میں،تم اور یہ کائنات – خلیل جبران

ترجمہ:نایاب حسن

(۱)
محبت(میں ناکامی) کا غم گنگناتا ہے،علم و معرفت(کے حصول میں نامرادی) کا غم بولتا ہے،خواہشات(کی عدمِ تکمیل) کا غم سرگوشی کرتا ہے اور فقر و فاقے کا غم نالہ و فریاد کرتا ہے؛لیکن ایک اور بھی غم ہے،جو محبت سے زیادہ گہرا،علم و معرفت سے زیادہ بالابلند، خواہشات سے زیادہ قوی اور فقر و فاقہ سے زیادہ تلخ ہے،مگر وہ گونگا ہے،اس کے اندر قوتِ اظہار نہیں ہے،البتہ اس کی آنکھیں ستاروں کے مانند چمکتی رہتی ہیں۔
(۲)
اگر آپ اپنے پڑوسی کو اپنا دکھ بتاتے ہیں،تو گویا اسے اپنے دل کا ایک ٹکڑا سونپتے ہیں،اب اگر وہ وسیع الظرف ہوگا،تو اس کی قدر کرے گا(اسے دور کرنے میں مدد کرے گا) اور اگر خسیس النفس ہوگا،تو آپ کی تحقیر کرے گا(اس کی تشہیر کرے گا اور کوئی مدد بھی نہیں کرے گا)۔
(۳)
ترقی یہ نہیں ہے کہ اپنے ایامِ گزشتہ کی ملمع سازی کرتے رہیں،ترقی مستقبل کی طرف پیش رفت کرنے میں ہے۔
(۴)
عاجزی ایک نقاب ہے جو کبر و غرور کے آثار کو چھپاتا ہے اور دعا ایک پردہ ہے،جو مصائب اور آپ کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔
(۵)
جب ایک جنگلی انسان کو بھوک لگتی ہے تو وہ سیدھے درخت سے پھل توڑ کر کھاتا ہے اور اگر کسی متمدن،شہری انسان کو بھوک لگتی ہے،تو وہ اسی پھول کو اُس شخص سے خریدتا ہے،جس نے اسے توڑنے والے سے خریدا ہوتا ہے۔
(۶)
آرٹ موجود سے ناموجود کی طرف قدم بڑھانے کا نام ہے۔
(۷)
بعض لوگ زبردستی میری امانتیں اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں؛تاکہ وہ میرے درگذر اور مہلت سے لطف اندوز ہوں۔
(۸)
جب بھی مجھے کسی کا راز معلوم ہوا،تو وہ مجھے اپنا مقروض سمجھنے لگا۔
(۹)
زمین جب اپنا سانس باہر کو چھوڑتی ہے،تو ہم اُگ آتے ہیں اور جب وہ سانس اندر کو کھینچتی ہے تو ہم پر موت طاری ہوجاتی ہے۔
(۱۰)
انسان کی آنکھ ایک مائیکروسکوپ ہے،جس میں دنیا حقیقت سے زیادہ بڑی دکھائی دیتی ہے۔
(۱۱)
میں اُس شخص سے بری ہوں،جو چرب زبانی کو علم ریزی،خاموشی کو جہالت اور ریاکاری کو فنکاری سمجھتا ہے۔
(۱۲)
بسااوقات کسی معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے جس راستے کو ہم مشکل سمجھتے ہیں،وہ فی الحقیقت سب سے آسان ہوتا ہے۔
(۱۳)
لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ اگر تم کسی غلام کو سوتا ہوا دیکھو تو اسے بیدار مت کرو؛کیوں کہ ہوسکتا ہے وہ اپنی آزادی کا خواب دیکھ رہا ہو،مگر میں جب کسی غلام کو سوتا ہوا دیکھتا ہوں،تو اسے بیدار کرکے اسے آزادی کی اہمیت و معنویت سمجھتا ہوں۔
(۱۴)
ذہانت کا کمترین درجہ ناحق کی مخالفت ہے۔
(۱۵)
خوب صورت شے ہمیں اپنا اسیر کرلیتی ہے جبکہ خوب صورت ترین شے ہمیں آزاد کردیتی ہے،اپنے آپ سے بھی۔
(۱۶)
حوصلہ مندی ایک آتش فشاں ہے، جس کی چوٹی پر تردد اور پس و پیش کی جھاڑیاں نہیں اگتیں۔
(۱۷)
ادیب کی تخلیق فکر اور جذبات کے سانچے میں ہوتی ،پھر اسے قوتِ کلام دی جاتی ہے، جبکہ ایک محقق کے اندر قوتِ کلام زیادہ ہوتی ہے،فکر و جذبات کم ہوتے ہیں۔
(۱۸)
کھاتے تیز ہو اور چلتے آہستہ ہو،پھر پاؤں سے کھایا کرو اور ہتھیلی کے بل چلا کرو!
(۱۹)
آپ کی خوشی یا تکلیف جس قدر عظیم ہوگی،دنیا آپ کی نگاہوں میں اتنی ہی چھوٹی ہوگی۔
(۲۰)
علم آپ کے اندر موجود بیجوں کو پودے میں تبدیل کرتا ہے،وہ باہر سے آپ کے اندر کوئی بیج نہیں ڈالتا۔
(۲۱)
میں نے کسی سے دشمنی صرف اپنے دفاع کے لیے کی؛لیکن اگر میں کمزور نہ ہوتا تو اپنے دفاع کے لیے اس قسم کا ہتھیار استعمال نہ کرتا۔
(۲۲)
محبت ایک دائمی حرکت پذیر سعادت ہے۔
(۲۳)
لوگ مجھے تیز نگاہ اور دور بیں سمجھتے ہیں،اصل بات یہ ہے کہ میں انھیں چھلنی کی جالیوں سے دیکھتا ہوں۔
(۲۴)
مجھے اس وقت وحشت اور تنہائی کی تکلیف کا اندازہ ہوا جب لوگوں نے میرے کھلے ہوئے عیوب کی تعریفیں کیں اور پوشیدہ خوبیوں پر طعنہ زنی کرتے رہے۔
(۲۵)
انسانوں میں بہت سے ایسے قاتل ہوتے ہیں،جنھوں نے فی الحقیقت کسی کو نہیں مارا،ایسے چور بھی ہوتے ہیں،جنھوں نے واقعی کبھی چوری نہیں کی اور کچھ ایسے جھوٹے بھی ہوتے ہیں،جو ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔
(۲۶)
جس سچائی کو ثابت کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت پڑے،وہ آدھی سچائی ہے۔
(۲۷)
مجھے ایسی حکمت و دانش کی ضرورت نہیں ،جو دل میں گداز نہ پیدا کرے،ایسے فلسفے کی ضرورت نہیں،جو فرحت بخش نہ ہو،نہ ایسی عظمت کی چاہت ہے،جس کا سر بچوں کے سامنے خم نہ ہوتا ہو۔
(۲۸)
اے جہانِ دانش!جو مظاہرِ کائنات سے ڈھکا ہے،جو اس کائنات کی وجہ سے، اس کائنات میں ،اس کائنات کے لیے بنا ہے،تم مجھے سن رہے ہو؛ کیوں کہ تم میرا عرصۂ موجود ہو،تم مجھے دیکھتے ہو؛کیوں کہ تم ہر زندہ شی کی بینائی ہو،میری روح میں اپنی دانش کا کوئی بیج ڈالو،جو تمھارے جنگل کے بیچوں بیچ ایک ثمردار پودے کی شکل میں نمودار ہوـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*