میلان کنڈیرا کی تین کتابیں ـ رضوان الدین فاروقی

ابراہم لنکن کا مشہور مقولہ ہے کہ:
میرا بہترین دوست وہ ہے جو مجھے ایسی کتاب تحفے میں دے جس کا میں نے ابھی تک مطالعہ نہیں کیاـ

اس قول کو ہندوستان میں کس نے عملی طور پر سچا کر دکھایا ہے تو وہ اشعر نجمی صاحب کی ذات گرامی ہے جن کے ذریعے ہم نہ صرف یہ کہ ہندوستان کی وہ کتابیں پڑھ رہے ہیں جو ابھی تک نہیں پڑھی تھیں بلکہ عالمی ادب کے بہترین اور نمایاں فکشن نگاروں کی بہترین کتابوں سے ان کے ذریعے روشناس ہورہے ہیں ـ اس طرح وہ ہم سب اردو والوں کے بہترین دوست بن گئے ہیں ـ ہم لوگ پڑوسی ملک کے دوستوں کے ذریعے نشر کی گئی کتابوں کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے تھے کہ کاش ہمارے پاس بھی یہ کتابیں ہوتیں مگر جب اشعرنجمی صاحب نے اپنے اشاعتی ادارے کے ذریعے ہمارے اس سپنے کو ساکار کردیا تو ہم انھیں کتابوں سے منھ موڑ کر بیٹھ گئے ہیں ـ وہ ہمیں لگاتار تحفے کی صورت میں دن رات ایک کرکے اتنی عمدہ کتابوں سے متعارف کروا رہے ہیں اور اپنے ادارے سے انھیں شائع کررہے ہیں اور ہم ہیں کہ ان کتابوں کو خریدنے کو تیار ہی نہیں ـ اس بار انھوں نے ادبی تحفے کی صورت میں جس عالمی شہرت یافتہ ادیب اور فکشن نگار کی کتابیں شائع کی ہیں اس کو دنیا میلان کنڈیرا کے نام سے جانتی ہے جو غالباً ہر فکشن سے محبت کرنے والے کے لیے جانا پہچانا نام ہےـ میں نے تو اپنے مطالعے کی وسعت اور اپنی لائبریری کی زینت میں اضافہ کے لیے ان قیمتی کتب کو منگوا لیا ہےـ اب دیکھنا ہے کہ ہمارے کتنے ادب دوست احباب ان قیمتی کتابوں کو اثبات پبلی کیشنز سے منگواتے ہیں ـ

آئیے اب میلان کنڈیرا اور ان تین بیش قیمتی کتب کے حوالے سے کچھ بات ہوجائےـ میں نے میلان کنڈیرا کو جس کتاب کے ذریعے جانا وہ معروف فکشن نگار خالد جاوید کی کتاب "میلان کنڈیرا” ہےـ اسی کتاب سے چند باتیں باذوق قارئین کے گوش گزار کیے دیتا ہوں ـ

میلان کنڈیرا کے یہاں کسی قسم کا کوئی منظم فلسفہ نہیں پایا جاتا مگر اس کے ناولوں کو Novel of Debate کا عنوان دیا جا سکتا ہے جس کا سب سے نمایاں عنصر ایک سوچتی ہوئی آواز ہےـ

جیسے جیسے میں کنڈیرا کو پڑھتا گیا ویسے ویسے میں اس کا شیدائی ہوتا گیا، آج وہ میرا محبوب ناول نگار ہے اور میری پسند کے عالمی ادیبوں کی اسی صف میں شامل ہے جن میں پارلاگر کوئست، سیلا، مارکیز، کارلوس فیونتیس اور حوزے ساراماگو شامل ہیں ـ

میلان کنڈیرا کے فکشن کو پڑھنا سہل پسند قاری کے لیے آسان نہیں ہےـ اس کا اسلوب مارکیز یا سارا ماگو کی طرح قصہ گوئی پر مبنی نہیں ہےـ ساراماگو کے زبانی بیانیہ کے برعکس کنڈیرا کا بیانیہ ایک مکمل تحریری بیانیہ ہے جس میں کہانی پن کی کوئی ڈکٹیٹر شپ قائم ہوتی نہیں نظر آتی ـ جگہ جگہ مصنف کی مداخلت اور فلسفیانہ تھیم آپس میں گتھے ہوئے نظر آتے ہیں ـ انسانی وجود کی کسی پوشیدہ جہت کو دریافت کرنا میلان کنڈیرا کی ناول نگاری کا اولین مقصد ہےـ اگرچہ اس کے فکشن کو سیاسی یا نیم سیاسی دستاویز کی طرح پڑھنے کا رواج بھی عام ہے مگر خود میلان کنڈیرا کو یہ گوارا کبھی نہیں رہاـ
اس میں شک نہیں کہ وہ ایک مشکل فکشن نگار ہے وہ سنجیدہ سے سنجیدہ قاری کو بھی تھکا مارتا ہےـ مگر یہ تھکن بوجھل نہیں کرتی ـ یہ ایک روحانی تجربے سے گزرنے کے مانند ہےـ ہم اپنے اندر ایک چمک سی محسوس کرتے ہیں ـ افسردہ سی چمک بہت کچھ جان جانے کی روشنی جس میں ہم خود کو جگمگاتا ہوا محسوس کرتے ہیں ـ اسی روشنی کا نام ناول ہے، مگر نہ ایسے ناول روز روز لکھے جاتے ہیں اور نہ ایسے ناول نگار ہمیشہ پیدا ہوتے ہیں ـ کارلوس فیونتیس نے بالکل ٹھیک لکھا ہے :
” میلان کنڈیرا جدید عہد میں گوگول اور کافکا کے عظیم ورثے کا اکلوتا وارث ہےـ”
میلان کنڈیرا پر گفتگو کے بعد لازم ہوجاتا ہے کہ ان تین ناولوں کا بھی مختصر تعارف ہوجائے جن کی تمہید میں یہ اہم باتیں لکھی گئیں ہیں ـ

