہیں ہوتے ، یہ ہمارے مارڈن اور ترقی یافتہ سماج کا بہت بڑا المیہ ہے!
پیارے بچو! ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہماری شناخت، ہمارا وجود ماں سے وابستہ ہے۔ ماں کو یاد کرنے کا کوئی ایک خاص دن معین نہیں ہے۔ سال کے بارہ مہینے اور 365 دن سب کے سب ماں سے ہی منسوب ہیں کیونکہ ماں کے بغیر ہر دن کا وجود بے معنی ہے!