میں فیس بک پر نہیں ہوں، پابندی کیسے لگ سکتی ہے:راجہ سنگھ

نئی دہلی:نفرت انگیز موادکے لیے جمعرات کے روز فیس بک کی جانب سے پابندی عائد ہونے کے بعد تلنگانہ بی جے پی کے ممبر اسمبلی ٹی راجہ سنگھ نے دعویٰ کیاہے کہ ان کا ایک سال سے فیس بک پر اکاؤنٹ نہیں ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کمپنی کانگریس کے دباؤمیں کام کر رہی ہے۔ راجہ سنگھ نے سابق صدر کانگریس راہل گاندھی پر بھی الزام لگایا کہ وہ سوشل میڈیا فورمزکے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے خلاف جھوٹے بیانات دے رہے ہیں۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے واحد رکن اسمبلی سنگھ نے دعویٰ کیاہے کہ اپریل 2019 سے ان کا کوئی فیس بک اکاؤنٹ نہیں ہے اورجس پیج پر حال ہی میں فیس بک نے پابندی عائد کی ہے ، وہ شاید ان کے چاہنے والوں نے بنائی ہے۔ نفرت انگیزتقاریرسے متعلق اپنی پالیسی پر پچھلے دنوں تنقید کا سامنا کرنے والے فیس بک نے جمعرات کو کہا کہ اس نے راجا سنگھ کو فیس بک اور انسٹاگرام پر تشدد اور نفرت کو فروغ دینے والے مواد کے بارے میں اپنی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پرپابندی عائد کردی ہے۔اس پر سنگھ نے پوچھا ہے کہ کیا فیس بک کانگریس پارٹی کے دباؤمیں کام کررہی ہے؟ انہوں نے بتایاکہ انہوں نے 8 اکتوبر2018 کو حیدرآباد پولیس کے سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ کو ایک خط لکھا تھا کہ ان کا آفیشل فیس بک پیج ہیک ہوگیا ہے۔انہوں نے ایک نیا پیج شروع کیاہے جو اپریل 2019 میں ہٹا دیا گیا تھا۔