ناول کا فن
ترجمہ : ارشد وحید

اس کتاب کے حوالے سے خود میلان کنڈیرا لکھتا ہے کہ نظریات کی دنیا میری دنیا نہیں ہے۔ یہ محض ایک ناول نگار کے خیالات ہیں۔ ہر ناول نگار کی تحریروں میں ناول کی تاریخ کا یک واضح تصور موجود ہوتا ہے یعنی یہ تصور کہ ناول کیا ہے؟
اس کتاب میں میرے ناولوں میں موجود ’ناول کے تصور‘ کو بیان کیا گیا ہے۔ کتاب میں موجود سات ابواب کو ۱۹۷۹ اور ۱۹۸۵ کے درمیان تحریر کیا گیا۔ گو کہ یہ مختلف اوقات میں لکھے گئے، لیکن میں نے انھیں بالآخر ایک ہی کتاب میں مرتب کرنے کے حوالے سے سوچا تھا۔ یہ سب ۱۹۸۶ میں ممکن ہوسکا۔

خالد جاوید اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ ناول کے فن اور اس کی تاریخ سے بحث کرنے والی یہ مشہور کتاب سب سے پہلے 1986میں فرانسیسی زبان میں شائع ہوئی ـ کنڈیرا اپنی علمی نوعیت کی کتابوں میں سب سے زیادہ اس تصنیف کو پسند کرتا ہےـ اسے اس کتاب سے ایک جذباتی اور ذاتی قسم کا لگاؤ ہےـ شاید یہ اس لیے کہ 1960 میں اس نے اسی عنوان سے ایک مضمون بھی لکھا تھا جو چیک ناول نگار Vladislav vancura کے بارے میں تھاـ آرٹ آف دی ناول کی انفرادیت اس بات میں ہے کہ وہ کسی پیشہ ور نقاد کے انداز نظر کی عکاسی نہیں کرتی ہے یہ ایک ناول نگار کے ناول کے بارے میں ذاتی نظریات کی نمائندگی کرتی ہےـ جس طرح ڈی،ایچ لارنس نے ناول کے بارے میں مضامین لکھے تھے، یہ اس سے ملتی جلتی چیز ہونے کے باوجود اس سے بہت مختلف ہے، کیوں کہ یہ ناول نگاری کی اس روایت پر اصرار کرتی ہے جو انیسویں صدی میں تقریباً بھلادی گئی ـ ناول کے فن پر میلان کنڈیرا کی اس تصنیف کو ایک شاہکار کا درجہ حاصل ہےـ انگریزی میں ترجمہ ہونے کے بعد اس کی مقبولیت میں اور بھی زیادہ اضافہ ہوا ہےـ
آرٹ آف دی ناول کو پڑھنے کے بعد میلان کنڈیرا کے ناول اور کہانیاں قاری پر تفہیم کے نئے در کھول سکتی ہیں کیوں کہ جیسا کہ عرض کیا گیا کہ یہ کتاب ناول کی ایک متوازی تاریخ سے بحث کرتی ہے اور مصنف کا ذاتی مگر بصیرت آموز نظریہ پیش کرتی ہے۔

بقائے دوام
ترجمہ: ارشد وحید

انور سن رائے کے بقول "بقائے دوام” روانی سے ایک نشست میں پڑھا جانے والا ناول نہیں ہے۔ اس میں اکثر جملے اور پیراگراف روکتے اور غور کرنے پر اکساتے ہیں۔ شاید اس لیے نہیں کہ اس کا جوہر کہانی یا کرداروں کی مجموعی زندگیوں میں نہیں بلکہ واقعات، ان کی ماہیت اور پس منظر میں موجود محرک میں ہوتا ہے۔ کرافٹ اور ساخت کے اعتبار سے ناول پر بہت سے اور سوال اٹھائے جا سکتے ہیں لیکن یہاں اس کا موقع نہیں ہے۔ یہ ناول ۱۹۸۸ میں لکھا گیا، ۱۹۹۰ میں اس کا فرانسیسی ترجمہ شائع ہوا۔

