میں بھی "کیپٹن اسمتھ” ہوں ۔ ایم ودود ساجد

مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع کے دو وکیلوں نے ممبئی ہائیکورٹ میں ایک رٹ دائر کرکے مطالبہ کیا کہ ججوں’ عدالتی افسروں اور وکیلوں کو بھی ‘فرنٹ لائن ورکرس’ قرار دے کر انہیں ترجیحی بنیاد پر کورونا ویکسین لگائی جائے ۔

یہ رٹ ممبئی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس دیپانکر دتّا کی بنچ کے سامنے پیش کی گئی ۔چیف جسٹس نے سماعت شروع ہوتے ہی جو بات کہی وہ دِل کے اندر تک گھر کر گئی ۔ انہوں نے رٹ دائر کرنے والے وکلاء سے کہا:

"… کیا آپ نے انگریزی فلم Titanic دیکھی ہے؟ کیا آپ کو سمندری جہاز کا کپتان یاد ہے؟ کیپٹن اسمتھ۔ جب جہاز خراب موسم کا شکار ہوجاتا ہے تو کیپٹن کیا کرتا ہے؟ جہاز چھوڑ کر جانے والا وہ سب سے آخری فرد ہوتا ہے ۔اُسے سب سے آخر میں ہی جہاز چھوڑنا چاہیے۔ میں یہاں (ہائی کورٹ) کے جہاز کا کپتان ہوں ۔پہلے معاشرہ کا نمبر ہے’ پھر میرے عدالتی افسران کا اور سب سے آخر میں’ میرا”ـ

وکیل یشودیپ دیشمکھ نے کہا کہ سیاستدانوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر ویکسین لگائی جارہی ہے۔ انہوں نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کےلیے مزید کئی دلیلیں پیش کیں،مگر جسٹس دتّا اپنے موقف پر قائم رہے۔انہوں نے کہا:

"… اس میں کوئی شک نہیں کہ خطرہ ہے۔ ہمیں محتاط رہنا چاہیے۔ لیکن آپ رٹ دائر کرکے عدالت سے ہی عدالت کیلئے راحت مانگ رہے ہیں”ـ

عدالت نے بہر حال سرکار سے پوچھا کہ آخر ویکسین لگانے کی اہلیت کا کیا معیار طے کیا گیا ہے،کیونکہ آج کل ڈاکٹروں سے تشخیص لکھوانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

مجھے چیف جسٹس دیپانکر دتّا کی بات سن کر خیال آیا کہ Titanic خراب موسم کا شکار ہوتا ہے تو اس کا کپتان مسافروں کی فکر پہلے کرتا ہے اور جب سب محفوظ مقام پر اترجاتے ہیں تب سب سے آخر میں خود اُترتا ہے۔لیکن ایک ہمارا "چوکیدار” ہے جو ایسے وقت میں بھی کروڑوں شہریوں سے پہلے خود ویکسین لگواتا ہے کہ جب پورے ملک کی کشتی گرداب میں ہے اور ملک خطرناک طوفان کے تھپیڑے کھا کھاکر ادھ مرا ہوگیا ہے۔

مجھے اس موقع پر اپنا ایک ذاتی تجربہ یاد آتا ہے۔1998 سے 2005 تک راشٹریہ سہارا میں ملازمت کے دوران جب بھی ایڈیٹر صاحب میری کسی ” گستاخی” پر ناراض ہوکر مجھے سزا کے طور پر نائٹ شفٹ کا انچارج بنادیتے تو میں اسے اپنے لئے "جزا” تصور کرتا اور نائٹ شفٹ کے باقی اسٹاف کیلئے خود کو "کیپٹن اسمتھ” سمجھتا۔میں عملاً یہی رول ادا کرتا بھی تھا۔

مثال کے طور پر نصف شب کے بعد جب عملہ کو لے کر سہارا کا ٹرانسپورٹ ان کو ان کے گھروں کو چھوڑنے کیلئے نکلتا تو اپنی منزل پہلے پڑنے کے باوجود میں دور دراز کے علاقوں میں مقیم اپنے ساتھیوں کو پہلے چھوڑتا۔ اس طرح میں تہجد کے وقت ہی گھر پہنچتا۔میں الله کا شکر ادا کرتا کہ ایڈیٹر صاحب نے جو ذمہ داری مجھے سزا کے طور پر دی وہ میرے لئے راحت کا سامان بن گئی ۔ساتھیوں کا خیال رکھنے کی راحت۔ رات کے سناٹے میں اپنے خالق کے سامنے گڑگڑانے کی راحت۔

1990 سے 1998 کے درمیان کا ہفت روزہ نئی دنیا کا "سفر” بھی بہت یادگار رہا۔ اس مدت میں زیادہ عرصہ تک میں ہی انچارج رہا۔شاہد صدیقی صاحب سے بہت کچھ سیکھا۔انہوں نے مجھ پر بہت اعتماد کیا۔میں نے اپنے ساتھیوں کی غلطیوں پر ہنس کر تنبیہ کردی لیکن ایڈیٹر یا مینجمنٹ سے کبھی شکایت نہیں کی۔کسی کی ترقی نہیں روکی۔اپنے کھلے مخالفین سے بھی انصاف کیا۔

یادیں بہت ہیں۔ لیکن آج صرف اسی پر اکتفا کہ میں جہاں بھی رہا میں نے Titanic کے کیپٹن اسمتھ کا کردار ادا کیا۔ سچی بات یہ ہے کہ کیپٹن اسمتھ نے یہ کردار خالق کائنات کے سب سے محبوب اور افضل الانبیاء سے مستعار لیا تھا۔ اللہ کے رسول صلی الله عليه وسلم نے فرمایا : سیّدُ القومِ خادمہم ۔۔ قوم کا سردار ان کا خدمت گزار ہوتا ہے۔۔۔ آج جسٹس دتّا کا یہی کردار دیکھ کر دل بھر آیا۔خدا انہیں ایمان کی دولت سے سرفراز کردے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*