میں بھی موہن بھاگوت کے ساتھ ہوں ـ خورشید انور ندوی

میں بھی بھاگوت جی کے ساتھ ہوں،
کسی کے ساتھ کھڑے ہونے کا مطلب اس کی برابری نہیں ہوتا، نہ ہی اس کی مکمل ہم نوائی ہوتی ہےـ کبھی کبھی ساتھ تو ہوتا ہے لیکن ساتھ ہونے کا مقصد جدا ہوتا ہے،کل آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت جی نے ایک مرتبہ پھر اکھنڈ بھارت کی بات کہی، موقع ایک آر ایس ایس کے مہاشے کی سنسکرت کتاب کی رسم اجرا کا تھا اور مقام اجرا شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد تھاـ اکھنڈ بھارت کا خواب، پہلے سلوگن تھا جو بڑا خیال آفریں تھا، ہندو عظمت رفتہ کی بحالی کی خواہش کو منعکس کرتا تھا اور ساتھ ہی خیالوں میں وسیع حکمرانی، برتر تہذیب اور سارے علاقے کی موہوم یک رنگی کی داستان سناتا تھاـ
میں موہن بھاگوت جی کے ساتھ اکھنڈ بھارت کے خواب اور اس خواب کی تعبیر میں ساتھ کھڑا ہوں، لیکن میرا مقصد، میرا خواب اور میری تعبیر اتنی گنجلک دھندلی اور بے تصویر نہیں بلکہ بالکل واضح نکھری اور شفاف ہےـ میں یہ سوچتا ہوں کہ اگر اکھنڈ بھارت بن جائے اور اس میں افغانستان جیسا ملک شامل نہ بھی ہو، صرف پاکستان اور بنگلہ دیش شامل ہوجائیں تو میرا ہدف پورا ہوجاتا ہےـ اگر بھارت میں موجود پچیس کروڑ مسلم آبادی میں مزید پچاس کروڑ مسلمان ضم ہوجائیں تو میری موب لنچنگ اسی دن رک جائے گی ـ این آر سی کا ہوا ختم، میرے خلاف قانون سازی کی کسے مجال،فوج عدلیہ مقننہ سے مجھے کیا خدشات؟ مجھے موہن بھاگوت کے خواب میں اپنا خواب دکھتا ہے، لیکن مجھے لگتا ہے وہ اپنی اس خواہش میں قطعی سچے نہیں ـ مجھے ان کی نیت میں کھوٹ دکھتا ہے اور اس منصوبے پر کبھی کام نہیں کریں گےـ یہ تاریخ کا فیصلہ ہے جو ماضی میں لکھا گیا، حال یہی ہے اور مستقبل اس کے سوا کچھ نہیں ـ اکھنڈ بھارت کسی کے لیے جیسا بھی ہو میرے لیے خوابوں کی دنیا، سہانے سپنوں کا سنسار ہے، کیوں کہ میں اس میں آج کے بھارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ بلکہ طاقتور ہوں گاـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*