خالد جاوید اس ناول کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ میلان کنڈیرا کا یہ بے حد اہم ناول 1990 میں شائع ہوا۔ وسطی یوروپ کی جھلکیاں اس ناول میں بھی موجود ہیں مگر بالواسطہ طور پر مرکزی کردار فرانس کے ماحول اور فضا میں سانس لیتے نظر آتے ہیں۔ میلان کنڈیرا ناول لکھنے کے لیے ہمیشہ ایک Thesis بناتا ہے پھر اُسی پر بحث و مباحثہ شروع ہوتا ہے۔ اس مباحثے میں ناول نگار خود بھی موجود رہتا ہے۔ یوروپین ناول کی پوری تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ کلاسیکی دور میں اس قسم کے ناول کو ’’Novel as a debate‘‘ کہا جاتا تھا۔ Immortality کو شاید کنڈیرا کے تمام ناولوں میں سب سے زیادہ Novel as a Debate کا عنوان دیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ اس کتاب میں بھی جگہ جگہ Kitsch، Lightness اوبر Lyricism سے بحث کی گئی ہے مگر بنیادی تھیم ’’ابدیت‘‘ ہی رہتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح اُس کی اس تصنیف میں بھی فکشن کا کثیر الاصوات (Polyphonic) بیانیہ پایا جاتا ہے۔ جگہ جگہ اس کتاب پر ادبی یا فلسفیانہ مضامین کے مجموعے کا بھی التباس ہوتا ہے مگر دراصل یہ ایک ایسا ناول ہے جس میں وحدت کا تصور صرف تھیم سے پیدا کیا گیا ہے۔ یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ گزشتہ صفحات میں کئی جگہ اس امر کا اعتراف کیا جاتا رہا ہے کہ کنڈیرا کے ناولوں کی تلخیص ممکن نہیں ہے یہ شاید اس لیے بھی ہے کہ وہ شعوری طور پر یہ کوشش کرتا ہے کہ اُس کا ناول ’’ہم عصر ناول‘‘ کی اُس کسوٹی پر پورا اترے جس کے مطابق، ناول کی کہانی چند جملوں میں نہ بیان کی جاسکے۔ اسی لیے وہ Variations (جو موسیقی کی اصطلاح کے طور پر استعمال کی گئی ہے) کے ذریعے اپنے ناول کے اسٹرکچر کو بہت پیچیدہ بنا دیتا ہے جس میں ناول کے کردار ایک ہی تھیم کا، مختلف زاویوں سے تجزیہ کرتے رہتے ہیں۔ ’’تھیم‘‘ کا انتخاب میلان کنڈیرا مشرقی یوروپ میں اپنے تکلیف دہ تجربوں اور مغرب میں خود کو ایڈجسٹ کرنے کی جدوجہد کی روشنی میں کرتا ہے۔

پہچان
ترجمہ: محمد عمر میمن

پہچان (Identity) میلان کنڈیرا کا ایک مختصر ناول ہے جو ۱۹۹۸ میں شائع ہوکر منظر عام پر آیا۔ مختصر ہونے کے باوجود اپنے مواد کی نوعیت سے Identity ایک بہت ہی گمبھیر اور رمز سے بھرا ناول ہے۔ اسے انسانی وجود کی پوشیدہ جہات کو پیش کرنے والا ایک مہاکاویہ کہا جاسکتا ہے۔ میلان کنڈیرا کی زبان بھی اس ناول میں شاعری بن گئی ہے۔ اس ناول پر "Great Poetry of Novel”کا عنوان چسپاں کیا جا سکتا ہے۔ Identity محبت کی کہانی ہے۔ میلان کنڈیرا نے پہلی بار ایک خالصتاً داستان محبت بیان کی ہے۔ Immortality کی طرح اس میں بھی ایک افسردہ سی لے موجود ہے۔ جیسے ایک اداس مگر بامعنی موسیقی (کنڈیرا کے یہاں موسیقی میں بھی معنی ہوتے ہیں) لگاتار فضا میں جاری ہو۔ Identity ہمیں ایک وارننگ دیتا ہے اور یہ علم بھی کہ محبت ہی وہ تنہا شے ہے جو ہمیں خارجی دنیا سے بچا سکتی ہے ناول کو اصلی محبت کے تئیں ایک خراج عقیدت بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

تینوں کے کتابوں کے سراوراق بہت ہی عمدہ اور دیدہ زیب ہیں ـ آپ تصاویر دیکھ کر اس کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں ـ اگر آپ بھی ان بیش قیمتی کتب کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اثبات پبلی کیشنز کے ڈائریکٹر اشعرنجمی سے وہاٹس ایپ نمبر 8169002417 پر رابطہ کر سکتے ہیں ـ