میگھالیہ: تشدد کا دور جاری ، گورنر ستیہ پال ملک کے قافلہ پر حملہ

شیلانگ :ملک کا پورا میڈیا افغانستان کی خبروں میں مصروف ہے ، لیکن اپنے ہی ملک ریاست میگھالیہ میں شدت پسندوں کی شرانگیزی کی خبریں سے لاعلم ہے ۔ تازہ اطلاع کے مطابق میگھالیہ میں تشدد بے قابو ہے ، ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے قافلے پر منگل کو کچھ شرارتی عناصر نے حملہ کردیا۔ بتایا گیا کہ ستیہ پال ملک گوہاٹی ہوائی اڈے سے واپس آرہے تھے۔ اس دوران کچھ لوگوں نے ان کے قافلے میں چلنے والی گاڑیوں پرسنگ بار ی کی،تاہم فی الحال کسی جانی نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔خیال رہے کہ میگھالیہ میں 18 اگست کی صبح 5 بجے تک کرفیو نافذ ہے، اس وقت کم از کم چار اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ یوم آزادی کے موقع پر کالعدم ہائی نیو ٹریپ نیشنل لبریشن کونسل کے خود ساختہ جنرل سکریٹری چیرسٹرتھانگ کھیو کے جنازے کے جلوس کے دوران اس کے حامیوں کی طرف سے توڑ پھوڑ اور تشدد کے بعد کیا گیا ہے۔تھانگ کھیو حالیہ ایک پولیس تصادم میں مارا گیا تھا، جس کی وجہ سے شیلانگ میں تشددپھوٹ پڑا۔دو دن پہلے نامعلوم شرپسندوں نے اتوار کی شب میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کے گھر پر پٹرول بم پھینکا تھا۔اس واقعہ میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔تاہم وزیراعلیٰ نے پولیس تصادم میں سابق عسکریت پسند کی ہلاکت کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے، انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں شیلانگ میں کئی مقامات پر آئی ای ڈی ملے ہیں۔ پولیس کچھ گرفتاریوں کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہی ہے ۔ اسی درمیان میگھالیہ حکومت نے منگل کو کہاتھا کہ توڑ پھوڑ کے بعد نافذ کرفیو کے دوران ریاستی دارالحکومت میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔پولیس نے ان لوگوں کے لیے ہیلپ لائن کا آغاز کردیا ہے ،جو وہاں سے جانا چاہتے ہیں۔